BBCUrdu.com
  •    تکنيکي مدد
 
پاکستان
انڈیا
آس پاس
کھیل
نیٹ سائنس
فن فنکار
ویڈیو، تصاویر
آپ کی آواز
قلم اور کالم
منظرنامہ
ریڈیو
پروگرام
فریکوئنسی
ہمارے پارٹنر
ہندی
فارسی
پشتو
عربی
بنگالی
انگریزی ۔ جنوبی ایشیا
دیگر زبانیں
 
وقتِ اشاعت: Thursday, 28 August, 2003, 12:48 GMT 16:48 PST
 
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئے پرِنٹ کریں
مجھے کچھ معلوم نہیں: ہون
 
جیف ہون کو چبھتے سوالوں کا سامنا کرنا پڑا
جیف ہون کو چبھتے سوالوں کا سامنا کرنا پڑا

برطانوی سائنسداں ڈاکٹر ڈیوڈ کیلی کی موت کے سلسلے میں جاری تحقیقات میں پیش ہونے والے پہلے برطانوی وزیر، وزیر دفاع جیف ہون کو ڈاکٹر ڈیوڈ کیلی کو ’بےنقاب‘ کرنے کے سلسلے کئی کڑے اور چبھتے ہوئے سوالات کا سامنا کرنا پڑا ہے۔

وزیر دفاع جیف ہون ان چند بڑے ناموں میں سے ایک ہیں جو ڈاکٹر کیلی کی موت کے سلسلے میں ہونے والی ان تحقیقات میں بطور گواہ پیش ہوئے ہیں جو لارڈ ہٹن کی سربراہی میں کی جارہی ہیں تاکہ ڈاکٹر کیلی کی موت کے اسباب و عوامل کے بارے میں پتہ لگایا جاسکے جو بظاہر خودکشی تھی۔

ان بڑے ناموں کے گواہوں کی پیشی کی ابتداء خفیہ اداروں کے اعلیٰ ترین سرکاری افسر کے پیش ہونے سے ہوئی تھی اور یہ اس ہفتے کے اختتام پر اس وقت اپنی انتہا کو پہنچے گی جب خود وزیراعظم ٹونی بلیئر اس تحقیقاتی کمیشن کے سامنے پیش ہوکر گواہی دیں گے۔

تاہم وزیر دفاع کی حیثیت سے ایک بڑا نام ہونے کے باوجود جیف ہون کی گواہی سے کوئی خاص بات سامنے نہ آسکی۔ خود ان کے مطابق، عراق کے بارے میں سرکاری دستاویز سے متعلق اس سارے معاملے میں ان کا کردار محض ایک بے گناہ راہگیر سے زیادہ نہیں تھا۔

ان کا کہنا تھا کہ ’مجھے نہیں معلوم میں نے ان دونوں میں سے کسی دستاویز کو نہیں دیکھا۔ یہ میرے دفتر نہیں بھیجی گئی تھیں۔ یہ ویسی کوئی چیز نہیں تھی جس سے مجھے عام طور پر واسطہ پڑتا ہے۔‘

لارڈ ہٹن

ونگ کمانڈر جان کلارک نے کمیشن کو ڈاکٹر کیلی کی موت سے چند گھنٹوں قبل ہونے والی اپنی اور ڈاکٹرکیلی کی گفتگو کے بارے میں بتایا ہے۔

جان کلارک کا کہنا ہے کہ ڈاکٹر کیلی نے ان سے کہا تھا کہ وہ اس بات کو تسلیم کرتے وقت کہ وہ بی بی سی کے رپورٹر سے ملے تھے یہ ہرگز نہیں سوچ رہے تھے کہ انہیں ذرائع ابلاغ کی اس طرح کی یلغار کا سامنا کرنا پڑے گا جس کا سامنا انہیں کرنا پڑ رہا ہے۔

جان کلارک نے جو ڈاکٹر کیلی کے ساتھ وزارت دفاع میں ایک ہی دفتر میں کام کرتے تھے، بتایا کہ کیلی منتظر تھے کہ انہیں دارالعوام کی خارجہ اور خفیہ اداروں اور سلامتی سے متعلق کمیٹیوں میں پیش ہونا پڑے گا۔ تاہم سترہ جولائی تک جب، ڈاکٹر کیلی لاپتہ ہوئے اس وقت تک وہ ان کمیٹیوں میں پیش ہونے کی بنا پر پریشان ہرگز نہیں تھے۔

 
 
تازہ ترین خبریں
 
 
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئے پرِنٹ کریں
 
 

واپس اوپر
Copyright BBC
نیٹ سائنس کھیل آس پاس انڈیاپاکستان صفحہِ اول
 
منظرنامہ قلم اور کالم آپ کی آواز ویڈیو، تصاویر
 
BBC Languages >> | BBC World Service >> | BBC Weather >> | BBC Sport >> | BBC News >>  
پرائیویسی ہمارے بارے میں ہمیں لکھیئے تکنیکی مدد