
بلوچ رہنماؤں کو تین اپریل کو ان کے دفتر سے اٹھایا گیا تھا
اقوام متحدہ کے اعلی اہلکار جان سلیکی کی بازیابی کے لیے بنائی جانے والی بلوچ قوم دوست کمیٹی نے مطالبہ کیا ہے کہ اقوام متحدہ بلوچ رہنماؤں کے قتل کی تحقیقات خود کرے اور ملوث افراد کو سزا دے کیونکہ انہیں پاکستان کی تحقیقات پر اعتماد نہیں ہے۔
بلوچ قوم دوست کمیٹی کے ترجمان نجیب بلوچ نے بتایا ہے کہ غلام محمد بلوچ اس دس رکنی کمیٹی کے رکن تھے جسے نوابزادہ حیر بیار مری نے اقوام متحدہ کے اہلکار جان سلیکی کی بازیابی کے لیے تشکیل دیا تھا۔
انھوں نے کہا کہ اقوام متحدہ اور امریکہ نے پاکستان حکومت سے کہا ہے کہ تین بلوچ رہنماؤں کے قتل کی تحقیقات کرے لیکن اس پر ان کی کمیٹی کو اعتماد نہیں ہے۔ نجیب بلوچ کے مطابق یہ بات واضح ہے کہ اس قتل میں خفیہ ایجنسیاں ملوث ہیں اور پاکستان حکومت ایجنسی کے اہلکاروں کو کبھی سزا نہیں دے گی۔
بلوچ قوم دوست کمیٹی کے ترجمان نے کہا ہے کہ اقوام متحدہ خود اس واقعہ کی تحقیقات کرے اور ملزمان کو سزا دے۔
جان سلیکی کو دو فروری کو کوئٹہ سے اغوا کیا گیا تھا جس کی ذمہ داری ایک نئی تنظیم بلوچ لبریشن یونائٹڈ فرنٹ کے ترجمان نے قبول کی تھی اور اس کے بعد پانچ اپریل کو انھیں بازیاب کر دیا گیا تھا۔ جان سلیکی کی بازیابی میں نواب خیر بخش مری ان کے صاحبزادے حیر بیار مری اور بلوچ قوم دوست کمیٹی کے اراکین نے اہم کردار ادا کیا تھا۔ بلوچ قوم دوست کمیٹی نے اس سلسلے میں لاپتہ بلوچ افراد کی بازیابی کے لیے حکومت کی جانب سے قائم تین رکنی کمیٹی سے چھ ملاقاتیں کی تھیں۔
نجیب بلوچ نے بتایا ہے کہ غلام محمد بلوچ شیر محمد بلوچ اور لالہ منیر کی ہلاکت کے بعد نوابزادہ حیر بیار مری نے بھی اقوام متحدہ کے حکام سے رابطہ کیا ہے اور اس واقعہ کے فورا بعد کوئٹہ میں اقوام متحدہ کے ادارہ برائے پناہ گزین کے حکام سے رابطہ کرکے انھیں ساری صورتحال سے آگاہ کر دیا تھا۔
تینوں بلوچ رہنماؤں کو تین اپریل کو تربت میں ان کے وکیل کچکول علی ایڈووکیٹ کے دفتر سے اٹھایا گیا تھا جس کے کوئی چھ روز بعد ان تینوں رہنماؤں کی لاشیں تربت کے قریب سے مسخ شدہ حالت میں ملی تھیں۔ اس واقعہ کے بعد اقوام متحدہ اور امریکہ نے اس واقعہ کی مذمت کی تھی۔ یہ پہلا موقع ہے کہ اقوام متحدہ نے بلوچستان کے کسی معاملے پر اپنا بیان جاری کرکے اس واقعہ کی مذمت کی ہے۔
© MMIX