|
| ||||||||||||||||||||||||||||||||||
تیل کرے گا کیا؟
کراچی کے ساحل پر ایک یونانی تیل بردار جہاز کی غرقابی اور اس سے ٹنوں تیل بہہ جانے نے سمندری حادثے کے بعد لمبے عرصے تک ہونے والے نقصان کے بارے میں بحث ایک مرتبہ پھر چھیڑ دی ہے۔
کچھ سائنسدانوں کے بقول ایک دہائی قبل الاسکا میں ایکسن والدیز سے بہہ جانے والے تیل کے اثرات ابھی تک سامنے آ رہے ہیں۔ اگرچہ یہ دنیا میں تیل کے سمندر میں بہہ جانے کا سب سے بڑا واقعہ نہیں تھا پھر بھی اسے ماحولیاتی آلودگی کا سب سے بڑا حادثہ کہا جاتا ہے۔ ایکسن والدیز ٹینکر انیس سو نواسی میں سمندر میں پھنس گیا تھا اور اس سے تقریباً بیالیس ملین لیٹر خام تیل سمندر میں بہہ گیا تھا۔ کچھ اندازوں کے مطابق تیل کے بہہ جانے سے دو لاکھ پچاس ہزار سمندری پرندے، دو ہزار آٹھ سو سمندری لدھڑ، دو سو پچاس گنجے عقاب اور بائیس بڑی وہیل مچھلیاں مر گیئں جبکہ لاکھوں کی تعداد میں مچھلیوں کے انڈے ضائع ہوئے۔ انسانی کوششوں اور قدرتی نظام سے اگرچہ کافی حد تک تیل صاف ہوا لیکن بعض جگہیں ابھی تک ایسی ہیں جہاں تیل پانی کی تہہ میں جم چکا ہے۔ کچھ سائنسدانوں کا خیال ہے کہ کہ اس بات کا اندازہ لگانا مشکل ہے کہ الاسکا میں تیل کے بہہ جانے سے کیا نقصان ہوا اور قدرتی تبدیلیوں سے کتنا۔ تاہم دوسرے مکتبۂ فکر کے مطابق تیل کے بہہ جانے کے اثرات کا تعلق تیل کی قسم، موسم اور ساحل پر ہے۔ پہاڑی ساحل سے تیل صاف کرنا آسان ہے نسبتاً دلدل نما علاقے سے اور سرد علاقوں میں تو یہ زیادہ عرصے تک رہتا ہے۔ شاید یہی بات کراچی کے حق میں بہتر ہے کیونکہ اس کا نسبتاً گرم موسم تیل کو بخارات بنا کر ہوا میں اڑانے میں مددگار ثابت ہو سکتا۔ اگر کراچی میں سردی ذرا تاخیر سے آئے تو یہ اس کے ساحل کے لئے اور بھی بہتر ہو گا۔ |
| ||||||||||||||||||||||||||||||||||
|
|
|
| BBC Languages >> BBC World Service >> BBC Weather >> BBC Sport >> BBC News >> | |
|
|
|