BBCUrdu.com
  •    تکنيکي مدد
 
پاکستان
انڈیا
آس پاس
کھیل
نیٹ سائنس
فن فنکار
ویڈیو، تصاویر
آپ کی آواز
قلم اور کالم
منظرنامہ
ریڈیو
پروگرام
فریکوئنسی
ہمارے پارٹنر
ہندی
فارسی
پشتو
عربی
بنگالی
انگریزی ۔ جنوبی ایشیا
دیگر زبانیں
 
وقتِ اشاعت: Friday, 22 August, 2003, 17:22 GMT 21:22 PST
 
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئے پرِنٹ کریں
تیل نے دھندا مندا کر دیا
 
مکڈونلڈ
عام طور پر مصروف مکڈونلڈ ویران پڑا ہے

تحریر: محمد ارسلان، کراچی

’نہ کھانے کے پیسے ہیں نہ گاؤں واپس جانے کے۔‘

کراچی میں کلفٹن کے ساحل پر یومیہ اُجرت پرکام کرنے والا محمد شفیع اپنی غربت اور بیچارگی بیان کرتا ہے۔

وہ ساحل سے قریب ہی ایک جھونپڑی میں رہتا ہے اور ساحل پر واقع ایک ہوٹل میں یومیہ اُجرت پرکام کرتا ہے۔

کراچی کے ساحل پر تسمان سپرٹ نامی جہاز پھنس جانے اور جہاز سے ہزاروں ٹن خام تیل بہنے کے بعد ساحل آلودہ ہوگیا ہے۔ ساحل کی کئی کلومیٹر پٹی پر واقع تمام ہوٹل بند ہوگئے ہیں جس میں نامی گرامی ہوٹل، بین الاقوامی فوڈ چین کی شاخیں اور فٹ پاتھ پر تخت بچھاکر لوگوں کو کھانا کھلانے والے مقامی ہوٹل بھی شامل ہیں۔ اب اس جگہ پر ساحل یہاں تفریح کے غرض سے آنے والے تمام افراد کے لئے بند کردیا گیا ہے ۔

کلفٹن کے ساحل پر واقع ولیج ریستوران کے مینجر ربانی محبوب کا کہنا ہے کہ ’ہمیں صرف پانچ، چھ دنوں میں تقریباً دس لاکھ روپے کا نقصان ہوا ہے۔ یہ پیسے ہمیں کون دیگا اور ہمارا نقصان کیسے پورا ہوگا ہمیں اس کا کوئی اندازہ نہیں‘۔

انہوں نے مزید کہا ہے کہ ’ساحل کو جب تک پوری طرح صاف نہیں کر دیا جاتا اور یہاں سے بدبو آنا بند نہیں ہوجاتی اس وقت تک ہم اپنا ہوٹل دوبارہ نہیں کھول سکتے اور ویسے بھی اس آلودہ ساحل پر لوگوں کو کھانا کھلانا ایک غیر انسانی رویہ ہے‘۔

کچھ ایسا ہی حال کلفٹن کے ساحل پرموجود دوسرے ریستورانوں کا بھی ہے جہاں دن بھر میں ہزاروں افراد تفریح کی غرض سے آتے تھے۔

خالی بینچ اور خالی بیچ

تیرہ اگست کو جب تسمان اسپرٹ جہاز سے خام تیل تیزی سے نکلنا شروع ہوا تو اس جگہ اتنی بدبو تھی کہ ساحل پرتفریح تو دور کی بات سانس لینا بھی دشوار تھا۔ اس وجہ سے تمام ہوٹلوں کو انتظامیہ نے بند کروادیا اور ساحل آنے پر پابندی لگا دی گئی تھی۔

آگے جانا منع ہے

’ساحل پر چھ سات ٹینٹ لگانے یا دس بیس لوگوں سے صفائی کرانے سے کام نہیں چلے گا اور انتظامیہ غفلت برت رہی ہے۔ ہمیں تو یہاں رہنے میں جتنی دشواری ہے اس کا تو کچھ پوچھیں ہی نہیں۔‘

ساحل پر تیل کے ساتھ ایک بڑی تعداد میں مری ہوئی مچھلیاں اور کچھوے آگئے ہیں جبکہ صفائی کا کام جاری ہے۔ ماہرین کا کہنا ہے کہ ساحل اگر ستمبر کے آخر تک بھی کھل جائے تو یہ ایک بڑی بات ہوگی۔ اس لحاظ سے اس کے بعد ہی ساحل پر واقع ریستورانوں کا کاروبار دوبارہ شروع ہوسکے گا۔ دوسری طرف گورنمنٹ کی طرف سے سی فوڈ مثلاً مچھلی اور جھینگے کا استعمال ترک کرنے کے اعلان کے بعد شہر میں موجود بڑی تعداد میں ریستورانوں کو یومیہ لاکھوں روپے کا خسارہ ہو رہا ہے۔

 
 
تازہ ترین خبریں
 
 
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئے پرِنٹ کریں
 
 

واپس اوپر
Copyright BBC
نیٹ سائنس کھیل آس پاس انڈیاپاکستان صفحہِ اول
 
منظرنامہ قلم اور کالم آپ کی آواز ویڈیو، تصاویر
 
BBC Languages >> | BBC World Service >> | BBC Weather >> | BBC Sport >> | BBC News >>  
پرائیویسی ہمارے بارے میں ہمیں لکھیئے تکنیکی مدد