Advertisement
آخری وقت اشاعت: Sunday, 22 March, 2009, 11:32 GMT 16:32 PST

نئے چیف جسٹس کی آزمائشیں

افتخار چودھری

تمام تر بوجھ چیف جسٹس پر نہیں ڈالنا چاہیے بلکہ پارلیمان کو بھی اپنا کردار ادا کرنا ہوگا

جسٹس افتخار محمد چودھری پاکستانی عدلیہ کی تاریخ میں واحد چیف جسٹس ہیں جن کو دو مرتبہ عہدے سے ہٹایا گیا لیکن وہ دونوں مرتبہ اس منصب پر بحال ہوگئے۔

اگرچہ جسٹس افتخار محمد چودھری کی بحالی از خود ایک بڑا چیلنج تھا لیکن شاید وہ معاملات جن کا چیف جسٹس افتخار محمد چودھری کو آنے والے دنوں میں سامنا کرنا پڑے گا ان کی بحالی سے بڑا چیلنج ثابت ہونگے۔

جسٹس افتخار محمد چودھری کو سب سے پہلے جس معاملے سے نمٹنا ہوگا وہ ان ججوں کے مستقبل کا فیصلہ ہے جو تین نومبر یا اس کے بعد اعلیٰ عدالتوں کے جج مقرر ہوئے۔ ان تمام ججوں کی تقرری ایک ایسے چیف جسٹس کی مشاورت سے عمل میں لائی گئی ہے جن کے بارے میں پی سی او کے تحت حلف نہ اٹھانے والے ججوں اور وکلا رہنماؤں کو اعتزاض رہا ہے۔

جس وقت سات نومبر سنہ دو ہزار سات کو ملک میں ایمرجنسی لگائی جارہی تھی عین اسی وقت اس وقت کے چیف جسٹس افتخار محمد چودھری کی سربراہی میں ایک فل بنچ نے مختصر عدالتی فیصلے کے ذریعے ملک بھر کی اعلیْ عدلیہ کے ججوں کو پی سی او کے تحت حلف نہ لینے کے لیے کہا تھا اور ججوں کی بحالی کی تحریک کے دوران اسی عدالتی فیصلے کا خاصا چرچا رہا۔

چیف جسٹس افتخار محمد چودھری کو جن چیلنجوں کا سامنا کرنا پڑے گا ان میں ان ججوں کی تقرری ہے جو بقول ان کے سیاسی بنیادوں اور میرٹ کے برعکس ہوئی ہے اور جسٹس افتخار محمد چودھری کو ان تقرریوں کا جائزہ لے کر فیصلہ کرنا ہوگا

حامد خان

وکیل رہنما حامد خان کا کہنا ہے کہ چیف جسٹس افتخار محمد چودھری کو جن چیلنجوں کا سامنا کرنا پڑے گا ان میں ان ججوں کی تقرری ہے جو بقول ان کے سیاسی بنیادوں اور میرٹ کے برعکس ہوئی ہے اور جسٹس افتخار محمد چودھری کو ان تقرریوں کا جائزہ لے کر فیصلہ کرنا ہوگا۔

جانےمانے قانون دان اور سپریم کورٹ بار کے سابق صدر عابد منٹو کا کہنا ہے اب دیکھنا ہوگا کہ آیا جسٹس افتخار محمد چودھری کی سربراہی میں فل بنچ کا فیصلہ ابھی برقرار ہے یا نہیں اور اس فیصلے کے تحت کیا کارروائی عمل میں لائی جاتی ہے۔ تاہم ان کا کہنا ہے کہ اب تمام تر بوجھ چیف جسٹس پر نہیں ڈالنا چاہیے بلکہ پارلیمان کو بھی اپنا کردار ادا کرنا ہوگا۔

دوسری جانب بعض وکلا کی یہ رائے ہے کہ اگر فل بنچ کے فیصلے پر عمل درآمد کیا جاتا ہے تو اس سے حکومت اور عدلیہ کے درمیان کشیدگی پیدا ہوگی۔

ان ماہرین کا یہ بھی کہنا ہے کہ سپریم کورٹ کے سنہ انیس سو چھیانوے کے ججز کیس سے مدد لی جاسکتی ہے کیونکہ بینظر بھٹو کی حکومت نے جن ججوں کو لاہور ہائی کورٹ میں متعین کیا تھا ان ججوں میں لگ بھگ دس ججوں کوججز کیس کے فیصلے کی روشنی میں فارغ کیا گیا تھا۔

