 |
|
 |
|
| سویڈش وزیر چل بسیں |
|
 مسز لند کا شمار ملک کے معروف ترین سیاستدانوں میں ہوتا ہے | سویڈن کی حکومت کی طرف سے جاری کئے گئے ایک بیان میں کہا گیا ہے کہ بدھ کے روز حملے میں زخمی ہونے والی وزیر خارجہ انا لند انتقال کر گئی ہیں۔ ان کی عمر چھیالیس سال تھی اور وہ گزشتہ پانچ سال سے ملک کی وزیر خارجہ تھیں۔
اس سے پہلے ان کا علاج کرنے والے ڈاکٹروں کے حولے سے کہا گیا تھا کہ ان کی حالت اگرچہ کچھ بہتر ہوئی ہے لیکن ان کی زندگی اب بھی خطرے میں ہے۔
سویڈن کی وزیر خارجہ کو بدھ کے روز اس وقت چاقوؤں کے وار کر کے زخمی کر دیا گیا تھا جب وہ اسٹاک ہوم کے وسط میں واقع ایک ڈیپارٹمینٹل اسٹور میں خریداری کر رہی تھیں۔
مسز لند کو سینے، پیٹ اور بازو پر زخم آئے اور ڈاکٹروں کو ان کے خون کو روکنے کے لئے ان کا کئی گھنٹے پر محیط آپریشن کرنا پڑا۔
سویڈن کے یورپی کرنسی میں شامل ہونے کی حامی مسز لند کا شمار ملک کے معروف ترین سیاستدانوں میں ہوتا ہے۔
سویڈن کے وزیر اعظم گوران پرسن نے مسز لند پر حملے کو ملک کے کھلے معاشرے پر ایک حملہ قرار دیا ہے۔
سویڈن کی وزیر پر یہ حملہ ایک ایسے وقت ہوا ہے جب ملک میں یورپی کرنسی میں شامل ہونے یا نہ ہونے کے موضوع پر ریفرنڈم ہونے والا ہے۔
مسزز لند ملک کے یورپی کرنسی میں شامل ہونے کے حق میں مہم چلا رہی تھیں اور ان پر ہونے والے حملے کے بعد ریفرنڈم کے سلسلےمیں ہونے والے سرگرمیاں سرد پر گئی ہیں۔
سویڈن میں سیاستدانوں پر حملوں کی مثالیں بہت ہی کم ہیں۔ سن انیس سو چھیاسی میں ہونے والے اس قسم کے واحد واقعہ میں ملک کے اس وقت کے وزیر اعظم اولوف پالمے کو قتل کر دیا گیا تھا۔ |
|
 |