 |
|
 |
|
| ورچؤل اقوام کا اجلاس |

ایلگالینڈ۔وارگالینڈ کی سائٹ کا ہوم پیج
|
ورچؤل اقوام یعنی کسی علاقائی یا زمینی حیثیت کے بغیر انٹرنیٹ پر قائم ’فرضی اقوام‘ کا پہلا اجلاس فن لینڈ کے دارالحکومت ہیلسِنکی میں ہورہا ہے۔
اس اجلاس کے منتظمین کا مقصد انٹرنیٹ پر قائم فرضی ممالک کے لئے ایک فورم کا انعقاد کرنا ہے۔ ان میں سے کئی کے اپنے آئین، پرچم اور کرنسی بھی ہے۔
اس اجتماع میں، جسے مائکرو نیشنز اور ماڈل ممالِک کا اجلاس کہا جا رہا ہے، لاڈونیا (Ladonia ) ، ٹرانس نیشنل رپبلِک اور دوہری بادشاہت والے ملک ’ایلگالینڈ۔وارگالینڈ (Elgaland-Vargalan) سے مندوبین شرکت کر رہےہیں۔
ایک ترجمان میروا پولکِینن کا کہنا ہے  ’ہم شہری ہیں، رعایا نہیں‘ | کہ اس اجلاس میں چھوٹی اقوام کے وجود اور ان کی اہمیت پر بحث کرنے کا موقع مل رہا ہے، حالانکہ انہوں نے تسلیم کیا کہ اس کا اصل مقصد انسانوں کے زندگی گزارنے کے طریقوں کی پیروڈی کرنا ہے۔
اس اجلاس کے دوران ’سرکاری سطح‘ پر نئی مملکت ’سبوتاژ ‘ کے قیام کا اعلان بھی کیا جائے گا۔
اس ویب سائٹ نے جب ایلگالینڈ۔وارگالینڈ کا دورہ کیا (یعنی اس کی ویب سائٹ کا) تو پتا چلا کہ ان کا اپنا آئین ہے اور اس نے چودہ مارچ انیس سو بانوے کو دنیا کے تمام ممالک کے درمیان واقع ’نو مینز لینڈ‘ کو اپنی ملکیت قرار دیا۔ ظاہر ہے یہ باتیں اس کی ویب سائٹ پر درج ہیں اور ان کی حقیقت بھی انٹرنیٹ تک ہی محدود ہے۔
ایسی ہی ایک اور فرضی مملکت ’ٹرانس نیشنل رپبلک‘ کے ہوم پیج پر درج ہے کہ ’یہاں ہم شہری ہیں، نہ کہ رعایا۔۔۔ یہاں کے شہریوں کی پہچان خون یا پیدائش سے نہیں بلکہ سوچ کی یکسانیت سے ہوتی ہے۔۔۔‘
انٹرنیٹ پر اس طرح کی کاوشیں نئی نہیں ہیں۔ اس طرح کےگروپ یا افراد اپنے خیالات کے آزادانہ اظہار یا دوسروں کے خیالات پر تنقید یا تضحیک کے لئے اکثر انٹرنیٹ کا رخ کرتے ہیں، کیونکہ یہاں کچھ بھی لکھا جا سکتا ہے، کچھ بھی کہا جا سکتا ہے۔
یہاں تک کہ فرضی ملک بھی قائم کیا جا سکتا ہے۔ |
|
 |