BBCi Home PageBBC World NewsBBC SportBBC World ServiceBBC WeatherBBC A-Z
 
 
 
 
 
 
 
 
 
 
 
 
 
 
 
 
 
 
South Asia News
BBCHindi.com
BBCPersian.com
BBCPashto.com
BBCArabic.com
BBCBengali.com
Learning English
 
 
  ہماری کھیلوں کی سائٹ
 
 
  احمد قریع، ہمہ جہت شخصیت
 
 
  کین کن میں کرنا کیا ہے؟
 
 
  شیرون کا دورۂ ہند
 
 
  ’غیرت‘ کے سات سو شکار
 
 
  قبائلی علاقوں کے بھوت اسکول
 
 
  مشرق وسطی میں طاقت کا نیا محور
 
 
  گیارہ ستمبر
آخری باتیں
 

جنگ عراق کا سچ جھوٹ
 

کراچی ساحل: زہریلی لہریں
 

موسیقی، فلم، ٹی وی ڈرامہ
 

دنیا ایک کلِک دور
 
 
 
:تازہ خبریں
 
میں غدار نہیں: مشرف
’القاعدہ اب بھی سرگرم ہے‘
اسامہ کی نئی وڈیو ٹیپ
’دراندازی بند کرائیں گے‘
سویڈش وزیر چل بسیں
جنس معلوم کرنےپرپابندی
بیمہ کمپنیاں القاعدہ پر مقدمہ کریں گی
یونان: پاکستانی ڈوب گئے
’نقشِہ راہ پر قائم ہیں‘
کراچی ساحل: پابندی برقرار
سامان میں انسان
بلوچستان: وزیر کے بھائی گرفتار
تعلقات مضبوط کرنےکی ضرورت: شیرون
لڑکا، امریکی فوجی ہلاک
بالی دھماکہ: موت کی سزا
گرینچ 18:16 - 22/08/2003
تیل پھر سے بہنا شروع
’بہنے والے تیل کی مقدار ٹنوں میں ہوسکتی ہے‘ ماہرین
’بہنے والے تیل کی مقدار ٹنوں میں ہوسکتی ہے‘ ماہرین

ادریس بختیار: بی بی سی اردو ڈاٹ کام

کراچی کے ساحل پر پھنسے تیل بردار جہاز تسمان سپرٹ سے مزید تیل بہہ کر ساحل پر جمع ہونا شروع ہو گیا ہے جس کی وجہ سے نہ صرف صفائی کا کام متاثر ہوا ہے بلکہ مقامی افراد کی مشکلات میں بھی اضافہ ہوا ہے۔

کراچی پورٹ ٹرسٹ کے حکام نے تیل بہنے کی تصدیق تو کی ہے مگر وہ یہ نہیں بتا سکے کہ تیل کتنی مقدار میں بہا ہے۔ بعض ذرائع کا کہنا ہے کہ بہنے والے تیل کی مقدار ٹنوں میں ہوسکتی ہے۔ اس کی تصدیق اس بات سے بھی ہوتی ہے کہ کلفٹن سے ڈیفنس تک ساڑھے سات کلومیٹر کی پٹی پر رہنے والے افراد نے بدبو میں اضافے کی شکایت کی ہے۔

یہ جہاز ستائیس جولائی کو یہاں پھنسا تھا اور ایک ہفتہ قبل ٹوٹ گیا تھا جس کے بعد اس میں سے کوئی بیس ہزار ٹن تیل بہہ کر ساحل پر آگیا تھا جس سے ساحل بری طرح متاثر ہوا ہے۔

کے پی ٹی کے حکام کا کہنا ہے کہ جہاز سے تیل منتقل کرنے کا کام دوسرے دن یعنی جمعہ کو بھی نہیں ہوسکا کیونکہ موسم خراب ہے اور جہاز زیادہ حرکت میں ہے۔ تین بار یہ کوششیں ناکام ہوچکی ہیں۔

اسی حرکت کے باعث حکام کے بقول تیل دوبارہ سمندر میں بہنا شروع ہوگیا۔ ساحل کی صفائی کا کام بھی سست رفتاری سے جاری ہے کیونکہ ماہرین کا کہنا ہے کہ جب تک جہاز خالی نہ ہوجائے صفائی کرنے کا کوئی فائدہ نہیں۔

شہری حکومت نے صفائی کا کام اپنے ذمہ لیا ہے اور کچرا اب کراچی شہر سے دور دو مختلف مقامات پر پھینکا جا ئے گا کیونکہ ڈیفنس اتھارٹی نے اپنے علاقے میں کچرا پھینکنے کی اجازت نہیں دی ہے۔
 
 

 urdu@bbc.co.uk
 
 
 
 < عالمی خبریں 43 زبانوں میںواپس اوپر ^^ BBC Copyright