 |
|
 |
|
| بلیئر، ترجمان اعلیٰ مستعفی |
|
برطانوی وزیر اعظم کے اعلیٰ ترجمان ایلسٹیئر کیمپبل نے اپنے عہدے سے مستعفی ہونے کا اعلان کیا ہے۔
کیمپبل برطانوی حکومت پر عراق سے لاحق  کیمپبیل: تنازعوں کی زد میں | خطرات کوبڑھا چڑھا کر بیان کرنے کے بارے میں لگنے والے الزامات میں اہم کردار رہے ہیں۔ کیمپبل بلیئر حکومت میں ’کمیونِکیشن اور سٹریٹجی‘ کے ڈائریکٹر تھے۔ ان کے استعفے کے بارے وزیراعظم کے دفتر نے جمعہ کی دو پہر کو اعلان کیا۔
کیمپبل نے کہا ’میرے لئے ایک ایسے شخص کے لئے حزبِ اختلاف اور حکومت میں رہ کر کام کرنا بڑے فخر کی بات رہی ہے جنہیں تاریخ بڑی تبدیلیاں لانے والا ایک عظیم وزیراعظم کی حیثیت سے جانے گی۔‘
کیمپبل نے کہا کہ ان کے خاندان نے ان کے کام کے لئے بڑی قیمت ادا کی ہے اور یہ کہ ان کی ساتھی اور شیری بلیئر کی مشیر فیونا مِلر بھی کچھ ہفتوں کے اندر چلی جائیں گی۔
کیمپبل نےکہا کہ وہ کوئی اور بڑا عہدہ قبول کرنے کی بجائے اپنی ادبی مصروفیات جاری رکھیں گے۔ انہوں نے کہا کہ وہ تقریریں کرنے کے ساتھ ساتھ ریڈیو اور ٹی وی کی نشریات میں بھی بدستور شرکت کرنا چاہتے ہیں۔
وزیر اعظم بلیئر نے کیمپبل کو ’ایک بہت قابل، دلیر اور اپنے عقیدے کے تئیں وفادار اہلکار قرار دیا۔‘
ایلسٹیئر کیمپبل کے ڈرامائی استعفی کا اعلان ایک ایسے وقت کیا گیا ہے جب ہتھیاروں کے ماہر ڈاکٹر کیلی کی موت کی تحقیقات ’ہٹن اِنکوائری‘ جاری ہے۔
مسٹر کیمپبل اس کمیشن کے سامنےگزشتہ ہفتے پیش ہوئے جس میں بی بی سی کی اس رپورٹ کی تحقیقات ہو رہی ہے جس میں کہا گیا تھا کہ برطانوی حکومت نے عراق کے ہتھیاروں کے بارے میں رپورٹ کو بڑھا چڑھا کر پیش کیا۔
انہوں نے کہا کہ ’میرے گھر والوں، دوستوں اور قریبی ساتھیوں کو خبر ہے کہ میں کچھ عرصے سے حکومت کے مشیر برائے کمیونِکیشن کے عہدے کو چھوڑ نے کی سوچ رہا تھا۔‘
’میں گزشتہ موسم گرما میں ہی اپنے عہدے سے دست بردار ہونا چاہتا تھا لیکن پھر عراق کا معاملہ بڑھ گیا اور وزیر اعظم نے مجھ سے کہا کہ عراق پر حکومتی اطلاعات و روابط کی نگرانی کروں، اور میں نے خوشی سے یہ کام کیا۔‘ |
|
 |