BBCi Home PageBBC World NewsBBC SportBBC World ServiceBBC WeatherBBC A-Z
 
 
 
 
 
 
 
 
 
 
 
 
 
 
 
 
 
 
South Asia News
BBCHindi.com
BBCPersian.com
BBCPashto.com
BBCArabic.com
BBCBengali.com
Learning English
 
 
  ہماری کھیلوں کی سائٹ
 
 
  احمد قریع، ہمہ جہت شخصیت
 
 
  کین کن میں کرنا کیا ہے؟
 
 
  شیرون کا دورۂ ہند
 
 
  ’غیرت‘ کے سات سو شکار
 
 
  قبائلی علاقوں کے بھوت اسکول
 
 
  مشرق وسطی میں طاقت کا نیا محور
 
 
  گیارہ ستمبر
آخری باتیں
 

جنگ عراق کا سچ جھوٹ
 

کراچی ساحل: زہریلی لہریں
 

موسیقی، فلم، ٹی وی ڈرامہ
 

دنیا ایک کلِک دور
 
 
 
:تازہ خبریں
 
میں غدار نہیں: مشرف
’القاعدہ اب بھی سرگرم ہے‘
اسامہ کی نئی وڈیو ٹیپ
’دراندازی بند کرائیں گے‘
سویڈش وزیر چل بسیں
جنس معلوم کرنےپرپابندی
بیمہ کمپنیاں القاعدہ پر مقدمہ کریں گی
یونان: پاکستانی ڈوب گئے
’نقشِہ راہ پر قائم ہیں‘
کراچی ساحل: پابندی برقرار
سامان میں انسان
بلوچستان: وزیر کے بھائی گرفتار
تعلقات مضبوط کرنےکی ضرورت: شیرون
لڑکا، امریکی فوجی ہلاک
بالی دھماکہ: موت کی سزا
گرینچ 21:41 - 06/09/2003
بنگلہ دیش کا ادھورا خواب
تحریر: عبدالرشید شکور، ملتان

بنگلہ دیش کی کرکٹ ٹیم ایک نئی تاریخ رقم کرنے سے

بنگلہ دیش کی ٹیم پاکستان کی چھٹی وکٹ گرنے پر
محروم رہ گئی۔ پاکستان نے ملتان ٹیسٹ سنسنی خیز اورڈرامائی مقابلے کے بعد ایک وکٹ سے جیت کر ٹیسٹ کرکٹ کی ’بے بی ٹیم‘ کو وہ جشن منانے سے روک دیا جس کے سپنے کپتان خالد محمود اور کوچ ڈیو واٹمور سمیت تمام بنگلہ دیشی دیکھ رہے تھے۔

پاکستان کی اس یادگار کامیابی کے ہیرو انضمام الحق تھے جنہوں نےشاندار سنچری بناکر انہونی کو ہونی میں بدل دیا۔ ملتان ٹیسٹ کے تیسرے دن کے اختتام پر بنگلہ دیشی بولرز پاکستان کے چھ کھلاڑی صرف ایک سو اڑتالیس رنز پرآوٹ کر کے میچ پر اپنی گرفت مضبوط کرچکے تھے۔

خالد محمود اور واٹمور کو یقین تھا کہ ان کے بولرز جیت کی راہ مین حائل چار وکٹیں حاصل کرکے فتح سے ہمکنار ہو جائیں گےجس کے انتظار میں وہ ابتک مسلسل ناکامیوں سے دوچار ہوتے آئے ہیں۔ لیکن انضمام الحق کے ارادے کچھ اور ہی تھے۔ انہوں نے ٹاپ آرڈر کی ناکامی کے باوجود بعد میں آنے والے کھلاڑیوں کی مدد سے دو سو اکسٹھ رنز کا مطلوبہ ہدف حاصل کر لیا۔

اس شاندار کارکردگی نے پاکستانی کرکٹ کو شدید عوامی ردعمل کے اس طوفان سے بھی بچالیا جو شکست کے بعد اسے
اپنی لپیٹ میں لینے کے لۓ تیاری پکڑچکا تھا۔ یہ حقیقت اپنی جگہ کہ پاکستان ٹیم اپنی پوری قوت کے ساتھ میدان میں نہیں اتری تھی، اس نے ملتان ٹیسٹ میں تین نۓ کھلاڑیوں سلمان بٹ، یاسرعلی اور فرحان عادل کو ٹیسٹ کیپ دی تھی جبکہ محمد حفیظ، یاسر حمید، شبیراحمد اور عمر گل نے اسی سیریز کے کراچی ٹیسٹ میں اپنے ٹیسٹ کیریئر کا آغاز کیا ہے۔ گویا کپتان راشد لطیف انضمام الحق یونس خان اور ثقلین مشتاق ہی ٹیم میں تجربہ کار کھلاڑی تھے۔

