 |
|
 |
|
| جنوبی افریقہ پاکستان: انکارواصرار |
|
پاکستان کرکٹ بورڈ کے چیف ایگزیکٹو رمیض راجہ نے کہا ہے  ’جنوبی افریقہ کے خلاف کراچی اور پشاور میں میچ ہونگے‘ | کہ اگر ضرورت پڑی تو حکومت جنوبی افریقہ سے اعلی ترین سطح پر رابطِ قائم کر کے ان کی کرکٹ ٹیم کو کراچی اور پشاور میں میچ کھیلنے پر آمادہ کرےگی۔
پاکستان کرکٹ بورڈ کے چیف ایگزیکٹو رمیض راجہ نے بی بی سی اردو سروس سے ایک انٹرویو میں اس بات کی تصدیق کی کہ جنوبی افریقہ کی ٹیم نے کراچی اور پشاور میں میچ کھیلنے کے بارے میں تحفظات کا اظہار کیا ہے اور کہا ہے کہ ان میچوں کو کہیں اور منتقل کیا جائے۔
رمیض راجہ نے افسوس کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ بین الاقوامی ذرائع ابلاغ میں پاکستان کی امن و اماں کی صورت حال کی صیح تصویر پیش نہیں کی جاتی۔ انہوں نے کہا کہ پاکستان میں داخلی صورت حال بلکل درست ہے اور قابو میں ہے۔
انہوں نے کہا کہ امن و اماں کو کوئی مسئلہ نہیں اور پاکستان کے تمام شہروں میں بین الاقوامی میچ کرانے کے لیے فضا ساز گار ہے۔
انہوں نے کہا کہ بین الاقوامی سطح پر پائے جانے والے اس غلط تاثر کو زائل کرنے کے لیے پاکستان کرکٹ بورڈ کراچی اور پشاور میں میچ کرانا چاہتا ہے۔
رمیض راجہ نے کہا کہ پاکستان کرکٹ بورڈ کو جنوبی افریقہ کی طرف سے ایک خط موصول ہوا تھا جس میں انہوں نے کراچی اور پشاور میں میچ کھیلنے سے معذرت ظاہر کی تھی۔
ا
انہوں نے کہا کہ اس خط میں جنوبی افریقہ نے انشورنس کے مسائل اور دفتر خارجہ کی طرف سے جاری کردہ تجویز کا ذکر کیا تھا۔
انہوں نے امید ظاہر کی کے جنوبی افریقہ اپنے اعتراضات واپس لے لےگا۔ تاہم اگر معاملہ بگڑ گیا تو پاکستان کی حکومت اعلی ترین سطح پر جنوبی افریقہ سے رابطہ کرے گی۔
جب ان سے پوچھا گیا کہ کیا صدر جنرل پرویز مشرف بھی اس سلسلے میں کوئی کردار ادا کریں گے تو انہوں نے کہا کہ اس کی نوبت نہیں آئے گی۔ تاہم انہوں نے کہا کہ اگر ایسا موقع آیا تو صدر مشرف بھی اس معاملے میں مداخلت کر سکتے ہیں۔
انہوں نے کہا کہ صدر مشرف کرکٹ میں خاصی دلچسپی رکھتے ہیں اور ہمیشہ ہی کرکٹ بورڈ کی معاونت اور سرپرستی کرتے رہے ہیں۔ رمیض راجہ نے کہا کہ صدر مشرف کی جب بھی آسٹریلیا کے صدر سے بات ہوتی ہے تو کرکٹ کے امور پر بھی تبادلہ خیال ہوتا ہے۔
صدر مشرف نے ایک بیان میں کہا تھا کہ آسٹریلوی صدر سے ان کی اگر آدھا گھنٹہ بات ہوتی ہے تو بیس منٹ کرکٹ پر بات ہوتی ہے۔
کراچی میں میچ منعقد کرانے کے بارے میں انہوں نے کہا کہ کراچی کے عوام بین الاقوامی کرکٹ دیکھنے کے لیے بیتاب ہیں۔ انہوں نے کہا کہ وہ بڑی بے چینی سے جنوبی افریقہ کی ٹیم کا انتظار کر رہے ہیں۔
انہوں نے مزید کہا کہ اگر امن اماں کی صورت حال خراب تھی تو اس کی سزا عوام کو نہیں دینی چاہئے۔ انہوں نے کہا کہ اب حالات بالکل ٹھیک ہیں اور کراچی اور پشاور دونوں جگہ میچ کرائے جا سکتے ہیں۔ |
|
 |