Advertisement
آخری وقت اشاعت:  Thursday, 9 April, 2009, 06:34 GMT 11:34 PST

بلوچ رہنماؤں کی ہلاکت، پرتشدد احتجاج

تین راہنماؤں کی لاشوں کی تصدیق ہو گئی ہے

بلوچ قوم پرست رہنماؤں غلام محمد بلوچ، شیر محمد بگٹی اور لالہ منیر کی ہلاکت کے بعد بلوچستان کے مختلف علاقوں میں حالات کشیدہ ہو گئے ہیں اور کوئٹہ سمیت صوبے کے مختلف حصوں میں مظاہرے اور احتجاج کیا گیا ہے۔

غلام محمد بلوچ اور شیر محمد بگٹی کی نماز جنازہ تربت کے قریب مند شہر میں جمعرات کو ادا کی گئی۔ مکران بار ایسوسی ایشن نے اس واقعے پر تین روزہ سوگ کا اعلان کیا ہے جبکہ وزیراعلی بلوچستان نواب اسلم رئیسانی نے ان ہلاکتوں کی عدالتی تحقیقات کا حکم دے دیا ہے۔

کوئٹہ میں جمعرات کو سریاب روڈ پر اقوام متحدہ سے وابستہ غیر سرکاری تنظیم اور ایک پولیس گاڑی سمیت پانچ گاڑیوں کو آگ لگائی گئی۔ جبکہ مختلف مقامات پر بینکوں اور عمارتوں پر پتھراو اور توڑ پھوڑ کی گئی ہے۔ پولیس نے مظاہرین کو منتشر کرنے کے لیے آنسو گیس کا استعمال کیا۔ کوئٹہ سے راولپنڈی جانے والی جعفر ایکسپریس کو کوئٹہ کے قریب ہی روک لیا گیا۔ اسی طرح خضدار تربت گوادر اور دیگر علاقوں میں شٹر ڈااؤن ہڑتال ہے۔ خضدار میں گاڑیوں اور عمارتوں میں توڑ پھوڑ کی گی ہے جبکہ نوشکی مشکے اور دیگر علاقوں سے بھی تشدد کی اطلاعات موصول ہوئی ہیں۔

اب وقت آگیا ہے کہ تمام بلوچوں کو متحد ہو کر کارروائی کرنی چاہیے کیونکہ اس واقعہ کے بعد بلوچ قوم کے لیے ایک سوالیہ نشان کھڑا ہوگیا ہے کہ اب وہ اسلحہ نہ اٹھائیں تو کیا کریں

حاصل بزنجو

بلوچ رہنماؤں کی ہلاکت کے حوالے سے نیشنل پارٹی کے راہنما سینیٹر حاصل بزنجو نے کہا ہے کہ اس قتل کے ذمہ دار آئی ایس آئی اور ایم آئی کے سربراہ ہیں جبکہ براہمدغ بگٹی کا کہنا ہے کہ آزادی کے حصول کے لیے یہ ایک قدم ہے۔ کوئٹہ پریس کلب میں ایک اخباری کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے سینیٹر حاصل بزنجو نے کہا ہے کہ چھ روز پہلے خفیہ ایجنسیوں آئی ایس آئی اور ایم آئی کے اہلکار ان تین رہنماؤں کو کچکول علی ایڈووکیٹ کے دفتر سے اٹھا کر لے گئے تھے اور اسی دن ہی انہیں گولیاں مار کر ہلاک کر دیا تھا۔

انہوں نے کہا کہ قتل کے واقعہ کی ایف آئی آر آئی ایس آئی کے چیف جنرل شجاع پاشا اور ایم آئی کے سربراہ میجر جنرل آصف کے خلاف درج کرنی چاہیے۔ حاصل بزنجو نے کہا کہ ’اب وقت آگیا ہے کہ تمام بلوچوں کو متحد ہو کر کارروائی کرنی چاہیے کیونکہ اس واقعہ کے بعد بلوچ قوم کے لیے ایک سوالیہ نشان کھڑا ہوگیا ہے کہ اب وہ اسلحہ نہ اٹھائیں تو کیا کریں‘۔

اس دوران براہمدغ بگٹی کے ترجمان شیر محمد بگٹی نے نامعلوم مقام سے براہمدغ بگٹی کا بیان جاری کیا ہے جس میں کہا گیا ہے کہ تینوں رہنماوں کا قتل آزادی کے حصول کی طرف ایک قدم ہے ۔ انہوں نے کہا کہ ان تینوں رہنماؤں کے قتل سے یہ ثابت ہو گیا ہے کہ خفیہ ایجنسیاں بلوچوں کے ساتھ کیا رویہ اختیار کیے ہوئے ہیں۔ یاد رہے کہ بلوچ نیشنل پارٹی کے سربراہ غلام محمد بلوچ، لالہ منیر اور بلوچ ریپبلکن پارٹی کے رہنما شیر محمد بگٹی کی لاشیں گزشتہ رات تربت کے قریب مسخ شدہ حالت میں ملی تھیں۔ تربت کے پولیس افسر ایاز بلوچ کا کہنا ہے کہ اب تک یہ واضح نہیں ہے کہ ان رہنماؤں کو کس نے قتل کیا ہے تاہم یہ لاشیں قریباً چھ روز پرانی ہیں۔

بی بی سی کو جانیں

اس صفحہ کو بہتیرن طور پر دیکھنے کے لیے ایک نئے، اپ ٹو ڈیٹ براؤزر کا استعمال کیجیے جس میں سی ایس ایس یعنی سٹائل شیٹس کی سہولت موجود ہو۔ ویسے تو آپ اس صحفہ کو اپنے پرانے براؤزر میں بھی دیکھ سکتے ہیں مگر آپ گرافِکس کا پورا لطف نہیں اٹھا پائیں گے۔ اگر ممکن ہو تو، برائے مہربانی اپنے براؤزر کو اپ گریڈ کرنے یا سی ایس ایس استعمال کرنے کے بارے میں غور کریں۔