 |
|
 |
|
| تعلقات مضبوط کرنےکی ضرورت: شیرون |

وزیراعظم شیرون کے دورۂ ہندوستان کو اہم قرار دیا جارہا ہے
|
رپورٹ: شکیل اختر، بی بی سی اردو ڈاٹ کام، نئی دہلی
اسرائیل کے وزیراعظم ایریئل شیرون نے مختلف شعبوں میں اپنے ملک کی زبردست کامیابیوں کا ذکر کرتے ہوئے کہا ہے کہ ہندوستان اور اسرائیل کے درمیان باہمی تعلقات کے وسیع امکانات ہیں۔ مشرق وسطٰیٰ کی صورتحال کا ذکر کرتے ہوئے انہوں نے امید ظاہر کی کہ اگر تشدد کا سلسلہ بند ہو جائے تو خطے میں مستقبل قریب میں امن قائم ہو سکتا ہے۔
تجزیہ: اسرائیل۔ہند تعلقات
وزیراعظم ایریئل شیرون نے نئی دہلی میں زبردست مصروفیات کے دوران اعلان کیا کہ وہ اسرائیل کی تازہ صورتحال کے سبب اپنا ہندوستان کا دورہ محدود کر رہے ہیں۔ وہ کل ممبئی جانے کے بجائے بدھ کی شب ہی پروشلم کے لئے روانہ ہوگئے۔
ایریئل شیرون نے حزب اختلاف کی رہنما سونیا گاندھی اور  دونوں ملکوں نے چھ معاہدے کیے | وزیر دفاع جارج فرنانڈس سے ملاقات کی اور کنفیڈریشن آف انڈین انڈسٹری کے زیرِاہتمام صنعت کاروں سے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ اسرائیل ایک امن پسند ملک ہے اور اگر چہ اُس پر بار بار حملے کیے جا رہے ہیں تاہم اُس نے اِس کے باوجود اپنے پڑوسیوں کے ساتھ امن کے ساتھ رہنے کی امید نہیں کھوئی ہے۔
وزیراعظم شیرون نے کہا کہ اسرائیلی باشندوں کو گذشتہ سوا سو برس سے زیادہ عرصے سے دہشت گردی کا سامنا رہا ہے۔ تاہم انہوں نے امید ظاہر کی تشدد کے خاتمے سے خطے میں امن قائم ہو سکتا ہے۔ انہوں نے کہا کہ اسرائیل حقیقی اور پائیدار امن کا خواہاں ہے اور اِس کے لئے وہ سمجھوتے کرنے کے لۓ بھی تیار ہے لیکن اسرائیلی شہریوں کی سلامتی سے کوئی سمجھوتہ نہیں کیا جا سکتا۔
انہوں نے کہا کہ امن اسی وقت قائم ہوگا جب دہشت گردی اور تشدد کا خاتمہ ہو جائے کیوں کہ اِس کے بغیر سیاسی پیشِ رفت ممکن نہیں ہے۔ اِس موقع پر انہوں نے اسرائیل کی کامیابیوں کا بھی ذکر کیا اور کہاکہ اسرائیل انجینیئرنگ، سائنسی اور طبّی تحقیق، زراعت، مواصلات، کمپیوٹر، الیکٹرانک اور بجلی کی ٹیکنالوجی میں دنیا میں سب سے آگے ہے۔ اور ہندوستان و اسرائیل متعدد شعبے میں اشتراک کر سکتے ہیں۔
دونوں ملکوں کے درمیان کل چھہ معاہدوں پر دستخط کیے گئے تھے لیکن دفاع کے ضمن میں کچھہ نہیں کہا گیا ہے۔
صرف اتنا بتایا گیا ہے کہ اسرائیل ہندوستان کو تین فالکن ریڈار سسٹم فروخت کرنے کے لۓ تیار ہے۔ زمین سے فضا میں مار کرنے والے ایرو (Arrow) بیلسٹک میزائل کے بارے میں دریافت کیے جانے پر اسرائیلی اہلکاروں نے کہا کہ چونکہ یہ مزائل امریکی تعاون سے تیار ہوا ہے اور ابھی امریکہ نے فروخت کی منظوری نہیں دی ہے اس لۓ ابھی کچھ کہنا مشکل ہے۔ |
|
 |