آخری وقت اشاعت: Monday, 2 March, 2009, 16:20 GMT 21:20 PST

’ذاتی انا کی بنیاد پر فیصلے نہ کریں‘

الطاف حسین

’ججوں کو جعلی اور غدار کہنا توہین ہے‘

متحدہ قومی موومنٹ کے قائد الطاف حسین نے کہا ہے کہ نواز شریف کو چاہیے کہ وہ اپنے خلاف ہونے والے عدالتی فیصلے کے بارے میں آئین و قانون کا سہارا لیں اور ذاتی انا اور پسند و ناپسند کی بنیاد پر فیصلے نہ کریں۔
لندن سے جمعہ کو جاری ہونے والے ایک بیان میں الطاف حسین نے کہا ہے کہ 'اگر صوبہ پنجاب کی نمائندگی کے دعوے دار باقی صوبوں کے عوام کی امنگوں کو بالائے طاق رکھ کر فیصلے کریں گے یا اس کی تبلیغ کریں گے تو یہ ملک کی سلامتی کے لیے ہرگز ہرگز بہتر نہیں ہوگا۔‘

الطاف حسین کا کہنا ہے کہ سپریم کورٹ کا فیصلہ آصف علی زرداری کا نہیں بلکہ عدالت عظمٰی کا فیصلہ ہے لہذا صدر آصف زرداری کو اسکا مؤرد الزام ٹھہرانا درست نہیں۔

بیان کے مطابق 'نااہلی کے عدالتی فیصلے کے بعد نواز شریف صاحب نے صدر آصف علی زرداری اور عدلیہ کے بارے میں جو زبان استعمال کی ہے اس پر مجھے انتہائی افسوس ہے۔ صدر مملکت سے کتنا ہی اختلاف کیوں نہ ہو لیکن ان کے خلاف نازیبا اور غیرمہذب الفاظ استعمال کرنا کسی اصول کے تحت بھی مناسب نہیں ہے‘۔

انہوں نے کہا کہ نواز شریف صاحب سپریم کورٹ کے فیصلے کے خلاف نظر ثانی کی اپیل کے لیے عدالت سے رجوع کرسکتے ہیں لیکن اس فیصلے کی بنیاد پر صدر مملکت کو تنقید کا نشانہ بنانا درست نہیں۔

الطاف حسین نے کہا کہ نواز شریف نے گزشتہ روز اپنے خطاب میں پولیس، بیوروکریسی اور دیگر سرکاری اداروں کو سول نافرمانی کا جو درس دیا ہے وہ ملک کی سلامتی، یکجہتی، استحکام اور جمہوری اصولوں کے قطعی خلاف ہے۔

جب نواز شریف صاحب موجودہ سپریم کورٹ کو سرے سے مانتے ہی نہیں اور اسے جعلی عدلیہ قرار دیتے ہیں اور اس میں خود پیش بھی نہیں ہوتے تو پھر انہیں اپنے تجویز اور تائید کنندہ کے وکلاء کو بھی عدالت میں دلائل دینے سے منع کر دینا چاہیے تھا

الطاف حسین

انہوں نے کہا کہ 'میں جناب نواز شریف سے دردمندانہ اپیل کرتا ہوں کہ وہ ایسی زبان اور الفاظ استعمال نہ کریں جس سے سول نافرمانی کی بو آتی ہو۔ نواز شریف صاحب تصادم اور محاذ آرائی کی سیاست اور سول نافرمانی کی تحریک چلانے کی بجائے مسائل کے حل کے لئے قانونی اور آئینی راستہ اختیار کریں اور اپنے دور حکومت میں بہّتر بڑی مچھلیوں کی آڑ میں ایم کیو ایم کے خلاف فوجی آپریشن کرنے اور 1998ء میں سندھ میں گورنر راج نافذ کرنے کے اقدام پر بھی ذرا غور کریں‘۔

الطاف حسین نے کہا کہ نواز شریف کی جانب سے سپریم کورٹ کے ججوں کو نااہل، جعلی اور غدار کہنا عدلیہ کی کھلی توہین ہے۔ ان کے مطابق'جب نواز شریف صاحب موجودہ سپریم کورٹ کو سرے سے مانتے ہی نہیں اور اسے جعلی عدلیہ قرار دیتے ہیں اور اس میں خود پیش بھی نہیں ہوتے تو پھر انہیں اپنے تجویز اور تائید کنندہ کے وکلاء کو بھی عدالت میں دلائل دینے سے منع کردینا چاہیے تھا۔‘

یاد رہے کہ شریف برادران کو نااہل قرار دینے کا فیصلہ آنے کے فوری بعد ایم کیو ایم نے لندن میں رابطہ کمیٹی کا ہنگامی اجلاس طلب کیا تھا جو دو روز تک جاری رہا تھا۔ اجلاس کے بعد جاری کردہ بیان میں رابطہ کمیٹی نے کہا تھا کہ 'سپریم کورٹ کا فیصلہ بظاہر غیر مقبول ہوسکتا ہے لیکن یہ فیصلہ حقائق اور شہادتوں پر مبنی ہے‘۔

bbc.co.uk navigation

BBC © 2012 بی بی سی دیگر سائٹوں پر شائع شدہ مواد کی ذمہ دار نہیں ہے

اس صفحہ کو بہتیرن طور پر دیکھنے کے لیے ایک نئے، اپ ٹو ڈیٹ براؤزر کا استعمال کیجیے جس میں سی ایس ایس یعنی سٹائل شیٹس کی سہولت موجود ہو۔ ویسے تو آپ اس صحفہ کو اپنے پرانے براؤزر میں بھی دیکھ سکتے ہیں مگر آپ گرافِکس کا پورا لطف نہیں اٹھا پائیں گے۔ اگر ممکن ہو تو، برائے مہربانی اپنے براؤزر کو اپ گریڈ کرنے یا سی ایس ایس استعمال کرنے کے بارے میں غور کریں۔