عابد منٹو کی رائے ہے کہ ججوں کو آئین کے آرٹیکل دو سو نو کے تحت ان کے عہدے سے ہٹایا جاسکتا ہے ۔اس آئینی شق کے تحت کسی بھی جج کے خلاف ریفرنس دائر کیا جاسکتا ہے اور اس ریفرنس پر سپریم جوڈیشل کونسل سماعت کرتی ہے۔

سپریم کورٹ کے سنہ انیس سو چھیانوے کے ججز کیس سے مدد لی جاسکتی ہے کیونکہ بینظر بھٹو کی حکومت نے جن ججوں کو لاہور ہائی کورٹ میں متعین کیا تھا ان ججوں میں لگ بھگ دس ججوں کوججز کیس کے فیصلے کی روشنی میں فارغ کیا گیا تھا

قانونی ماہرین

قانونی ماہرین کاخیال ہے ان ججوں کے خلاف کارروائی کرنا آسان ہوگا جن کو تین نومبر کے بعد مختلف ہائی کورٹس میں متعین کیا گیا ان ججوں میں بیشتر کو ابھی کے ان کے عہدوں پر مستقل نہیں کیا گیا اس لیے جسٹس افتخار محمد چودھری ان ججوں کو عہدوں سے ہٹانے کے لیے کوئی مشکل پیش نہیں آئے گی۔

چیف جسٹس افتخار محمد چودھری جو اپنی معزولی کے دوران تین نومبر کے اقدامات پر نکتہ چینی کرتے رہے ہیں اور ان کا موقف یہ رہا ہے کہ آئین میں ترمیم کرنے کا ایک طریقہ کار موجود ہیں اور اس طریقہ کار کے بغیر ہونے والی ترمیم کو آئینی ترمیم تصور نہیں کیا جاسکتا ہے۔ ان کا یہ بھی کہنا تھا کہ جنرل پرویز مشرف کے تین نومبر کے اقدامات کی جب تک پارلیمنٹ توثیق نہیں کرتی ہے اس وقت تک ان اقدامات کو قانونی حیثیت حاصل نہیں ہوگی۔

سابق صدر جنرل پرویز مشرف کے تین نومبر کے اقدامات میں اسلام آباد ہائی کورٹ کے نام سے ایک اعلیْ عدالت قائم کرنا بھی شامل ہے جس میں متعین کیے گئے ججوں کو مستقبل کرنے کا فیصلہ بھی بحال ہونے والے چیف جسٹس کو کرنا ہے۔

قانونی ماہرین کا کہنا ہے کہ اگر جسٹس افتخار محمد چودھری ان ججوں کے مستقبل کرنے کے احکامات جاری کرتے ہیں تو اس طرح وہ اس عدالت کے موجود کو تسلیم کرلیں گے جو جنرل پرویز مشرف نے تین نومبر کو ایمرجنسی کے نفاذ کے بعد قائم کی تھی۔

جسٹس افتخار محمد چودھری کی معزولی سے قبل ان کو مختلف قومی، سماجی اور انسانی حقوق کے معاملات پر اپنے خصوصی اختیارات کے تحت نوٹس لے کر کارروائی کرنے سے بھی بہت شہرت ملی اور عام شہریوں کی یہ توقع ہے کہ جسٹس افتخار محمد چودھری بحالی کے بعدوہ مہنگائی اور لوڈشیڈنگ جیسے مسائل پر نوٹس لیں گے جن سے عام آدمی کو روزانہ سامنا کرنا پڑتا ہے ۔

لوگوں کی نگاہیں اپنے مسائل کے حل کے لیے اب پارلیمان کی بجائے عدالت کی طرف ہونگی لیکن عدالت کو بھی ایک دائرہ اختیار ہے جس سے تجاوز نہیں کیا جاسکتا

ایڈووکیٹ اسد اللہ خان

جسٹس افتخار محمد چودھری خود بھی اپنی معزولی کے دوران ہی جنوبی پنجاب میں وکلا کے اجتماع سے خطاب میں پیڑول کی قیمتوں پر تشویش ظاہر کی تھی اور کہا تھا کہ آئین شہریوں کے بنیادی حقوق کی تحفظ کی ضمانت دیتا ہے اور عدالت کو یہ پوچھنا چاہیے کہ شہریوں سے اتنا زیادہ منافع کیوں کمایا جارہا ہے۔ان کا کہناہے کہ عدلیہ شہریوں کے حقوق کی تحفظ کرتی ہے۔

اب سوال یہ ہے کہ کیا جسٹس افتخار محمد چودھری اپنی بحالی کے بعد از خود نوٹس لیتے ہوئے کارروائی کریں گے یا نہیں؟ جسٹس افتخار محمد چودھری کے نوٹس لینے سے ممکن ہے کہ عام آدمی کی تو داد رسی ہو لیکن حکومت کے لیے اس قسم کے اقدامات دشواری ضرور پیدا ہوسکتی ہے۔

