|
| ||||||||||||||||||||||||||||||||||
ہٹن کمیشن کو درپیش سوالات
تحریر: طفیل احمد، بی بی سی اردو ڈاٹ کام ڈاکٹر کیلی کی موت کی تحقیات کرنے والے کمیشن کی جانب سے لگ بھگ نوہزار صفحات پر مبنی شواہد انٹرنیٹ پر شائع کیے جانے کے بعد عوام کی توجہ بی بی سی کی صحافت، وزیراعظم کے دفتر، وزیردفاع کے کردار اور خود ڈاکٹر کیلی کی ذہنی کیفیت پر مرکوز ہوئی ہے۔ کیلی کی بیوہ کے وکیل پیٹر جیکبسن نے حکومت کے وکلاء کو ایک خط لکھ کر مطالبہ کیا ہے کہ برطانوی وزارت دفاع کے حوالے سے اخبار انڈیپنڈنٹ میں شائع ہونے والی اس رپورٹ کی تفصیلات انہیں فراہم کی جائیں جس میں کہا گیا ہے کہ صحافیوں سے ڈاکٹر کیلی کے تعلقات کی تحقیقات پہلے سے ہی جاری تھی۔ کیلی کی فیملی فکرمند ہے کہ حکومت کی جانب سے کمیشن کے سامنے صرف منتخب شدہ دستاویزات ہی پیش کی جارہی ہیں۔
عوامی توقعات کے برعکس شواہد سے یہ معلوم ہوا کہ ڈاکٹر ڈیوِڈ کیلی کی برطانیہ اور امریکہ میں خفیہ اداروں تک رسائی تھی۔ ان کی ذہنی کیفیت پر روشنی اس وقت پڑی جب برطانوی سفیر ڈیوِڈ براؤشر نے کمیشن کو بتایا کہ کیلی نے ان سے ایک ملاقات کے دوران کہا تھا کہ عراق پر حملے صورت میں وہ ’جنگل میں مردہ‘ پائے جائیں گے۔ لارڈ ہٹن کمیشن اس بات کی تحقیقات کررہا ہے کہ کیلی کی موت کن حالات میں ہوئی۔ کیلی نے پولیس کے مطابق خودکشی کی تھی۔ کمیشن کے سامنے دیے جانے والے بیانات سے یہ ثابت ہوتا ہے کہ ڈاکٹر کیلی عراقی انٹیلجنس کے اہلکاروں سے عراق کو غیرمسلح کرنے کے بارے میں بات چیت کررہے تھے اور انہیں لگتا تھا کہ عراق پر حملے کی صورت میں انہیں جھوٹا سمجھا جائے گا۔ کیا ٹونی بلیئر کے مشیر السٹیئر کیمپبیل نے عراقی ہتھیاروں پر برطانوی دستاویز میں عراقی ہتھیاروں سے خطرے کو بڑھا چڑھا کر پیش کیا؟
عوامی سطح پر یہ ثابت ہوگیا ہے کہ عراقی ہتھیار پینتالیس منٹ میں حملہ کرنے کی قابلیت نہیں رکھتے تھے، لیکن یہ بات منظرعام پر آنا باقی ہے کہ کون سی بات تھی جس نے ڈاکٹر کیلی کو موت کے منہ میں دھکیل دیا۔ کیا وہ اس بات سے ذہنی طور پر پریشان تھے کہ انہیں مجبور کیا گیا کہ وہ وزارت خارجہ کی کمیٹی کے سامنے گیلیگن کی رپورٹ کی تردید کریں جیسا کہ انہوں نے کیا؟ انہیں مجبور کرنے والا کون تھا؟ اس ہفتے وزیر دفاع جیف ہون کمیشن کے سامنے بیان دیں گے۔ یہ بات بھی واضح ہوئی ہے کہ ٹونی بلیئر کا دفتر اس رپورٹ سے پریشان تھا۔ اور اس بات کا انکشاف وزیردفاع کے دفتر نے ہی کیا کہ گیلیگن کی رپورٹ کا ذریعہ کیلی ہی تھے۔ لیکن اس ہفتے کمیشن کے سامنے ٹونی بلیئر کے بیان سے کیا کوئی نئی بات ابھر کر سامنے آئے گی؟ کیا بی بی سی کے چیئر مین کوئی نئی بات کہیں گے؟ ایک ایسے وقت جب کیلی کے گھر والے پریشان ہیں کہ سرکاری اہلکار صرف منتخب شدہ شواہد منظر عام پر لارہے ہیں، کیا ہٹن کمیشن حقیقت کا انکشاف کرسکے گا؟ |
| ||||||||||||||||||||||||||||||||||
|
|
|
| BBC Languages >> BBC World Service >> BBC Weather >> BBC Sport >> BBC News >> | |
|
|
|