
سیاسی جدوجہد تین دہائیوں کے اختتام پر ان کی موت پر منطقی انجام کو پہنچ گئی
یہ چودہ اگست دو ہزار آٹھ کا دن تھا۔ بلوچستان کے ضلع تربت میں غلام محمد بلوچ اپنے ساتھیوں کے ہمراہ پریس کانفرنس کررہے تھے کہ اس وقت انہیں گرفتار کرنے کے لیے سکیورٹی فورسز کے چند اہلکار پہنچ گئے۔اہلکار ابھی ان کی جانب بڑھ ہی رہے تھے کہ وہاں موجود بلوچ خواتین نے کھڑے ہوکر کلاشنکوف کی نالیاں اپنے سینے کی طرف کر کے کہا کہ ’پہلے ہمیں ماردو پھر غلام محمد کو گرفتار کر لو‘۔
اس کے بعد واپس جاتے ہوئے غلام محمد بلوچ نے اپنے ساتھی بلوچ رائٹس کونسل کے چیئرمین وہاب بلوچ کو مخاطب کرکے کہا کہ ’واجہ ،یہ میری سیاسی زندگی کا انوکھا اور سب سے زیادہ متاثر کرنے والا منظر تھا‘۔
بلوچستان کے ضلع تربت میں قتل کیے جانے والے بلوچ نیشنل موومنٹ کے سربراہ غلام محمد بلوچ اور ان کے تین ساتھیوں کی ہلاکت پر بلوچستان کے بلوچ علاقوں میں جو ردعمل سامنے آیا ہے وہ اس لحاظ سے زیادہ اہمیت کا حامل ہے کہ اس سے قبل نواب اکبر خان بگٹی اور بالاچ مری کی ہلاکت پر جو ردعمل ہوا تھا ان میں ان کی قبائلی قد و قامت کا بھی بڑا عمل دخل تھا۔
مگر تقریباً سینتالیس سالہ غلام محمد ایران اور پاکستان کی سرحد پر واقع مند کے ایک متوسط درجے کے زمیندار تھے اور ان کا قبائلی پس منظر ایسا بھی نہیں تھا کہ ان کی ہلاکت پر بلوچستان جیسے قبائی معاشرے میں اس قسم کا شدید ردعمل سامنے آ جائے۔
انیس سو اسی کی دہائی میں تربت کالج میں بلوچ سٹوڈنٹس آرگنائزیشن کے پلیٹ فارم سے انہوں نے جس سیاسی جدوجہد کا آغاز کیا وہ تقریباً تین دہائیوں کے اختتام پر ان کی موت پر ہی اپنے منطقی انجام کو پہنچ گئی۔
وہ بی ایس او کے انیس سو نوے میں چیئرمین رہے۔ جب انیس سو اٹھاسی سے بلوچستان یوتھ نیشنل موومنٹ کا قیام عمل میں لایا گیا تو اس میں بھی وہ پیش پیش تھے۔ لیکن جب بی وائی این ایم نے جنرل ضیاءالحق کی ہلاکت کے بعد انیس سو اٹھاسی میں ہونے والے انتخابات میں حصہ لینے کا فیصلہ کرکے بلوچوں کے حقوق کو پارلیمانی سیاست کے ذریعے حاصل کرنے کا فیصلہ کیا تو یہاں سے غلام محمد بلوچ کے بلوچ قیادت کے ساتھ نظریاتی اختلافات کا سلسلہ شروع ہوگیا۔
غلام محمد بلوچ بعد میں ڈاکٹر حئی بلوچ کی سربراہی میں قائم ہونے والی پارٹی بلوچستان نیشل موومنٹ میں سرگرم تو رہے مگر پارٹی کے اندر وہ دیگر ساتھیوں کو ملاکر پارلیمانی سیاست کو خیر باد کہنے کی لابنگ کرتے رہے۔ جب وہ ناکام ہوئے تو انہوں نے دو ہزار دو میں بی این ایم کا اپنا دھڑا قائم کرلیا اور یوں بلوچستان کی آزادی کی سیاست عملاً شروع کردی۔
ان کا مؤقف تھا کہ بلوچوں کی آزادی پاکستان کی پارلیمنٹ میں حاصل نہیں کی جاسکتی بلکہ وہاں تو حلف لے کر پاکستان کی وفاداری پر کاربند رہنا ہوگا۔
