صوبہ بلوچستان کے وزیر صحت حافظ حمداللہ کے چھوٹے بھائی حمیداللہ کو پولیس نے سرحدی شہر چمن سے گرفتار کر لیا ہے۔
پولیس ذرائع نے بتایا ہے کہ وزیر کے بھائی کو سابق گورنر قندھار گل آغا شیرزئی کے بھائی پر قاتلانہ حملے کے الزام میں گرفتار کیا گیا ہے۔
بدھ دس ستمبر کو دوپہر کے وقت حمیداللہ چمن میں ایک پبلک کال آفس میں بیٹھے تھے کہ قانون نافذ کرنے والے اہلکار وہاں پہنچے اور ان کو گاڑی میں بٹھا کر نامعلوم مقام کی طرف لے گئے۔ دیگر اطلاعات کے مطابق حمیداللہ کے ہمراہ دو اور افراد کو بھی گرفتار کیا گیا ہے لیکن اس خبر کی ابھی تصدیق نہیں ہو سکی۔
پولیس حکام نے نام نہ ظاہرکرنے کی شرط پر بتایا ہے کہ صوبائی وزیر کے بھائی کو سابق گورنر قندھار گل آغا شیر زئی کے بھائی پر قاتلانہ حملے کے الزام میں گرفتار کیا گیا ہے۔ گل آغا کے بھائی عبدالرازق پر نا معلوم افراد نے چار ماہ قبل چمن میں حملہ کر دیا تھا جس میں ان کے دو محافظ ہلاک ہو گئے تھے سپین بولدک میں انتظامیہ نے چمن پولیس کے پاس ایف آئی آر درج کرائئ جس میں حمیداللہ کو بھی نامزد کیا گیا تھا۔
یہاں یہ امر بھی قابل
پولیس حکام کا کہنا ہے کہ صوبائی وزیر کے بھائی کو سابق گورنر قندھار گل آغا شیر زئی کے بھائی پر قاتلانہ حملے کے الزام میں گرفتار کیا گیا ہے
ذکر ہے کہ
گل آغا کے بھائی پر حملے سے کچھ روز قبل پاک افغان سرحد پر افغان فوجیوں نے حمیداللہ کو مارا پیٹا تھا جس سے حمیداللہ شدید زخمی ہو گئے تھے ۔
صوبائی وزیر صحت حافظ حمداللہ نے کہا ہے کہ ان کے بھائی اس واقعہ میں ملوث نہیں تھے اور یہ کہ وہ اس روز چمن میں تھے ہی نہیں بلکہ کوئٹہ میں موجود تھے۔ انہوں نے کہا ہے کہ وہ اپنے بھائی کی گرفتاری کی سخت مذمت کرتے ہیں۔
پولیس حکام نے بتایا ہے کہ حمیداللہ کو کرائم برانچ کے حوالے کیا گیا ہے جہاں ان سے مزید تفتیش کی جائے گی۔
اطلاعات کے مطابق سپن بولدک کی انتظامیہ حمیداللہ پر یہ الزام بھی عائد کرتی رہی ہے کہ وہ مشتبہ طالبان کی مدد کرتے رہے ہیں لیکن اس کے ابھی تک شواہد فراہم نہیں کیے گئے۔
کچھ مبصرین کا کہنا ہے کہ حمید اللہ کی گرفتاری کی وجوہات اور بھی ہو سکتی ہیں جو تفتیش کے بعد ہی معلوم ہو سکیں گی ۔