آخری وقت اشاعت: Wednesday, 25 March, 2009, 23:27 GMT 04:27 PST

سوات: زمرد کی کانوں پر طالبان کا قبضہ

زمرد کی کانیں ایک بڑے رقبے پر پھیلی ہوئی ہیں

صوبہ سرحد کے ضلع سوات میں مقامی طالبان نے تقریباً دو ماہ قبل بین الااقوامی معیار کے قیمتی پتھر زمرد کی کانوں پر کنٹرول حاصل کرکے وہاں کھدائی کا کام تیز کردیا ہے اور کانوں سے حاصل ہونی والی آمدنی کا ایک حصہ طالبان جبکہ دو حصے مزدوروں میں تقسیم کئے جا رہے ہیں۔

صدر مقام مینگورہ شہر کے پر فضا اور مشہور علاقے فیضا گٹ میں ایک پہاڑی مقام پر چھ کلومیٹر کے فاصلے پر پھیلی ہوئی زمرد کی ان کانوں میں روزانہ سینکڑوں مزدور کام کررہے ہیں جنہیں مقامی طالبان نے بھرتی کیا ہوا ہے۔

سوات میں زمرد کے ذخائر سابق والی سوات کے زمانے میں سن انیسں سو باسٹھ میں دریافت ہوئے تھے۔ یہ ذخائر فضا گٹ کے علاوہ سوات کے ایک اور علاقے شموزئی اور ضلع شانگلہ میں بھی پائے جاتے ہیں۔ تاہم اس وقت صرف فضا گٹ اور شموزئی کی کانوں میں کھدائی ہورہی ہے جبکہ شانگلہ میں کام بند پڑا ہوا ہے۔

فضاگٹ میں یہ کانیں مرکزی سڑک کے بالکل قریب واقع ہیں۔ بی بی سی کی ایک ٹیم جب اس پہاڑی علاقے میں پہنچی تو وہاں مزدور پہاڑ کی چوٹی سے لیکر نیچے تک مختلف مقامات پر کام کرتے ہوئے دکھائی دیئے ۔ یہ کان کن روایتی طریقوں اور بجلی سے چلنے والی مشنری کی مدد سے پہاڑ چیر کر قیمتی پتھر نکال رہے تھے۔

سوات میں گزشتہ چودہ ماہ کی لڑائی کے بعد مقامی طالبان نے سوات کے تقریباً ستر فیصد علاقے پر کنٹرول حاصل کرلیا ہے۔ گزشتہ ماہ ہونے والے امن معاہدے کے بعد سوات میں اگرچہ لڑائی تو روک گئی ہے لیکن زیادہ تر علاقوں پر بدستور طالبان کا قبضہ برقرار ہے۔

مبصرین

ان چھوٹی چھوٹی کانوں کے نگران ایک سینئیر طالبان کمانڈر ہیں جو ہر وقت وہاں موجود رہتےہیں۔ اس کے علاوہ وہاں کچھ مسلح طالبان کان کی نگرانی پر بھی مامور تھے۔

طالبان کمانڈر نے بتایا کہ تقریباً دو ماہ قبل جب انہوں نے اس علاقے کا کنٹرول سنبھالا تو یہاں کام بند پڑا ہوا تھا۔تاہم انہوں نے آتے ہی یہاں دوبارہ کام شروع کیا اور کان کے دروازے عام مزدوروں کےلیے کھول دیئے۔
انہوں نے کہا کہ ان کانوں میں والی سوات کے دور سے کام ہورہا تھا اور ہر سال حکومت یہی بہانہ بناتی رہی کہ کان خسارے میں جارہی ہے جس سے عام لوگوں کو کوئی فائدہ نہیں پہنچ رہا تھا بلکہ تمام رقم افسران اور بڑے لوگوں کی جیبوں میں جارہی تھی۔

کمانڈر کا کہنا تھا کہ جب سے طالبان نے یہاں کا کنٹرول سنبھالا ہے تو کان کے دروازے عام مزدوروں کےلیے کھول دیئے گئے ہیں اور ان سے حاصل ہونے والی آمدنی کا ایک حصہ طالبان کے ’بیت المال‘ کو مل رہا ہے جبکہ دو حصے کان کنوں میں تقسیم کئے جارہے ہیں۔ تاہم طالبان کمانڈر نے یہ نہیں بتایا کہ روزانہ انہیں کتنا منافع مل رہا ہے اور نہ ہی کانوں اور مزدروں کی تصویریں بنانے کی اجازت دی گئی۔

