
’امن معاہدہ برقرار ہے صرف کیمپ ختم ہوا ہے‘
داخلہ امور کے بارے میں وزیراعظم کے مشیر رحمان ملک نے کہا ہے کہ سوات میں قیامِ امن کو یقینی بنانے کے لیے شدت پسندوں کو ہتھیار پھینکنے ہوں گے۔
سینیچر کو اسلام آباد میں ایک پریس کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے انہوں نے کہا کہ سوات میں طالبان کی چیک پوسٹیں اب بھی قائم ہیں اور طالبان نے امن معاہدے کی پاسداری نہیں کی ہے۔ تاہم ان کا کہنا تھا کہ ابھی تک امن معاہدہ برقرار ہے اور صرف وہاں پر قائم امن کیمپ ختم ہوا ہے۔
واضح رہے کہ مشیر داخلہ نے جمعہ کو پارلیمنٹ ہاؤس کے باہر میڈیا کے نمائندوں سے گفتگو کرتے ہوئے کہا تھا کہ صدر آصف علی زردرای سوات میں شرعی نظام عدل پر دستخط اُس وقت کریں گے جب سوات میں امن کے عمل کو یقینی بنایا جائےگا۔
برطانیہ میں گرفتار ہونے والے پاکستانیوں کے بارے میں انہوں نے کہا کہ پاکستان نے یہ معاملہ برطانوی حکام کے ساتھ اُٹھایا ہے تاہم ابھی تک برطانیہ نے اس ضمن میں اُن افراد کے بارے میں پاکستانی حکام کو معلومات فراہم نہیں کیں۔ انہوں نے کہا کہ اگر برطانیہ کے تحقیقاتی اداروں نے ان افراد سے تحقیقات کے لیے کوئی مدد مانگی تو پاکستان معاونت کرے گا۔ رحمان ملک کا کہنا تھا کہ انہوں نے وفاقی تحقیقاتی ادارے (ایف ائی اے ) سے کہا کہ وہ اس ضمن میں انٹرپول سے رابطہ کریں تاکہ یہ معلوم ہو سکے کہ گرفتار ہونے والے پاکستانی بھی ہیں یا نہیں۔
لاہور کے سٹی چیف پولیس آفیسر کی طرف سے مناواں میں پولیس کے تربیتی مرکز پر حملے اور لاہور میں ہی لبرٹی مارکیٹ کے قریب سری لنکا کی کرکٹ ٹیم پر حملے میں بھارت کے ملوث ہونے کا دعوی کرنے سے متعلق ایک سوال کےجواب میں رحمان ملک کا کہنا تھا کہ انہوں نے اس پولیس افسر سے وضاحت طلب کی ہے کہ کن شواہد کی روشنی میں انہوں نے ان واقعات میں بھارت کا نام لیا ہے۔ انہوں نے کہا کہ ان دونوں واقعات کی تحقیقات ابھی جاری ہیں۔ رحمان ملک نے کہا کہ دہشت گرد پاکستان اور بھارت کے مشترکہ دشمن ہیں اور دونوں ملکوں کو ملکر اُن کے خلاف لڑنا ہوگا۔
انہوں نے کہا کہ پاکستان نے بھارتی وزیر اعظم منموہن سنگھ کے بیان کو سنجیدگی سے لیا ہے جس میں انہوں کہا تھا کہ بھارت میں ہونے والے عام انتخابات کے موقع پر طالبان کی طرف سے حملوں کا خطرہ ہے۔ رحمان ملک کا کہنا تھا کہ اگر اس حوالے سے اُن کے پاس کوئی معلومات یا ثبوت ہیں تو وہ پاکستان کو فراہم کرے تاکہ اس حوالے سے مناسب اقدامات کیے جاسکیں۔
© MMIX