|
| ||||||||||||||||||||||||||||||||||
کین کن میں کرنا کیا ہے؟ تحریر: مظہر زیدی، بی بی سی اردو سروس
ان اعتراضات میں سب سے اہم اعتراض یہ تھا کہ ترقی پذیر ممالک جان لیوا بیماریوں سے بچاؤ کے ادویات کے، جو بڑی کمپنیوں نے اپنے نام پیٹنٹ کرا رکھی ہیں، سستے متبادل درآمد کرنے کی اجازت چاہتے ہیں۔ اس سلسلے میں ذرا پیش رفت تو ہوئی ہے اور ترقی پذیر ممالک ایڈز جیسی بیماریوں کے لئے ادویات کے متبادل درآمد کر سکتے ہیں۔ لیکن اس سلسلے میں تحریک چلانے والے ماہرین کا کہنا ہے کہ اجازت اتنی ساری پابندیوں کے ساتھ دی جا رہی ہے کہ اس کا اصل مقصد پورا نہیں ہو سکے گا۔
سوال یہ اٹھتا ہے کہ ایسا کس طرح ہوتا ہے؟ اس کا جواب کچھ یوں ہے کہ مثال کے طور پر یورپ میں کسانوں کو حکومتیں اتنی ہی چھوٹ یا سبسڈی ہیں جتنا وہ اناج یا کوئی زرعی مصنوعات پیدا کرتے ہیں۔ لہٰذا یہ کسان زیادہ سے زیادہ چھوٹ یا سبسڈی حاصل کرنے کے لئے زیادہ پیداوار کرتے ہیں اور عالمی منڈی میں اس وجہ سے قیمتیں کم ہو جاتی ہیں اور ترقی پذیر ممالک کو نقصان پہنچتا ہے۔ زیادہ تر ترقی پذیر ممالک خاص طور پر یورپ سے یہ مطالبہ کر رہے ہیں کہ وہ یہ سبسڈی یا چھوٹ کا نظام یا تو مکمل طور ختم کر دے یا پھر اس میں تبدیلیاں کرے۔ جاپان پر بھی اس سلسلے میں دباؤ ہے جہاں درآمدی ڈیوٹی ایک بڑا مسئلہ ہے۔ کچھ زرعی مصنوعات پر ڈیوٹی بہت زیادہ ہے اور ترقی پذیر ممالک یہ مطالبہ کر رہے کہ اسے کم کیا جائے۔ موال کے طور پر جاپان میں چاول کی مانگ ہے لیکن اس پر ڈیوٹی کی وجہ سے دوسرے ممالک جو جاپان میں چاول بیچ سکتے ہیں مشکلات کا شکار ہیں۔ اس کے علاوہ کچھ دیگر مسائل بھی ہیں جنہیں عموماً ’سنگاپور ایشوز‘ کہا جاتا ہے ۔ یہ مسائل سرمایہ کاری اور اجارہ داری سے متعلق ہیں۔ یہ کہنا تو فی الحال مشکل ہو گا کہ کین کن کا یہ اجلاس کامیاب ہو گا یا ناکام کیونکہ فی الحال تو ایسا لگتا ہے کہ ڈبلیو ٹی او کے حکام پہلے ہونے والی تاخیر کو پورا کرنے کی کوشش کر رہے ہیں۔ |
| ||||||||||||||||||||||||||||||||||
|
|
|
| BBC Languages >> BBC World Service >> BBC Weather >> BBC Sport >> BBC News >> | |
|
|
|