http://www.bbc.com/urdu/

عراق، جہادیوں کا نیا مرکز؟

تحریر: طفیل احمد، بی بی سی اردو ڈاٹ کام

اخبار نیویارک ٹائمز کی ایک رپورٹ کے مطابق جیسے افغانستان میں روسی فوج کی آمد نے مسلم نوجوانوں کو ’باطل‘ کے خلاف متحرک کردیا تھا، اسی طرح عراق میں امریکی فوج کی موجودگی اب مسلم شدت پسندوں کی ایک نئی نسل کو جنم دے رہی ہے۔

شمالی عراق میں کردوں کے زیرکنٹرول علاقے کے وزیراعظم برہام صالح کا خیال ہے کہ عراق وہ بھنور ہے جہاں اسلام بنام جمہوریت، مغرب بمقابلہ بدی کا امریکی محور، عرب قومیت بنام سیاسی افکار جیسے تصادم دیکھنے میں آرہے ہیں۔ برہام صالح نے نیویارک ٹائمز کو بتایا کہ اگر یہاں امریکی کامیاب رہتے ہیں تو شدت پسندوں کے اقدار و عزائم کو تاریخی شکست ہوگی۔

اس نظریے پر کہ عراق ایک نیا افغانستان بنتا جارہا ہے، یقین کرنا اس لئے بھی ممکن لگتا ہے کہ عراق کے ان علاقوں میں جہاں سنُی فرقے کی اکثریت ہے، امریکی فوجیوں پر حملے رکنے کا نام نہیں لے رہے ہیں۔ اس نوعیت کے حملوں میں ایک مئی اور تیرہ اگست کے درمیان کم سے کم انسٹھ امریکی فوجی مارے جاچکے ہیں۔

تو کیا عراق میں امریکی فوج کے سامنے وہی حالات ہیں جن کا افغانستان میں روسی فوج کو سامنا رہا؟

اتوار کے روز لبنان کے ٹیلی وژن ایل بی سی کے ساتھ ایک انٹرویو میں الانصارالاسلام کے روحانی رہنما ملا مصطفیٰ کاریکار نے کہا ہے کہ انیس سو اناسی کے افغانستان اور آج کے عراق میں کوئی فرق نہیں ہے اور عراق میں امریکی فوج کے خلاف مزاحمت صرف امریکی حملے پر ایک ردعمل نہیں بلکہ خلافت عثمانیہ کے خاتمے سے ہی جاری اسلامی جدوجہد کی ایک کڑی ہے۔

عراق میں حکام کا کہنا ہے کہ ایک سعودی اور مصر کے ایک شہری نے جہاد کے لئے عراق میں نوجوانوں کی تربیت کا کام شروع کیا۔ حالیہ دنوں میں افغانستان میں بھی طالبان اور القاعدہ کے کارکنوں نے امریکی فوجیوں اور صدر حامد کرزئی کے حامیوں پر اپنے حملے جاری رکھے ہیں۔

لیکن اگر شدت پسندوں کی کوئی نئی اسلامی عالمگیریت عراق کے شکم میں پل رہی ہے، تو اس کے شواہد عراق میں امریکی افواج کی موجودگی کی طوالت پر منحصر ہوں گے۔