
بلوچستان میں ہلاک ہونے والے چار کشمیریوں کی میتیں اتوار کی شام کو سپرد خاک کرنے کے لیے ان کے آبائی علاقوں میں پہنچائی گئیں۔
جمعہ کے روز جن چھ افراد کو بلوچستان میں اغوا کر کے ہلاک کیا گیا تھا ان میں پاکستان کے زیر انتظام کشمیر سے تعلق رکھنے والے یہ چار افراد بھی تھے۔ ان ہلاکتوں کی ذمہ داری بلوچ لبریشن آرمی یعنی بی ایل اے نے قبول کی تھی۔
ہلاک ہونے والے ان چار کشمیریوں کا تعلق پاکستان کے زیر انتظام کشمیر کے علاقوں مظفرآباد، باغ اور راولاکوٹ سے ہے۔ عینی شاہدین کا کہنا ہے کہ ان افراد کی میتیں جب ان کے آبائی علاقوں میں پہنچیں تو وہاں بہت سارے لوگ لواحقین کے ساتھ تعزیت کے لیے پہنچ گئے۔ ان کا کہنا ہے کہ لوگوں میں ان ہلاکتوں کے خلاف شدید غم و غصہ پایا جاتا ہے۔
جمعہ کی شام کو ان چار کشمریوں سمیت چھ افراد کو اغوا کیا گیا تھا اور ہفتے کی صبح ان کی ان کی لاشیں کوئٹہ کے قریب مارگٹ کے علاقے سے ملیں تھیں اور ان کو گولیاں مار کر ہلاک گیا۔ان ہلاکتوں کی ذمہ داری بلوچ لبریشن آرمی یعنی بی ایل اے نے قبول کی تھی۔
یہ چاروں کشمیری بلوچستان میں کوئلہ نکالنے والی ایک کمپنی میں کئی برسوں سے کام کررہے تھے۔
ہلاک ہونے والے کشمیریوں کے عزیزوں کا کہنا ہے کہ ’ان کو گولیاں مارنے سے پہلے تشدد بھی کیا گیا اور ان کے جسم پر تشدد کے واضع نشان تھے‘۔
ان کا کہنا ہے کہ ’یہ افراد بے گناہ تھے اور وہاں محنت مزدوری کر کے اپنے بیوی بچوں کا پیٹ پال رہے تھے اور اب ان کے بچے یتیم اور بے سہارا ہوگئے ہیں‘۔ ان کا کہنا ہے کہ ’ان کے عزیزوں کو مار کر زیادتی اور ظلم کیا گیا‘۔
ہلاک ہونے والے ایک کشمیری کے بھائی عبدالطیف کا کہنا ہے کہ ان افراد کی ہلاکتیں بظاہر تین بلوچ قوم پرست رہنماؤں کے قتل کے خلاف رد عمل ہے۔
ان بلوچ رہنماؤں کو بدھ کے روز نامعلوم افراد نے اغوا کر کے ہلاک کیا گیا تھا جس کے بعد سے بلوچستان پر تشدد احتجاج کی لپیٹ میں ہے۔
بلوچ قوم پرست تنظیمیں ان رہنماؤں کے ہلاکتوں کا الزام پاکستان کی خفیہ ایجنسیوں پر عائد کرتی ہیں۔
اگرچہ بلوچستان میں پنجاب سے تعلق رکھنے والے لوگوں پر وقتاً فوقتاً حملے کیے جاتے رہے ہیں لیکن کچھ عرصے سے وہاں مقیم کشمیریوں کو بھی نشانہ بنایا جانے لگا ہے۔
جمعہ کے واقعہ سے دو ماہ قبل بھی بلوچستان کے علاقے مستونگ میں ایک بیکری پر کام کرنے والے کشمیریوں کو ہلاک کیا گیا تھا۔
© MMIX