
بحالی کے فیصلے کا تفصیلی جائزہ لیں گے: اطہر من اللہ
چیف جسٹس افتخار چودھری کے ترجمان اطہر من اللہ نے حکومت کو خبردار کرتے ہوئے کہا ہے کہ کہ اگر کسی آئینی پیکج کے ذریعے چیف جسٹس کے عہدے کی میعاد کم کرنے کی کوشش کی گئی تو اس سے جمہوریت کو نقصان پہنچے گا۔
چیف جسٹس افتخار چودھری کی بحالی کے اعلان کے بعد ان کی رہائش گاہ کے باہر میڈیا سے بات کرتے ہوئے اطہر من اللہ نے کہا کہ معزول ججوں کو بحال کرنے کے اعلان کے بعد جمہوری طاقتوں ، صدر زرداری ، وزیراعظم اور پارلیمان پر ایک بہت بڑا بوجھ پڑ گیا ہے کیونکہ موجودہ حکومت کے پہلے ایک سال کے دوران متعدد بار معزول ججوں کو بحال کرنے کے وعدے وفا نہیں ہوئے جس کی وجہ سے اعتماد کا فقدان پیدا ہو گیا ہے ۔
انہوں نے کہا کہ کچھ عرصہ قبل وزیر قانون فارق ایچ نائیک معزول ججوں کی بحالی کے حوالے سے ایک آئینی پیکج پارلیمان میں پیش کر چکے ہیں تاہم اب کسی آئینی پیکج کے ذریعے چیف جسٹس افتخار چودھری کے عہدے کی میعاد کو کم کرنے کے لیے دوبارہ کوئی راستہ نکالنے کی کوشش کی گئی تو اس سے جمہوریت کو نقصان پہنچے گا۔
چیف جسٹس کے ترجمان اطہر من اللہ نے کہا کہ وکلاء پارلیمان سے توقع کرتے ہیں کہ وہ آزاد عدلیہ اور جمہوریت کے برخلاف کوئی ایسا قدم نہیں اٹھائےگی کہ جس کے نتیجے میں نو مارچ دو ہزار سات جیسے نتائج سامنے آئیں جب صدر جنرل پرویز مشرف نے چیف جسٹس افتخار چودھری کو مستعفی ہونے پر مجبور کیا تھا۔
وکلاء پارلیمان سے توقع کرتے ہیں کہ وہ آزاد عدلیہ اور جمہوریت کے بر خلاف کوئی ایسا قدم نہیں اٹھائیں گئے جس کی نتیجے میں نو مارچ دو ہزار سات جیسے نتائج سامنے آئیں جب صدر جنرل پرویز مشرف نے چیف جسٹس افتخار چودھری کو مستعفی ہونے پر مجبور کیا تھا۔
اطہر من اللہ
انہوں نے کہا کہ پارلیمان کو وکلاء کا اعتماد حاصل کرنے کے لیے یہ ثابت کرنا ہوگا کہ معزول ججوں کی بحالی نیک نیتی اور آئین کی بالادستی کے لیے کی گئی ہے جبکہ یہ بوجھ بھی پارلیمان پر ہے کہ معزول ججوں کی بحالی میں کسی قسم کا کوئی فریب نہیں ہے ۔
اطہر من اللہ کے مطابق وکلاء قیادت وزیراعظم کی جانب سے معزول ججوں کو بحال کرنے کے اعلان کا تفصیلی جائزہ لینے کے بعد کوئی حتمی فیصلہ کرے گی۔
وکیل رہنما جسٹس ریٹائرڈ طارق محمود نے بی بی سی بات کرتے ہوئے کہا کہ معزول ججوں کی بحالی کو عوام نے تسلیم کر لیا ہے اور اب وکلاء قیادت کو عوام کا خیال بھی رکھنا پڑے گا۔انہوں نے کہا کہ جب بھی کوئی پیچیدہ مسئلہ حل کیا جاتا ہے تو اس میں کچھ نہ کچھ ایڈجسمنٹ کرنا پڑتی ہے تاہم حتمی بات اس وقت سامنے آئی گی جب حکومت کی جانب سے معزول ججوں کو بحال کرنے کا باقاعدہ نوٹیفیکشن آئے گا اور جج دوبارہ سے عدالتوں میں کام شروع کر دیں گے۔
اس سے پہلے معزول چیف جسٹس افتخار محمد چودھری نے وزیراعظم سید یوسف رضا گیلانی کی تقریر اپنے گھر میں مقامی وکلاء کی ایک مختصر تعداد کی ساتھ بیٹھ کر دیکھی۔ معزول چیف جسٹس افتخار محمد چودھری نے اپنی بحالی کے اعلان کے بعد وکلاء کو ان کی تحریک کی کامیابی پر مبارکباد دی اور ان کا شکریہ ادا کیا۔بحالی کے اعلان کے بعد چیف جسٹس کے گھر کے باہر موجود وکلاء سول سوسائٹی کے اراکین اور حزب مخالف کی سیاسی جماعتوں کے کارکنوں نے چیف جسٹس کے حق میں شدید نعرے بازی کرتے ہوئے اپنی خوشی کا اظہار کیا۔