
جسٹس عبدالحمید ڈوگر کی ریٹائرمنٹ کے موقع پر ریفرنس ہوا کرتا ہے جس میں جج صاحبان شریک ہوا کرتے تاہم یہ واضح نہیں کہ آیا چیف جسٹس افتخار چوہدری ریفرنس کی اس تقریب میں شریک ہوں گے یا نہیں
پاکستان کے معزول چیف جسٹس افتخار محمد چوہدری کی بحالی کا اعلان ہوگیا ہے اور حکم بھی جاری ہوگیا لیکن حالات کچھ ایسے پیدا ہوگئے ہیں کہ ان کی بحالی میں مزید دو روز کی تاخیر ہوگئی ہے۔چیف جسٹس کے عہدے پر افتخار محمد چوہدری کی بحالی بائیس مارچ کو ہونی ہے لیکن اس تاریخ کو اتوار کی وجہ سے عام تعطیل ہے لہذا تیکنیکی طور پر وہ بحال تو ہوجائیں گے لیکن عہدہ نہیں سنبھال سکتے۔
پیر تئیس مارچ کو یوم پاکستان کی وجہ سے ملک بھر میں عام تعطیل ہے جس کی وجہ سے پیر کو بھی وہ دفتر نہیں جا پائیں گے۔
چیف جسٹس کے عہدہ سنبھالنے میں اس تاخیر پر بعض وکیلوں کو سپریم کورٹ کے موجودہ چیف جسٹس عبدالحمید ڈوگر پر اس لیے ’غصہ‘ ہے کہ ان کی ریٹائرمنٹ ایک ایسی تاریخ کو ہو رہی ہے کہ بقول ان وکلاء کے ’ان کے جاتے جاتے بھی افتخار محمد چوہدری تنگ ہو رہے ہیں‘۔
عبدالحمید ڈوگر نے جمعہ کو بطور چیف جسٹس آخری دن کام کیا اور اکیس مارچ سنیچر کو وہ ریٹائر ہو رہے ہیں اور سپریم کورٹ کی روایت کے مطابق ان کے اعزاز میں ریٹائرمینٹ والے دن فل کورٹ ریفرنس منعقد کیے جانے کی خبریں ہیں۔
ماضی کی روایات کے مطابق تو ایسے مواقع پر جانے والے چیف جسٹس کے جا نشین تقریب میں موجود ہوا کرتے ہیں لیکن افتخار محمد چوہدری نے اس تقریب میں شرکت کے بارے میں تادمِ تحریر فیصلہ نہیں کیا۔
گو چیف جسٹس کی بحالی میں دو روزہ تاخیر کی ذمہ داری حکومت پر عائد نہیں ہوتی اور وکلاء رہنماؤں نے بھی حکومت پر براہ راست کوئی الزام نہیں لگایا البتہ ایسے میں چوہدری اعتزاز احسن نے خدشہ ظاہر کیا ہے کہ انہیں چیف جسٹس کی بحالی میں کچھ درپردہ سازشوں کی سر سراہٹ محسوس ہو رہی ہے۔
انہوں نے سابق اٹارنی جنرل جسٹس (ر) محمد قیوم ملک پر الزام بھی عائد کیا ہے لیکن ملک قیوم نے اس کی سختی سے تردید کی ہے۔
اعتزاز احسن نے اعلان کیا ہے کہ وہ بائیس مارچ کو چھٹی کے باوجود چیف جسٹس افتخار محمد چوہدری کے گھر پر پاکستان کا پرچم لہرائیں گے۔
پرچم لہرانے کے لیے خصوصی طور پر ناہید خان اور ان کے شوہر سینیٹر صفدر عباسی کو مدعو کیا گیا ہے جو پیپلز پارٹی کی مقتول رہنماء بینظیر بھٹو کی نمائندگی کرتے ہوئے شرکت کریں گے۔
© MMIX