|
| ||||||||||||||||||||||||||||||||||
خواب جو اچانک ٹوٹ گیا
چوبیس سالہ نبیل صدیقی کے والدین چاہتے تھے کہ ان کا بیٹا اعلیٰ تعلیم حاصل کرے۔ اسی لیے انیس سو ستانوے میں نبیل کی والدہ انہیں لے کر امریکہ آئیں اور نیو جرسی انسٹی ٹیوٹ آف ٹیکنالوجی (این۔جے۔آئی۔ٹی) میں داخلہ دلوایا۔ نبیل صدیقی کے ماموں عرفان احمد کے مطابق ’حسنہ باجی جب تک یہاں رہیں روزانہ خود نبیل کو لے کر یونیورسٹی جاتی تھیں۔ وہ قدرے خفّت بھی محسوس کرتا اور کہتا کہ امّی میں چلا جاؤں گا مگر وہ نہیں مانتی تھیں۔ اتنا شوق تھا انہیں نبیل کو پڑھانے کا‘۔ ان کا یہ خواب اس وقت ٹوٹ گیا جب تین نوجوان لڑکوں نے گاڑی چرانے کے لیے بیس بال کے بلّے سے نبیل پر حملہ کر دیا۔ ستائیس ستمبر ہفتے کی رات سولہ برس کے دو اور ایک سترہ برس کے لڑکے نے نیوآرک کے قریب اورنج سٹی میں پیٹزا پہنچانے کا آرڈر دیا۔ جب نبیل اپنی گاڑی میں ڈلیوری لے کر پہنچے تو ان لڑکوں نے گاڑی چھیننے کی کوشش میں نبیل کو بیس بال کے بلے سے مارا جس سے ان کے سر پر شدید چوٹ آئی۔ دس روز اسپتال میں کوما میں رہنے کے بعد چھ اکتوبر بروز پیر نبیل کا انتقال ہو گیا۔ کوما کے دوران نبیل کے دوستوں نے پیسے جمع کر کے نبیل کی والدہ کو امریکہ بلانے کا انتظام کیا تھا اور بدھ آٹھ اکتوبر کی رات ان کی والدہ اور ماموں عاصم خان، نبیل کا جنازہ لے کر واپس کراچی پہنچ چکے ہیں۔ نبیل نے اپنی ڈگری حال ہی میں مکمل کی تھی۔ مئی سن دو ہزار تین میں این۔جے۔آئی۔ٹی سے کمپیوٹر سائنس میں بی ایس سی مکمل کرنے کے بعد نبیل اب نوکری کی تلاش میں تھے اور اسی دوران انہوں نے گھر گھر پیٹزا پہنچانے کا کام شروع کیا تھا۔ امریکہ میں اکثر طالب علم اس طرح کی نوکریاں کر کے اپنا خرچہ چلاتے ہیں۔ نیوجرسی میں مقیم نبیل کے ماموں عرفان خان کا کہنا ہے کہ نبیل اس قدر فرض شناس تھے کہ کئی بار گاڑی میں خرابی کے باوجود وہ کرائے کی گاڑی لے کر کام پر پہنچے۔ اگر کسی نے کہا کہ ’اتنے تو تمہیں پیسے نہیں ملتے جتنے کی تم گاڑی کرائے پر لو گے‘ تو وہ جواب میں کہتے کہ بات پیسوں کی نہیں کمٹمنٹ کی ہے۔ یونیورسٹی کے دوست کہتے ہیں کہ امریکہ میں نوکری کے ساتھ موسیقی کا ایک بینڈ تشکیل دینا نبیل کا خواب تھا اور بینڈ کے لیڈ گیٹارسٹ وہ خود بننا چاہتے تھے۔ نبیل دوستوں کی محفل میں کبھی کبھی گیٹار بھی بجاتے اور چند ہی ہفتے قبل انہوں نے ایک نیا گیٹار خریدنے کا آرڈر بھی دیا تھا۔ ان کی والدہ کو اس بات کا پتہ چلا تو انہوں نے نبیل کے دوستوں عمیر رسول اور سلمان کو گیٹار خریدنے کے لیے بھیج دیا۔ عمیر کے مطابق نبیل موسیقی کے محض دلدادہ ہی نہیں تھے بلکہ وہ اس کی سوجھ بوجھ بھی رکھتے تھے۔ نبیل کے ایک اور دوست اور این۔جے۔آئی۔ٹی میں پاکستانی سٹوڈنٹس آرگنائزیشن کے صدر نعمان خان نے بتایا کہ وہ تنظیم کے کاموں میں خاصے فعال تھے۔ کھانے پینے کے بھی شوقین تھے۔ اس کے علاوہ نبیل ڈیزائنر کپڑوں، گھومنے پھرنے اور فلم بینی کا شوق بھی رکھتے تھے اور ان کے ایک دوست آغا منور عباس کے بقول، واقعہ سے چند روز پہلےہی ایک مقامی تفریح گاہ ڈارنی پارک گھومنے کا منصوبہ بنا رہے تھے۔ اس شوقین مزاجی کے باوجود نبیل آنر سٹوڈنٹ تھے اور ان کے تمام دوست متفقہ طور پر یہ سمجھتے ہیں کہ وہ اپنے کام میں مگن رہتے اور کسی تنگ کرنا پسند نہیں کرتے تھے۔ اس واقعہ سے تقریباً دو ماہ قبل چودہ جولائی کو واشنگٹن ڈی سی کے قریب دو پاکستانی طلباء، چھبیس سالہ سائر سعید بٹ اور تئیس سالہ حماد افضل چوہدری کو ان کے اپارٹمنٹ کے قریب لوٹنے کی ایک واردات میں گولی مار کر ہلاک کر دیا گیا تھا۔ نبیل صدیقی، سائر بٹ، حماد چوہدری اور اس طرح کے وہ سب نوجوان جو پاکستان سے اپنے خاندانوں کی امیدیں پوری کرنے کی خاطر پڑھنے لکھنے اور اچھی نوکری کی تلاش میں نکلتے ہیں، جب اس طرح کے غیر ضروری تشدد کا نشانہ بنتے ہیں تو اس میں صرف ان ہی کی جان ضائع نہیں ہوتی بلکہ وہ تمام خواب، خواہشیں اور امیدیں بھی ضائع ہو جاتی ہیں جو بہت دور بیٹھے ہوئے بہت سے لوگوں نے ان سے وابستہ کی ہوتی ہیں۔ |
| ||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||