زمرد کی کانوں میں کام کرنے والے مزدوروں کو طالبان کی طرف سے ایک کارڈ بھی جاری کیا جاتا ہے جس میں پشتو زبان میں قواعد و ضوابط درج ہوتے ہیں۔ مزدوروں کو پابند بنایا گیا ہے کہ وہ نماز کے وقت کام نہیں کرینگے اور کان میں آتے اور جاتے ہوئے تلاشی دینی ہوتی ہے جبکہ چوری پر سخت سزا مقرر کی گئی ہے۔

یہ کان کن تین سے چار افراد کے گروپ پر مشتمل ہوتے ہیں جو مل کر کام کرتے ہیں اور قیمتی پتھر نکلنے کی صورت میں کمائی برابر تقسیم کی جاتی ہے۔

ایک مزدور نے بتایا کہ چند ہفتے قبل انہوں نے تین دوساتھیوں کے ہمراہ ایک کان میں کام شروع کیا ہے۔ انہوں نے کہا کہ ہفتے میں ایک آدھا پتھر مل جاتا ہے جس سے دہاڑی نکل آتی ہے اور گزارہ ہوجاتا ہے۔ انہوں نے کہا کہ ہفتہ میں ہر مزدور دو سے تین ہزار روپے کماتا ہے اور اگر اچھا پتھر ہاتھ لگ جاتا ہے تو پیسے زیادہ مل جاتے ہیں۔

زمرد سبز رنگ کا ایک چھوٹا سا قیمتی پتھر ہوتا ہے جو عام طورپر زیورات میں استعمال ہوتا ہے۔

قیمتی پتھروں کے ماہرین کے مطابق زیادہ تر زمرد کے پتھر ایک سے پانچ کیریٹ پر مشمتل ہوتے ہیں جس کی قمیت پچاس ہزار روپے سے لیکر لاکھوں میں ہوتی ہے۔ تاہم قیمت کا دارمدار پتھر کی کٹائی اور کوالٹی پر ہوتا ہے۔

حکومت کی طرف سے تاحال ان کانوں پر طالبان کا قبضہ ختم کرانے کےلیے کوئی کارروائی نہیں کی گئی ہے بلکہ انتظامیہ کی طرف سے اس سلسلے میں خاموشی سے کام لیا جارہا ہے۔ مینگورہ میں قیمتی پتھروں کے ایک ماہر نے بتایا کہ آجکل ان کانوں کا تمام مال بلیک میں فروخت ہورہا ہے جس میں ان کے مطابق بعض حکومتی اہلکار بھی ملوث ہیں۔

تاہم اس سلسلے میں حکومت کا موقف معلوم کرنے کےلیے مالاکنڈ ڈویژن کے کمشنر سے بار بار رابطے کی کوشش کی گئی لیکن کامیابی نہیں ہوسکی۔

سوات میں گزشتہ چودہ ماہ کی لڑائی کے بعد مقامی طالبان نے سوات کے تقریباً ستر فیصد علاقے پر کنٹرول حاصل کرلیا ہے۔ گزشتہ ماہ ہونے والے امن معاہدے کے بعد سوات میں اگرچہ لڑائی تو روک گئی ہے لیکن زیادہ تر علاقوں پر بدستور طالبان کا قبضہ برقرار ہے۔ مصبرین کا خیال ہے کہ بظاہر ایسا محسوس ہوتا ہے کہ جیسے سوات کو ایک سوچے سمجھے منصوبے کے تحت طالبان کے حوالے کیا گیا ہو۔

bbc.co.uk navigation

BBC © 2012 بی بی سی دیگر سائٹوں پر شائع شدہ مواد کی ذمہ دار نہیں ہے

اس صفحہ کو بہتیرن طور پر دیکھنے کے لیے ایک نئے، اپ ٹو ڈیٹ براؤزر کا استعمال کیجیے جس میں سی ایس ایس یعنی سٹائل شیٹس کی سہولت موجود ہو۔ ویسے تو آپ اس صحفہ کو اپنے پرانے براؤزر میں بھی دیکھ سکتے ہیں مگر آپ گرافِکس کا پورا لطف نہیں اٹھا پائیں گے۔ اگر ممکن ہو تو، برائے مہربانی اپنے براؤزر کو اپ گریڈ کرنے یا سی ایس ایس استعمال کرنے کے بارے میں غور کریں۔