Advertisement
آخری وقت اشاعت: Saturday, 21 March, 2009, 12:01 GMT 17:01 PST

کنیڈین صحافی کی رہائی کی اپیل

کنیڈین صحافی

خدیجہ کے بارے میں کہا جاتا ہے کہ وہ فری لانس صحافی ہیں

پشاور میں صحافیوں نے اغواء کاروں سے اپیل کی ہے کہ وہ غیر ملکی صحافی خاتون کو انسانی ہمدردی کی بنیاد پر رہا کر دیں۔صحافیوں کا کہنا ہے کہ خدیجہ عبدالقہار نہ صرف صحافی ہیں بلکہ وہ ایک باپردہ مسلمان خاتون ہیں۔

خدیجہ عبدالقہار کو شمالی وزیرستان میں چند ماہ قبل اغواء کیا گیا تھا۔ کچھ روز پہلے ہی اغواء کاروں نے ایک ویڈیو ٹیپ جاری کی تھی جس میں دھمکی دی گئی تھی کہ اگر ان کے مطالبات تسلیم نہ کیے گئے تو وہ کنیڈین خاتون کو قتل کردیں گے۔

پشاور پریس کلب میں خیبر یونین آف جرنسلٹس پشاور پریس کلب اور ٹرائبل یونین آف جرنلسٹس کے ایک مشترکہ اجلاس میں کہا گیا ہے کہ خدیجہ عبدالقہار بیمار اور ضیف العمر خاتون ہیں اور وہ مقامی قبائلی روایت سے بھی بے خبر ہیں ۔ان کی گرفتاری سے کسی گروپ یا فرد کو کوئی فائدہ نہیں پہنچےگا۔بلکہ اس قسم کے اقدامات سے مذہبی،سماجی اور قومی تشخص کو نقصان پہنچےگا۔

کینیڈین خاتون کو گزشتہ سال گیارہ نومبر کو شمالی وزیرستان سے متصل صوبہ سرحد کے نیم قبائلی علاقے جانی خیل سے انہیں تین ساتھیوں کےہمرہ اغواء کیا گیا تھا۔ خدیجہ عبدالقہار دہشتگردی کے خلاف جنگ پر کوئی رپورٹ بنانے کے سلسلے میں پاکستان آئی تھیں۔

خدیجہ کے بارے میں کہا جاتا ہے کہ وہ ایک’فری لانس‘ صحافی ہیں اور وہ ’جہاد انسپن‘ کے نام سے اپنی ایک ویب سائٹ بھی چلا رہی تھیں۔ اس ویب سائٹ پر خدیجہ عبدالقہار نے اپنے بارے میں لکھا ہے کہ انہوں نے گیارہ ستمبر کے حملے کے بعد امریکہ کی جانب سے دہشتگردی کے خلاف شروع کی جانے والی جنگ کے دوران اسلام کا باریک بینی کے ساتھ مطالعہ شروع کردیا۔

ان کا کہنا ہے کہ مطالعہ کے بعد انہوں نے بارہ اپریل دو ہزار دو کو عیسائی مذہب چھوڑ کر اسلام قبول کر لیا۔ ویب سائٹ پر انہوں نے جواپنی دو تصاویر شائع کی ہیں ان میں سے ایک میں انہوں نے’اسلامی طریقے‘ سے اپنا سر کالی چادر سے ڈھانپا ہوا ہے۔

یاد رہے کہ اس سے قبل تحریک طالبان درہ آدم خیل نے بھی مغوی پولش انجینئر کو اپنے ساتھیوں کی رہائی کے مطالبات تسلیم نہ ہونے کے بعدقتل کردیا تھا تاہم انکی لاش ابھی تک ورثاء کے حوالے نہیں کی گئی ہے۔

بی بی سی کو جانیں

اس صفحہ کو بہتیرن طور پر دیکھنے کے لیے ایک نئے، اپ ٹو ڈیٹ براؤزر کا استعمال کیجیے جس میں سی ایس ایس یعنی سٹائل شیٹس کی سہولت موجود ہو۔ ویسے تو آپ اس صحفہ کو اپنے پرانے براؤزر میں بھی دیکھ سکتے ہیں مگر آپ گرافِکس کا پورا لطف نہیں اٹھا پائیں گے۔ اگر ممکن ہو تو، برائے مہربانی اپنے براؤزر کو اپ گریڈ کرنے یا سی ایس ایس استعمال کرنے کے بارے میں غور کریں۔