BBCUrdu.com
  •    تکنيکي مدد
 
پاکستان
انڈیا
آس پاس
کھیل
نیٹ سائنس
فن فنکار
ویڈیو، تصاویر
آپ کی آواز
قلم اور کالم
منظرنامہ
ریڈیو
پروگرام
فریکوئنسی
ہمارے پارٹنر
ہندی
فارسی
پشتو
عربی
بنگالی
انگریزی ۔ جنوبی ایشیا
دیگر زبانیں
 
وقتِ اشاعت: Monday, 15 September, 2003, 22:47 GMT 02:47 PST
 
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئے پرِنٹ کریں
کین کن تجارتی مذاکرات کیوں اہم تھے؟
 

 
کین کن تجارتی مذاکرات کا لوگو
کین کن تجارتی مذاکرات کا لوگو

بین الاقوامی تجارت عالمی سطح پر گزشتہ پچاس برسوں میں اقتصادی ترقی کی خاص وجہ رہی ہے۔ انیس سو پچاس میں بین الاقوامی تجارت صرف بیس کروڑ ڈالر تھی جو سن دو ہزار دو میں چھ سو کروڑ ڈالر ہوگئی تھی۔ اگر تجارت معیشتوں کی ترقی کی ایک اہم وجہ ہے، تو کین کن میں ہونیوالے تجارتی مذاکرات میں شامل ایک سو چھیالیس ملکوں کے مندوبین کسی حتمی اعلامیے پر اتفاق کیوں نہیں کرسکے؟

عالمی بینک کی ایک تحقیق کے مطابق اگر یہ مذاکرات کامیاب ہوجاتے تو عالمی تجارت کے فروغ کیلئے اس سمجھوتے پر سن دوہزار چار سے عمل درآمد شروع ہوجاتا جس پر دو سال قبل اتفاق ہوا تھا۔امید کی جارہی تھی کہ دوہزار پندرہ تک بین الاقوامی آمدنی میں پانچ سو بیس ارب ڈالر کا اضافہ ہوتا جس کے نتیجے میں لگ بھگ ساڑھے چودہ کروڑ لوگوں کو غربت کی سطح سے اوپر لایا جاسکتا تھا۔

 

 بین الاقوامی تجارت کے ذریعے سن دوہزار پندرہ تک ساڑھے چودہ کروڑ لوگوں کو غربت کی سطح سے اوپر لایا جاسکتا ہے۔

عالمی بینک کی تحقیق

 

عالمی بینک کے مطابق ایک ڈالر سے کم کی آمدنی پر جینے والوں کی تعداد جنوبی ایشیا میں انیس سونوے میں لگ بھگ سینتالیس کروڑ تھی جو گھٹ کر سن دوہزار میں تینتالیس کروڑ رہ گئی اور امید ہے کہ ان غریبوں کی تعداد گھٹ کر سن دوہزار پندرہ میں لگ بھگ ستائیس کروڑ رہ جائے گی۔ گزشتہ عشرے میں مشرقی ایشیا میں بھی معیشتوں کی بہتر کارکردگی کی وجہ سے غریبوں کی تعداد سینتالیس کروڑ سے گھٹ کر چھبیس کروڑ ہوئی ہے۔ لیکن اسی عشرے میں افریقہ میں غریبوں کی تعداد چوبیس کروڑ سے بڑھ کر بتیس کروڑ ہوئی ہے۔ اصطلاح میں انتہائی غریب اس کو کہا جاتا ہے جس کی آمدنی روزانہ ایک ڈالر سے کم ہے جبکہ دو ڈالر سے کم پر جینے والے بھی غریب کہلاتے ہیں۔

برآمدات کے لحاظ سے دنیا کے پانچ بڑے ممالک امریکہ، جرمنی، جاپان، فرانس اور برطانیہ ہیں۔ لیکن ان کی برآمدات غریب ملکوں سے سوگنا زیادہ ہیں۔ بین الاقوامی تجارت میں یہ خلیج غریب ممالک کیلئے فکر کا باعث ہے۔ اسی خلیج کو کم کرنے کے لئے غریب ممالک اس بات کا مطالبہ کررہے تھے کہ امیر ملک اپنے کسانوں کو سبسِڈی دینا بند کردیں۔ ایک اندازے کے مطابق امیر ملکوں کو ملنے والی زرعی مراعات کی وجہ سے غریب ملکوں کو کم از کم چوبیس ارب ڈالر سالانہ کا نقصان ہورہا ہے۔

امیر ممالک اپنے کسانوں کو ہرسال تین سو بیس ارب ڈالر کی زرعی مراعات دیتے ہیں جو کہ غریب ملکوں کو دی جانیوالی بین الاقوامی امداد سے چھ گنا زیادہ ہے۔

کین کن میں ایک خانچہ فروش
بین الاقوامی تجارت، آج کی حقیقت

کین کن میں ہونیوالے مذاکرات میں امیرملکوں کی جانب سے اپنے کسانوں کو دی جانے والی زرعی سبسِڈی پر شدید اختلافات ان مذاکرات کی ناکامی کا وجہ بنے۔ کین کن مذاکرات میں یورپی ممالک کے مندوبین اس بات پر متفق ہوگئے تھے کہ اپنے کسانوں کو زرعی مراعات دینا بند کردینگے لیکن جب ان سے مطالبہ کیا گیا کہ اس کے لئے ایک حتمی تاریخ پر اتفاق کریں تو وہ پیچھے ہٹ گئے۔

کین کن مذاکرات میں امریکہ اپنے کسانوں کو دی جانے والی زرعی مراعات کے خاتمے کے لئے تو تیار ہوگیا تھا لیکن اس کا مطالبہ تھا کہ اس کے بدلے میں غریب ملک اپنی منڈی میں درآمدات پر عائد ٹیکس ختم کریں۔ لیکن غریب ممالک کا کہنا ہے کہ اگر وہ ایسا کریں گے تو ان کی منڈی میں امیر ملکوں کی بڑی بڑی کمپنیوں کی بنائی ہوئی اشیاء کا سیلاب آجائے گا۔

غربت کے خاتمے اور معیشتوں کی ترقی میں بین الاقوامی تجارت کے کردار سے انکار نہیں کیا جاسکتا۔ اور عالمگیریت کے اس دور میں دنیا کے سبھی ممالک کو ان مسائل پر ایک فیصلہ کرنا ہی ہوگا۔ کین کن تجارتی مذاکرات کی ایک کامیابی ضرور یہ رہی ہے کہ غریب ملکوں کے مندوبین نے امیر ممالک پر یہ واضح کردیا ہے کہ بین الاقوامی تجارت کو سب کیلئے بہتر بنانا پڑے گا۔

 
 
اسی بارے میں
 
 
بیرونی لِنک
 
بی بی سی دیگر سائٹوں پر شائع شدہ مواد کی ذمہ دار نہیں ہے
 
تازہ ترین خبریں
 
 
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئے پرِنٹ کریں
 
 

واپس اوپر
Copyright BBC
نیٹ سائنس کھیل آس پاس انڈیاپاکستان صفحہِ اول
 
منظرنامہ قلم اور کالم آپ کی آواز ویڈیو، تصاویر
 
BBC Languages >> | BBC World Service >> | BBC Weather >> | BBC Sport >> | BBC News >>  
پرائیویسی ہمارے بارے میں ہمیں لکھیئے تکنیکی مدد