 |
|
 |
|
| ’دوسروں کو ساتھ ملائیں‘ |

امریکہ اور برطانیہ کو اختیارات کی تقسیم قبول نہیں
|
اقوامِ متحدہ کے سیکریٹری جنرل کوفی عنان نےکہا ہے کہ عراق میں وسیع بین الاقوامی کردار کا انحصار اس بات پر ہے کہ امریکہ اور برطانیہ فیصلہ سازی میں دوسرے ممالک کو کتنا حصہ دار بناتے ہیں۔
انہوں نے کہا کہ فیصلہ سازی میں شریک بنائے بغیر امریکہ اور برطانیہ ان ممالک کو عراق میں فوجیں بھیجنے پر راضی نہیں کر سکیں گے۔
انہوں نے یہ بیان برطانوی وزیر خارجہ جیک سٹرا کے ساتھ نیویارک میں ایک ملاقات کے بعد دیا۔
امریکہ اور برطانیہ اقوام متحدہ کی سلامتی کونسل سے عراق کے بارے میں ایک ایسی نئی قرار داد منظور کرانے کے لیے کوشاں ہیں جو عراق میں دوسرے ملکوں کی افواج کی تعیناتی کے لئے راہ ہموار کرے گی۔
برطانوی وزیر خارجہ جیک سٹرا کا نیویار ک کا دورہ اسی سلسلے کی ایک کڑی ہے۔ مسٹر جیک سٹرا نے ملاقات کے بعد کہا کہ عراق میں امن و امان کی بحالی پوری دنیا کے حق میں بہتر ہے۔
دوسری طرف فرانس نے غیر ملکی فوج کی عراق بھیجے جانے کی تجویز کے بارے میں تحفظات کا اظہار کیا ہے۔ فرانسیسی وزیر خارجہ ڈومینک دویلپاں نے کہا ہے کہ تمام فریقوں کو عراق میں مداخلت کے مسئلے پر نظرثانی کرنا چاہیے اور عراق کی حاکمیت اعلیٰ کو تسلیم کرناچاہیے۔
فرانس، روس اور جرمنی پہلے ہی کہہ چکے ہیں کہ اگر امریکہ عراق میں دیگر ممالک کی فوج تعینات کرنا چاہتا ہے تو اسے دیگر ممالک کو بھی اختیارات دینا ہوں گے۔
یہ ممالک پہلے بھی عراق کے معاملے میں اقوامِ متحدہ کے مرکزی کردار کا مطالبہ کرتے رہے ہیں۔ ان ممالک کا کہنا ہے کہ بغداد میں اقوامِ متحدہ کے صدر دفتر پر تباہ کن حملے کے بعد اختیارات کی تقسیم ضروری ہے تاکہ وہاں امن و امان قائم کیاجاسکے۔ |
|
 |