غلام محمد بلوچ بعد میں ڈاکٹر حئی بلوچ کی سربراہی میں قائم ہونے والی پارٹی بلوچستان نیشل موومنٹ میں سرگرم تو رہے مگر پارٹی کے اندر وہ دیگر ساتھیوں کو ملاکر پارلیمانی سیاست کو خیر باد کہنے کی لابنگ کرتے رہے۔ جب وہ ناکام ہوئے تو انہوں نے دو ہزار دو میں بی این ایم کا اپنا دھڑا قائم کرلیا اور یوں بلوچستان کی آزادی کی سیاست عملاً شروع کردی۔
اس دوران بلوچستان میں فوجی آپریشن شروع ہوگیا اور تین ستمبر دو ہزار چھ کو انہیں کراچی سے خفیہ ایجنسیوں نے مبینہ طور پر اٹھا لیا اور بلوچوں کے مسلسل احتجاج کے بعد انہیں تین ستمبر دو ہزار سات کو سبی میں منظر عام پر لایا گیا۔
ان پر چار مقدمات قائم کیے گئے جن میں تربت، بلیدہ اور دیگر علاقوں میں ہونے والے دھماکوں میں مبینہ طور پر ملوث کیا گیا۔ ان میں سے تین مقدمات بعد میں ختم ہوگئے اور تین اپریل کو چوتھے کی پیشی کے بعد وہ تربیت میں اپنے وکیل کچکول علی ایڈووکیٹ کےساتھ ان کے دفتر میں بیٹھے ہوئے تھے کہ انہیں اپنے دو اور ساتھیوں کے ہمراہ چند افراد نے اٹھا لیا اور چند دن بعد ان کی لاشیں مل گئیں۔
وہاب بلوچ کے مطابق انہیں خفیہ ایجنسیوں نے تحویل میں رکھنے کے دوران بہت ٹارچر کیا تھا۔ ان کے بقول غلام محمد بلوچ نے بتایا کہ ان کے پاؤں پر بھاری بھرکم چیز رکھ دی جاتی جس سے جسم میں آگ جیسی تپش محسوس ہوتی تھی۔ ’الٹا لٹکا کر مارا جاتا تھا، دیوار کے ساتھ ہاتھ کھڑا کر کے ٹھہرایا جاتا تھا، آنکھوں پر کئی دنوں تک پٹیاں بندھی رہتی تھیں اور کئی دنوں تک سونے نہیں دیا جاتا تھا۔‘
غلام محمد بلوچ نے پہلی مرتبہ مکران کے بلوچوں میں جن کے متعلق بلوچوں کا خیال ہے کہ وہ انتہائی نرم خو ہیں اور ان میں مسلح جدوجہد کا جذبہ اور صلاحیت موجود نہیں ہے بلوچستان کی آزادی کا جذبہ پیدا کردیا۔
بلوچ دانشور
جیل سے باہر آنے کے بعد جب بلوچوں میں عسکریت پسندی کے جذبات بڑھ چکے تھے تو اس وقت غلام محمد بلوچ کا ایک ہیرو کے طور پر استقبال کیا گیا اور یوں انہوں نے بلوچ علاقوں میں سیاسی سرگرمیاں تیز کردیں۔
اس دوران انہوں نے ان بلوچ پارٹیوں اور سول سوسائٹی کی تنظیموں کو بلوچ نینشل فرنٹ کے نام سے ایک پلیٹ فارم پر منظم کیا جو بلوچستان کی آزادی چاہتی تھیں۔اس اتحاد میں نواب بگٹی کے پوتے کی جماعت بلوچ ریپبلکن آرمی، بلوچ خواتین پینل، بلوچستان رائٹس کمیشن اور بلوچ وکلاء موومنٹ شامل تھے۔ وہ اتحاد کے پہلے آرگنائزر منتخب کیے گئے۔
ان کے بارے میں بلوچ دانشوروں کا کہنا ہے کہ انہوں نے پہلی مرتبہ مکران کے بلوچوں میں جن کے متعلق بلوچوں کا خیال ہے کہ وہ انتہائی نرم خو ہیں اور ان میں مسلح جدوجہد کا جذبہ اور صلاحیت موجود نہیں، بلوچستان کی آزادی کا جذبہ پیدا کردیا۔
ان کے خیال میں اس سے قبل بلوچ قومی تحریک میں قبائلی علاقوں کے بلوچ سرداروں اور نوابوں نے لڑائیاں لڑ لڑ کر بلوچ تاریخ میں آزادی کے ہیرو کے طور پر نام لکھوایا ہے مگر اب مکران کے بلوچوں میں خصوصاً نوجوانوں نے مسلح مزاحمت تیز کردی ہے۔ اس کے لیے غلام محمد بلوچ نے علاقے میں جا کر خوب کام کیا تھا۔
© MMX