BBCUrdu.com
  •    تکنيکي مدد
 
پاکستان
انڈیا
آس پاس
کھیل
نیٹ سائنس
فن فنکار
ویڈیو، تصاویر
آپ کی آواز
قلم اور کالم
منظرنامہ
ریڈیو
پروگرام
فریکوئنسی
ہمارے پارٹنر
ہندی
فارسی
پشتو
عربی
بنگالی
انگریزی ۔ جنوبی ایشیا
دیگر زبانیں
 
وقتِ اشاعت: Friday, 26 September, 2003, 12:23 GMT 16:23 PST
 
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئے پرِنٹ کریں
صادقین: یادگار نمائش
 

 
صادقین
گناہگارِ متقی کا ایک اور شاہکار

صادقین کا نام شاید اس لئے محض خطاطی سے مخصوص ہو کر رہ گیا ہے کہ انھوں نے زندگی کے آخری دنوں میں خود کو اسی فن تک محدود کر لیا تھا ، لیکن حقیقت یہ ہے کہ انکی زندگی کا بیشتر حصّہ مصوری کے دشت کی سیّاحی میں گذرا۔

گزشتہ برس اٹھائیس فروری کو کراچی کے موہٹّا پیلس میوزیم میں شروع ہونے والی صادقین کے شہ پاروں کی نمائش میں خطاطی کے نمونے شامل نہیں کئے گئے تھے لیکن محض مصوّری کے چیدہ چیدہ نمونے سجانے کے لئے بھی میوزیم کے سولہ کمرے درکار تھے۔

اس موقعے پر میوزیم نے ایک کاروباری ادارے کے تعاون سے چھ سو صفحات پر مشتمل ایک کیٹیلاگ بھی شائع کی ہے۔ پینتیس مصنفّین کی نگارشات سے مزیّن جہازی سائز کی یہ دیدہ زیب کتاب صادقین کی زندگی اور ان کے فن پر ایک وقیع، مستند اور حتمی دستاویز سمجھی جا رہی ہے۔

صادقین
قلم کے قط سے کھنچے باریک نقوش

نمائش کے لئے صادقین کے دو سو سے زیادہ نایاب شہکار اکٹھے کرنا کوئی آسان کام نہ تھا۔ کراچی کے معروف شخصیت حمید ہارون اس نمائش کے منتظمِ اعلیٰ تھے جبکہ آرٹ، تدریس اور میڈیا کی جانی پہچانی شخصیت سلیمہ ہاشمی ان کی معاون تھیں۔ اس نمائش کا اہتمام حمید ہارون کی ذاتی تگ و دو کے بغیر ممکن نہ تھا کیونکہ لوگوں کے گھروں، دفتروں اور ذاتی گیلریوں میں جا کر انھیں قائل کرنا کہ وہ ایک طویل عرصے کے لئے انھیں صادقین کے شہکار عارئتاً دے دیں، کوئی آسان کام نہ تھا۔

ہتھیلی کے برابر ننھی منی تصویر سے لے کر ایک بڑی دیوار پر پھیلے ہوئے میورل تک، قلم کے قط سے کھنچے باریک انسانی نین نقش سے لے کر موٹے برش کے بڑے بڑے سٹروکس سے بنے ہوئے چہروں تک اور انیس سو ستاون کے "سیلف پورٹریٹ" سے لےکر انیس سو اٹھہتّر کے کانٹوں بھرے جسم تک یوں تو ہر طرح کی تصاویر نمائش میں موجود تھیں لیکن منتظمین نے اس بات کا خاص اہتمام کیا تھا کہ لوگوں کا جانا پہچانا صادقین سامنے لانے کی بجائے مصّور کے اس ابتدائی دور کو بے نقاب کیا جائے جو گمنامی کی گرد میں دب چکا ہے۔ اسی لئے انکی خطاطی کے نمونے نمائش میں نہیں رکھے گئے حالانکہ صادقین نے حروفِ ابجد کی حدود سے ماوراء ہو کر خطاطی کے ایک ایسے مکتبِ فکر کی بنیاد ڈالی تھی جس کے لئے ناقدینِ فن کو "Biomorphic طغریٰ " کی نئی اصطلاح وضع کرنی پڑی۔

مجموعہ اضداد
 

 صادقین کی شخصیّت مجموعہءاضداد تھی: کبھی وہ مردِہوشیار ہوتے اور کبھی سرگشتہءخمار، کچھ بے تکلّف دوست تو انھیں "گنجا فرشتہ" کہنے سے بھی نہیں چوکتے تھے

 

اکثر فنکاروں کی طرح صادقین کی شخصیّت بھی مجموعہءاضداد تھی: کبھی وہ مردِہوشیار ہوتے اور کبھی سرگشتہءخمار ، کبھی میکشِ بدمست تو کبھی موقلم بدست، کبھی خالقِ کائنات کی یاد میں کھوئے ہوئے کبھی خودفراموشی میں سوئے ہوئے- وہ "رندِ تہجّدگذار" بھی کہلاتے تھے اور "ملامتی صوفی" بھی ، اور کچھ بے تکلّف دوست تو انھیں "گنجا فرشتہ" کہنے سے بھی نہیں چوکتے تھے۔ اسی پس منظر کے باعث منتظمین نے اس نمائش کا نام "The Holy Sinner " تجویز کیا ، یعنی " گنہگارِ متقّی"

ذکر اُس پری وش کا اور پھر بیاں اپنا ـ ـ ـ ایک تو صادقین کی اپنی شخصیّت اتنی مقناطیسی، اس پر نمائش کا نام اتنا پُرکشش ، لوگ واقعی جوق در جوق اس نمائش کو دیکھنے کے لئے آئے۔

صادقین
لوگ جوق در جوق نمائش دیکھنے آئے

آخری دنوں میں جب لوگوں کے اصرار پر مزید ایک ہفتے کے لئے نمائش جاری رکھنے کا اعلان کیا گیا تو محض اس ایک ہفتے میں دس ہزار افراد نے یہ نمائش دیکھی۔ مکمّل دورانئیے میں نمائش دیکھنے والوں کی مجموعی تعداد چھیاسی ہزار سے زیادہ رہی۔

 
 
تازہ ترین خبریں
 
 
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئے پرِنٹ کریں
 
 

واپس اوپر
Copyright BBC
نیٹ سائنس کھیل آس پاس انڈیاپاکستان صفحہِ اول
 
منظرنامہ قلم اور کالم آپ کی آواز ویڈیو، تصاویر
 
BBC Languages >> | BBC World Service >> | BBC Weather >> | BBC Sport >> | BBC News >>  
پرائیویسی ہمارے بارے میں ہمیں لکھیئے تکنیکی مدد