اس لحاظ سے پاکستان ٹیم کی کامیابی کی اہمیت کو کسی طور کم نہیں کیاجاسکتا۔ اس ٹیسٹ میں پاکستان کے نوجوان باؤلرز شبیراحمد اور عمرگل نے غیرمعمولی کارکردگی کا مظاہرہ کیا گوکہ انہوں نے پہلی اننگز میں نئی گیند کا استعمال مؤثر انداز میں نہیں کیا تھا جس کی وجہ سے بنگلہ دیشی ٹیم دو سو اکیاسی رنز بنانے میں کامیاب ہو گئی تھی۔

لیکن دوسری اننگز میں ان دونوں نے بھرپور انداز میں باؤلنگ کرتے ہوئے بنگلہ دیشی ٹیم کو 154 رنز پرآؤٹ کردیا۔ شبیراحمد نے میچ میں سات وکٹیں حاصل کیں جبکہ عمرگل نےآٹھ کھلاڑی آؤٹ کئے۔

دونوں نوجوان باؤلر سیریزمیں اپنے کپتان کے اعتماد پر پورا اترے۔ شبیراحمد نےتین ٹیسٹ میچون میں سترہ وکٹیں حاصل کیں جبکہ عمرگل کی وکٹوں کی تعداد پندرہ رہی۔

پاکستان نے اگرچہ ٹیسٹ سیریز صفر کے مقابلے میں تین میچوں سے جیتی لیکن ملتان ٹیسٹ نے کئی اہم پہلوؤں کو اجاگر کیا ہے جن مین سب سے اہم ٹیم سلیکشن ہے جسے پاکستان کے سابق ٹیسٹ کرکٹرز نے بھی تنقید کانشانہ بنایا ہے۔ ان کا خیال ہے کہ سلیکشن کمیٹی ٹیسٹ کیپ دینے کے معاملے مین عجلت پسندی کا شکار ہے۔ ان کے خیال میں یاسرعلی، فرحان عادل اور سلمان بٹ کو وقت سے پہلے ٹیسٹ کھیلنے کا موقع دے دیا گیا۔

نوجوان کرکٹرز کو اکیڈمی ٹیم کے محض ایک دورے کی کارکردگی کے بجائے فرسٹ کلاس کرکٹ کے تجربے سے گزارکر ٹیسٹ کرکٹ تک لایا جانا چاہۓ۔ مبصرین نے تجربہ کار یوسف یوحنا کو آرام کرانے کےفیصلے کو بھی مضحکہ خیز قراردیاہے۔

انتخاب عالم کے مطابق آج کل ٹیسٹ کیپ سستی ہوگئی ہیں۔ سلیکشن کی پالیسی متوازن ہونی چاہۓ سلیکشن کی اسی پالیسی پر کپتان راشد لطیف نے بھی عدم اطمینان ظاہر کیا ہے۔ ان کا کہنا ہے کہ اتنی بڑی تعداد میں نۓ کھلاڑیوں کو ٹیسٹ کیپ دینا کپتان اور کوچ کے لۓ پریشانی کا باعث ہوتا ہے۔

کرکٹ کے حلقوں میں اس بات پر بھی حیرت کا اظہار کیا گیا ہے کہ ڈرہم کاؤنٹی سے معاہدے کے تحت شعیب اختر کو تیسرے ٹیسٹ سے قبل ریلیز کردیا گیا حالانکہ پاکستان ٹیم کو ان کی زیادہ ضرورت تھی۔ جب وہ ٹیم میں موجود تھے تو کراچی اور پشاور میں وکٹیں ان کے مزاج سے مختلف بنادی گئی تھیں اور جب وہ ٹیم میں نہیں تھے تو ملتان میں سیمنگ وکٹ تیار کردی گئی۔ راشد لطیف کا کہنا ہے کہ اگرشعیب اختر ملتان ٹیسٹ میں ہوتے تو پاکستان ٹیم آسانی سے جیت جاتی۔

بنگلہ دیش نے اس سیریز میں عمدہ کارکردگی دکھا کر آنے والے دِنوں میں دوسری ٹیموں کو خطرے کا سگنل دے دیا ہے۔ ڈیو واٹمور کے کوچ بننے کے بعد بنگلہ دیشی ٹیم کی کارکردگی میں نمایاں بہتری آئی ہے۔
 
 

 urdu@bbc.co.uk
 
 
 
 < عالمی خبریں 43 زبانوں میںواپس اوپر ^^ BBC Copyright