
بل کا مقصد خواتین کو جنسی ہراساں کیے جانے سے بچانا ہے
حکومت نے ملازمت پیشہ خواتین کو ہراساں کرنے کے خلاف بل جمعہ کو قومی اسمبلی کے اجلاس میں پیش کر دیا۔ اس بل کا مقصد کام کرنے والی خواتین کو جنسی طور پر ہراساں کرنے سے روکنا اور جہاں پر وہ ملازمت کرتی ہیں وہاں پر بہتر ماحول فراہم کرنا ہے تاکہ اُن کی کارکردگی کو بہتر بنایا جا سکے۔
بل میں کہا گیا ہے کہ ملازمت پیشہ خواتین یا کسی مرد کو سرکاری، غیر سرکاری یا کسی بھی خود مختار ادارے میں جنسی طور پر ہراساں کرنے والے مرتکب افراد کے خلاف کارروائی کی جائے گی جس میں نوکری سے برطرفی، جبری رخصت کے علاوہ پروموشن بھی روک دی جائے گی۔
اس بل کو ہراساں کرنے کے خلاف تحفظ کا بل قرار دیا گیا ہے اور یہ بل پورے ملک میں نافذ العمل ہوگا۔
پارلیمانی امور کے وفاقی وزیر بابر اعوان کا کہنا ہے کہ اس بل کو متعارف کروانے کے بعد خواتین کا دیرینہ مطالبہ پورا ہوگیا ہے۔
انہوں نے کہا کہ اس بل کا مقصد خواتین اور مردوں کو روزگار کے یکساں مواقع فراہم کرنا ہے تاکہ وہ بلا خوف و خطر اور بغیر کسی امتیاز کے اپنی روزی کما سکیں۔
اگر کسی ادارے کا سربراہ یا ملازم اپنے کسی ماتحت یا دوسرے ساتھی کو زبانی یا تحریری طور پر ہراساں کرے یا جمسانی طور پر جنسی ہراساں کرے جس سے ہراساں کیے جانے والے کا کام متاثر ہو یا اُس کے انکار پر کسی ادارے کا سربراہ یا ملازم اُسے دھمکیاں دے تو ہراساں کرنے والے شخص کے خلاف کارروائی کی جائے گی۔
ہراساں کرنے کے خلاف تحفظ کا بل
انہوں نے کہا کہ اس کے علاوہ اور اہم قوانین بھی پارلیمنٹ میں لائے جائیں گے جس کا مقصد ملک میں جمہوریت کی بنیادوں کو مضبوط کرنا ہے۔
ملک میں بڑی تعداد میں کام کرنے والی خواتین اور مردوں کو جنسی طور پر ہراساں کرنے کے واقعات رونما ہوتے رہتے ہیں جس کی وجہ سے بہت سے مرد اور خواتین ملازمت چھوڑ دیتے ہیں اور اُن کے خاندان کو شدید مالی مشکلات کا سامنا کرنا پڑتا ہے۔
بل میں کہا گیا ہے کہ اگر کسی ادارے کا سربراہ یا ملازم اپنے کسی ماتحت یا دوسرے ساتھی کو زبانی یا تحریری طور پر ہراساں کرے یا جمسانی طور پر جنسی ہراساں کرے جس سے ہراساں کیے جانے والے کا کام متاثر ہو یا اُس کے انکار پر کسی ادارے کا سربراہ یا ملازم اُسے دھمکیاں دے تو ہراساں کرنے والے شخص کے خلاف کارروائی کی جائے گی۔
بل میں مزید کہا گیا ہے کہ جنسی تشدد یا دھمکیوں کا نشانہ بننے والا مرد یا عورت دھمکیاں دینے والوں کے خلاف درخواست دے سکتے ہیں۔ ایسی درخواستوں کی سماعت کے لیے اداروں میں ایک تین رکنی تحقیقاتی کمیٹی تشکیل دی جائے گی جس کی ایک رکن خاتون ہوگی اس کیمٹی کا سربراہ ان تینوں میں سے ہی منتخب کیا جائے گا۔
بل میں کہا گیا ہے کہ یہ تحقیقاتی کمیٹی ملزم کو طلب کر کے اُس کے خلاف لگائے جانے والے الزامات کے بارے میں اُسے بتائے گی اور اُس پر چارج شیٹ لگانے کے سات دن تک اگر ملزم ان کا جواب نہ دے تو پھر اُس کے خلاف یکطرفہ کارروائی کی جائے۔
بل میں کہا گیا ہے کہ اگر کوئی ملازم جنسی طور پر ہراساں کرنے پر ذہنی دباؤ کا شکار ہے تواُس کے علاج کے تمام اخراجات وہ ادارہ برداشت کرے گا جس میں وہ ملازم ہے۔
بل میں کہا گیا ہے کہ ان درخواستوں کی سماعت کے دوران ملزم اور درخواست گذار کو یہ حق حاصل ہے کہ وہ متفقہ نمائندہ بھی پیش کرسکتے ہیں جو اس معاملے کو نمٹانے کے لیے دونوں کے درمیان پل کا کردار ادا کرسکتا ہے۔
اگر دونوں پارٹیوں میں کسی ایک کو بھی تحقیقاتی کمیٹی میں شامل کسی بھی رکن پر اعتراض ہو تو وہ رکن اس کمیٹی سے علیحدہ ہو جائے گا اور اُس کی جگہ نیا رکن اس کمیٹی میں شامل کیا جائے گا۔
اس بل میں کہا گیا ہے کہ کمیٹی ان درخواستوں پر ہونے والی سماعت پر فیصلہ 30 دنوں میں دے گی جس میں جُرم ثابت ہونے پر مجرم کے خلاف معمولی یا بڑی سزا بھی تجویز کرسکتی ہے اور اُس ادارے پر لازم ہے کہ وہ اس سزا پر عملدرامد کروائے۔
© MMX