 |
|
 |
|
| استعفیٰ دے دیتا: بلیئر |
|
برطانوی وزیر اعظم ٹونی بلیئر نے کہا ہے کہ اگر عراقی  ’میری ساکھ متاثر ہوئی ہے‘ | دستاویز کو بڑھا چڑھا کر پیش کرنے کی خبر درست ہوتی تو اس کا مطلب ان کا استعفیٰ ہوتا۔
برطانوی وزیر اعظم جمعرات کو برطانوی سائسندان ڈاکٹر ڈیوڈ کیلی کی موت کے بارے میں تحقیقات کرنے والی عدالتی انکوائری کے سامنے بیان دے رہے تھے۔
انہوں نے کہا کہ بی بی سی کی رپورٹ سے میری ساکھ متاثر ہوئی ہے اور ’اگر یہ سچی ہوتی تو اس کا مطلب ان کا استعفیٰ تھا۔‘
انہوں نے انکوائری کمیٹی کو بتایا کہ وہ اس حکمتِ عملی کی پوری ذمہ داری لیتے ہیں جس کے تحت بی بی سی کے پروگرام کے ذریعے کے طور پر ڈاکٹر کیلی کا نام میڈیا میں آیا۔
برطانوی وزیر اعظم کا بیان سننے کے لیے عوامی سطح پر زبردست دلچسپی پائی گئی اور بہت سے لوگ لندن میں عدالت کی عمارت کے باہر رات سے جمع ہونا شروع ہو گئے تھے۔
ڈاکٹر ڈیوڈ کیلی نے، جنہوں نے بی بی سی کو یہ خبر دی تھی کہ حکومت نے عراق پر حملہ کرنے کا جواز مہیا کرنے کے لیے خفیہ اداروں کی رپورٹس کو بڑھا چڑھا کر پیش کیا تھا، اپنا نام ظاہر ہونے کے بعد خودکشی کر لی تھی۔
مبصرین کے خیال میں وزیر اعظم کو اس انکوائری کے سامنے دو بڑے سوالوں کا سامنا کرنا پڑے گا۔ پہلا سوال جو ان سے متوقع طور پر پوچھا جائے گا وہ یہ ہے کہ کیا انہوں نے ڈاکٹر کیلی کا نام ظاہر کرنے میں کوئی کردار ادا کیا۔ دوسرا بڑا سوال یہ ہے کہ کیا انہوں نے خفیہ اداروں کی عراق کے بارے میں رپورٹس کے مندرجات کو تبدیل کرنے کے لیے کوئی دباؤ ڈالا تھا۔
یہ عدالتی انکوائری جو لارڈ ہٹن کی سربراہی میں قائم کی گئی تھی برطانوی وزیر دفاع جیف ہون کا بیان قلم بند کر چکی ہے۔
جیف ہون نے اپنے بیان میں ڈاکٹر کیلی کا نام ظاہر کرنے کی تمام تر ذمہ داری وزیر اعظم کے دفتر پر عائد کر دی تھی۔ انہوں نے کہا تھا کہ نمبر ٹین ڈاؤننگ اسٹریٹ کے چند اہم اہلکاروں نے وہ حکمت عملی تیار کی تھی جس کے تحت ڈاکٹر کیلی کا نام ظاہرکیا گیا۔ |
|
 |