 |
|
 |
|
| یاسر حمید: پاکستانی کرکٹ کا نیا ستارہ |
|
تحریر: طفیل احمد، بی بی سی اردو ڈاٹ کام
اپنے کیریئر کے پہلے ٹیسٹ میچ میں پچیس چوکوں کی مدد  اکیس اگست: یاسر حمید | سے ایک سوستر رن بناکر یاسر حمید نے نہ صرف پاکستانی کرکٹ میں ایک سنسنی پھیلا دی ہے بلکہ بین الاقوامی سطح پر شائقین محو حیرت ہیں کہ دنیائے کرکٹ کے افق پر اچانک ابھرنے والا یہ نوجوان کون ہے۔
یاسر حمید سے قبل کسی پاکستانی کھلاڑی نے اپنے پہلے ٹیسٹ میں ایک سو ستر رن نہیں بنائے ہیں۔ اس سے پہلے خالد عباداللہ نے اپنے پہلے ٹیسٹ میں سب سے زیادہ ایک سو چھیاسٹھ رن بنانے کا ریکارڈ قائم کیا تھا جبکہ اپنے پہلے ٹیسٹ میں جاوید میانداد نے ایک سو ترسٹھ رن بنائے تھے۔
اکیس اگست کو بنگلہ دیش کے خلاف کراچی کے نیشنل اسٹیڈیم میں اپنے پہلے ٹیسٹ میچ میں شاندار کھیل کا مظاہرہ کرنے والے یاسر حمید پچیس فروری انیس سو اٹھہتر کو پاکستان کے شہر پشاور میں پیدا ہوئے۔
پچیس سالہ یاسر حمید نے، جو پاکستان انٹرنیشنل ایئرلائنز کے لئے کھیلتے رہے ہیں، ایک روزہ بین الاقوامی کرکٹ میں اسی سال ہی قدم رکھا ہے۔ انہوں نے اپنا پہلا بین الاقوامی ایک روزہ میچ نیوزی لینڈ کے خلاف گزشتہ مئی میں کھیلا تھا۔ اب تک انہوں نے پانچ ایک روزہ میچ کھیلے ہیں جن میں وہ صرف اٹھائیس رن بناسکے۔
کرکٹ کے مبصر قمر احمد کا کہنا ہے کہ انہوں نے اسی سال جب یاسر حمید کو کھیلتے ہوئے دیکھا تو وہ ان کی تکنیک، توجہ اور تحمل سے کھیلنے کی صلاحیت سے بہت متاثر ہوئے۔ ان کا کہنا ہے کہ بنگلہ دیش کے کھلاڑی تو تجربہ کار نہیں ہیں لیکن یاسر حمید میں دنیا کے بہترین بالروں کے خلاف کھیلنے کی قابلیت موجود ہے۔
کراچی میں ہونے والے اسی ٹیسٹ کی دوسری انِنگز میں تئیس اگست کو یاسر حمید نے ایک اور سینچری بناکر کیریئر کے پہلے ٹیسٹ میں دو سینچریاں بنانے کا ایک اور ریکارڈ قائم کیا۔ کرکٹ کی تاریخ میں اس سے قبل صرف ویسٹ انڈیز کے لارنس رو نے تینتیس سال قبل اپنے پہلے ٹیسٹ میں دو سینچریاں بنائی ہیں۔
کراچی ٹیسٹ میچ میں اٹھارہ چوکوں کی مدد سے سنچری بنانے والے یاسر حمید آٹھویں پاکستانی کرکٹر بن گئے ہیں جنہوں نے اپنے پہلے ٹیسٹ میچ میں سنچری بنانے کا ریکارڈ قائم کیا ہے۔ اس سے قبل اپنے پہلے ٹیسٹ میں سینچری بنانے والوں میں خالد عباداللہ، جاوید میانداد، سلیم ملک، محمد وسیم، علی نقوی، اظہر محمود اور توفیق عمر شامل ہیں۔ یاسر حمید پوری دنیا میں اپنے پہلے ٹیسٹ میں سینچری بنانے والے چھہترویں کھلاڑی بن گئے ہیں۔
کراچی کے میدان میں ہی جب ایک سو ستر رن بناکر یاسر حمید آؤٹ ہوئے تو انہوں نے اپنی بہتر کارکردگی اپنے والد کی نذر کی۔
پاکستان میں یاسر حمید نے کراچی کے نیشنل اسٹیڈیم میں ہی گزشتہ فروری میں قائد اعظم ٹرافی کے لئے کھیلتے ہوئے دو سینچریاں بنائی تھیں جس کے بعد پاکستانی کرکٹ کے حکام ان کی طرف امید کی نظر سے دیکھنے لگے تھے۔ بنگلہ دیش کے خلاف کھیلنے کے لئے جب پاکستانی سیلیکٹرز نے ان کا انتخاب کیا تو شاید ان کے وہم و گمان میں بھی نہیں ہوگا کہ یہ پچیس سالہ نوجوان دنیائے کرکٹ کی توجہ کا مرکز بن جائے گا۔ |
|
 |