
خیبر ایجنسی سے افغانستان میں نیٹو افواج کو سپلائی جاتی ہے
پاکستان کے قبائلی علاقے خیبر میں ایک چیک پوسٹ سے نامعلوم مسُلح افراد نے خاصہ دار فورس کےگیارہ اہلکاروں کو اغواء کر لیا ہے جبکہ برقمبر کے علاقے سے مقامی شدت پسند گروہ کے چھ ارکان کے اغواء کی بھی اطلاعات ہیں۔
پولیٹکل انتظامیہ نے جرگے کے ذریعے اغواء کتے جانے والے خاصہ داران کی تلاش شروع کر دی ہے لیکن تاحال ان کا پتہ نہیں چلایا جا سکا ہے۔
خیبر ایجنسی سے ملنے والی اطلاعات کے مطابق سب ڈویژن باڑہ سے تقریباً تیس کلومیٹر مغرب کی جانب شین قمر کے علاقے میں ایک چیک سے نامعلوم مُسلح افراد نے خاصہ دار فورس کے گیارہ اہلکاروں کو اغواء کر کے نامعلوم مقام پر منتقل کردیا ہے۔ پولیٹکل انتظامیہ کے ایک اہلکار کے مطابق اغواء ہونے والوں میں خاصہ دار فورس کے صوبیدار محمد علی بھی شامل ہیں۔
اہلکار کا کہنا تھا کہ علاقے کے ایک تحصیلدار نے مقامی قبائلی کے ایک جرگے کے ساتھ رابطہ کیا ہے جس کے بعد جرگے نے علاقے میں تلاشی شروع کر دی ہے لیکن ابھی تک کسی قسم کی کامیابی حاصل نہیں ہوئی ہے۔انہوں نے کہا کہ تحصیلدار علاقے کے لوگوں سے بھی مسلسل رابطے میں ہیں۔لیکن ابھی تک فورس وہاں نہیں بھیجی گئی ہے۔
یاد رہے کہ دو دن پہلے خیبر ایجنسی کی تحصیل جمرود میں ایک مسجد میں خودکش دھماکہ ہوا تھا جس کے نتیجہ میں پچپن افراد ہلاک جبکہ ایک سو پچھہتر زخمی ہوگئے تھے۔دھماکے میں مسجد بھی مکمل طورپر تباہ ہوگی تھی۔ خیبر ایجنسی وہ واحد قبائلی علاقہ ہے جہاں سے افغانستان میں موجود نیٹو اور امریکہ کے لیے رسد لے جانے والے قافلے گزرتے ہیں۔ان قافلوں پر گزشتہ چھ مہینوں سے مقامی طالبان کی جانب سے حملوں میں تیزی آئی ہے۔ایک ہفتہ پہلے تحریک طالبان پاکستان نے دھمکی دی تھی کہ پشاور؛ طورخم شاہراہ پر تعینات خاصہ دار فورس کے اہلکار اپنے چیک پوسٹوں کو خالی کردیں ورنہ ان پر حملے کیے جائیں گے۔
ادھرنامعلوم افراد نے برقمبر میں مقامی سدت پسند تنظیم امر بالمعروف کے چھ کارکنوں کو اغواء کر لیا ہے۔ ایک مقامی صحافی محبوب نے بی بی سی کو بتایا ہے کہ امر بالمعروف کے کارکن ان کی ایک چیک پوسٹ سے اغواء ہوئے ہیں۔ مقامی لوگوں کے مطابق تحریک طالبان پاکستان امر بالمعروف سے خوش نہیں ہے۔شبہ ظاہر کیا جارہا ہے کہ اس اغواء میں طالبان ملوث ہوسکتے ہیں۔ خیال رہے کہ امر بالمعروف ایک مذہبی تنظیم ہے جو برقمبر میں خاصی سرگرم ہے۔ اس تنظیم نے برقمبر کے علاقے فقیر ڈانڈ میں تنظیم امر بالمعروف نے کافی عرصہ پہلے ایک چیک پوسٹ قائم کی تھی۔
BBC © 2012 بی بی سی دیگر سائٹوں پر شائع شدہ مواد کی ذمہ دار نہیں ہے
اس صفحہ کو بہتیرن طور پر دیکھنے کے لیے ایک نئے، اپ ٹو ڈیٹ براؤزر کا استعمال کیجیے جس میں سی ایس ایس یعنی سٹائل شیٹس کی سہولت موجود ہو۔ ویسے تو آپ اس صحفہ کو اپنے پرانے براؤزر میں بھی دیکھ سکتے ہیں مگر آپ گرافِکس کا پورا لطف نہیں اٹھا پائیں گے۔ اگر ممکن ہو تو، برائے مہربانی اپنے براؤزر کو اپ گریڈ کرنے یا سی ایس ایس استعمال کرنے کے بارے میں غور کریں۔