وکلا تحریک میں سرگرم وکیل رانا اسد اللہ خان کا کہنا ہے کہ لوگوں کی نگاہیں اپنے مسائل کے حل کے لیے اب پارلیمان کی بجائے عدالت کی طرف ہونگی لیکن عدالت کو بھی ایک دائرہ اختیار ہے جس سے تجاوز نہیں کیا جاسکتا۔

ایک سوال جو سب سے زیادہ عوام کے ذہنوں میں گردش کررہا ہے کہ کیا جسٹس افتخار محمد چودھری قومی مفاہمتی آرڈیننس یعنی این آر او پر نوٹس لیں ۔

وکیل رہنما اعتزاز احسن اپنی پریس کانفرنس میں اس توقع کا اظہار کرچکے ہیں کہ اگر این آر او کے خلاف کیس کی سماعت ہوتی ہے تو جسٹس افتخار چودھری خود یہ کیس نہیں سنیں گے کیونکہ بقول ان کے ماضی میں بھی جسٹس افتخار چودھری نے بیس جولائی کو اپنی بحالی کے بعد جنرل پرویز مشرف کے خلاف مقدمے کی سماعت نہیں کی تھی ۔

چیف جسٹس پاکستان کا کام انصاف کی فراہمی کے علاوہ قانون اور آئین کے مطابق عمل درآمد کرنا ہے اور اس پر کوئی سمجھوتہ نہیں کیا جاسکتا چاہے اس کے لیے کوئی قیمت ادا کرنی پڑے

حامد خان

این آر او پر سماعت کے معاملے پر وکیل حامد خان کا کہنا ہے کہ چیف جسٹس نے خود یہ فیصلہ کرنا ہے کہ ان کو کیا کرنا ہے ؟ چیف جسٹس کو ان کے معاملات نمٹانے میں رائے دینا غیر مناسب ہے۔

ماہرین قانون کا کہنا ہے کہ وکیل رہنما کی این آر او کے بارے میں توقع اپنی جگہ تاہم اگر این آر او کے خلاف کوئی درخواست دائر کی جاتی ہے تو اس پر بنچ کی تشکیل تو جسٹس افتخار محمد چودھری کو ہی کرنی ہوگی۔

این آر او کے علاوہ ایک اہم مسئلہ لاپتہ افراد کا معاملہ ہے جس پر چیف جسٹس افتخار محمد چودھری اپنی معزولی سے پہلے سماعت کر رہے تھے اور ان لاپتہ افراد کے خاندان کے افراد یہ امید رہی ہے جسٹس افتخار محمد چودھری کی بحالی کے بعد دوبارہ لاپتہ افراد کے کیس کی سماعت ہوگی۔

آنے والے دنوں میں یہ بات بڑی اہمیت کی حامل ہوگی کہ بحال ہونے والے چیف جسٹس اور حکومت کے درمیان تعلقات کی نوعیت کیا ہوتی ہے۔

سینئرقانون دان عابد منٹو کا کہنا ہے کہ عدالت جو فیصلہ کرتی ہے اس پر عمل درآمد حکومت کے ذریعے ہوتا ہے جبکہ اعتزاز احسن نے اپنی پریس کانفرنس میں اس امید کا اظہار کیا کہ حکومت جسٹس افتخار محمد چودھری کے ساتھ تعاون کرے گی کیونکہ یہ حکومتی مشینری کی ذمہ داری ہے۔

پاکستان بارکونسل کے رکن حامد خان کا کہنا ہے کہ چیف جسٹس پاکستان کا کام انصاف کی فراہمی کے علاوہ قانون اور آئین کے مطابق عمل درآمد کرنا ہے اور اس پر کوئی سمجھوتہ نہیں کیا جاسکتا چاہے اس کے لیے کوئی قیمت ادا کرنی پڑے۔

بی بی سی کو جانیں

اس صفحہ کو بہتیرن طور پر دیکھنے کے لیے ایک نئے، اپ ٹو ڈیٹ براؤزر کا استعمال کیجیے جس میں سی ایس ایس یعنی سٹائل شیٹس کی سہولت موجود ہو۔ ویسے تو آپ اس صحفہ کو اپنے پرانے براؤزر میں بھی دیکھ سکتے ہیں مگر آپ گرافِکس کا پورا لطف نہیں اٹھا پائیں گے۔ اگر ممکن ہو تو، برائے مہربانی اپنے براؤزر کو اپ گریڈ کرنے یا سی ایس ایس استعمال کرنے کے بارے میں غور کریں۔