صوبہ سرحد کے ضلع بونیر میں سوات کے طالبان نے شہر کی جانب مزید پیش قدمی کی ہے جبکہ اس دوران مقامی عمائدین کا ایک بڑا جرگہ مولانا فضل اللہ سے بات چیت کے لیے سوات روانہ ہوگیا ہے۔
مقامی لوگوں کا کہنا ہے کہ طالبان جو ضلع بونیر اور سوات کو ملانے والے پہاڑی سلسلے پر قابض تھے اب گزشتہ شب پیش قدمی کرتے ہوئے پہاڑ کے دامن میں واقع گاؤں بھٹئی ، کلا بٹ اور سلطان وس کے مضافات میں داخل ہو چکے ہیں۔
ان کا کہنا ہے کہ مقامی لشکر کے رضاکار بھی اپنے اپنےگاؤں میں پہرہ دے رہے ہیں جبکہ فریقین کے درمیان جنگ بندی ابھی بھی برقرار ہے۔ مقامی لوگوں کے مطابق مذکورہ علاقوں سے خواتین اور بچے پہلے ہی بڑی تعداد میں نقل مکانی کر چکے ہیں۔
ادھر سوات کے طالبان کو واپس بھیجنے کے حوالے سے گزشتہ تین دنوں سے جاری مذاکرات میں پیشرفت نہ ہونے کے بعد بونیر کے عمائدن کا ایک بڑا جرگہ سوات روانہ ہوگیا ہے۔ جرگے کی سربراہی ضلع شانگلہ کے کابل گرامہ سے آئے ہوئے کالعدم نفاذ شریعت محمدی کے مقامی رہنماء مولانا ولی اللہ کررہے ہیں۔
طالبان ترجمان مسلم خان نے بی بی سی کو بتایا کہ بونیر کا جرگہ سوات پہنچ کر تحریکِ طالبان کے سربراہ مولانا فضل اللہ سے ملاقات کریں گے اور بقول ان کے فریقین کے درمیان حتمی بات چیت ہوگی۔
بونیر کے مقامی لشکر اور سوات کے طالبان کے درمیان اس وقت جھڑپ ہوئی تھی جب گزشتہ پیر کو درجنوں طالبان نے ضلع بونیر میں داخل ہونے کی کوشش کی تھی۔ اس دوران جھڑپوں میں تین پولیس اہلکار اور تین رضا کار ہلاک ہوگئے تھے۔ جھڑپ میں طالبان کے بھی پندرہ ساتھی زخمی ہوئے تھے جبکہ طالبان کے ترجمان مسلم خان کا کہنا ہے کہ ان کے صرف دو ساتھی زخمی ہوئے ہیں۔ مقامی لوگوں کا کہنا ہے کہ سوات کے طالبان کا مؤقف ہے کہ وہ بونیر میں قاضی عدالتوں کے قیام کے لیے آئے ہیں جبکہ مسلم خان کا دعویٰ ہے کہ طالبان وہاں اپنے ساتھیوں سے ملنے جا رہے تھے۔
یاد رہے کہ بونیر کے عوام اور سوات کے طالبان کے درمیان پہلے سے ہی اختلافات چلے آرہے ہیں اور فریقین کے درمیان کئی مسلح جھڑپیں ہوئی ہیں۔ پچھلےسال بونیر میں قومی اسمبلی کے ضمنی انتخابات کے موقع پر طالبان نےشل بانڈئی میں پولنگ سٹیشن پر مبینہ خودکش حملہ کیا جس میں چالیس سے زائد افراد ہلاک ہوئے تھے۔
سوات میں امن معاہدے کے بعد یہ پہلی مرتبہ ہے کہ سوات کے طالبان مسلح صورت میں کسی دوسرے ضلع میں داخل ہوئے ہیں۔مبصرین کا کہنا ہےکہ اس سے بعض حلقوں کے یہ خدشات تقریباً درست ثابت ہورہے ہیں کہ امن معاہدے کے بعد طالبان دوبارہ منظم ہوکر دیگر علاقوں میں پھیل سکتے ہیں۔
© MMIX