|
| ||||||||||||||||||||||||||||||||||
جنگ اور حفاظت کا ٹھیکہ
تحریر: طفیل احمد، بی بی سی اردو ڈاٹ کام صدام حسین کی برطرفی اور طالبان کے زوال کے بعد عالمی سطح پر سیکیورٹی فراہم کرنے والی پرائیوٹ کمپنیوں کے لئے عراق اور افغانستان کاروبار کے مواقع کے طور پر ابھر کر آئے ہیں۔ پرائیوٹ کمپنیاں پہلے بھی کئی ملکوں میں سیکیورٹی فراہم کرنے کے کاروبار میں سرگرم تھیں لیکن ان کے بارے میں عام طور پر اطلاعات کا فقدان رہا ہے۔ کنٹرول رِسک گروپ، آرمر گروپ، ڈی وائی این کارپوریشن، ایم پی آر آئی چند ایسی کمپنیاں ہیں جن کے نام حالیہ دنوں میں سننے میں آئے ہیں۔ لندن کی جانوسیُن سیکیورٹی رِسک مینجمنٹ لمیٹیڈ بھی ایک ایسی ہی کمپنی ہے جو سترہ اپریل سے عراق میں سرگرم ہے۔ جانوسیُن کے مینیجنگ ڈائرکٹر ڈیوِڈ کلاریج نے بی بی سی اردو ڈاٹ کام سے بات کرتے ہوئے کہا کہ ان کی کمپنی عراق میں نجی تجارتی کمپنیوں کے عملے کو تحفظ فراہم کرتی ہے اور ان کے لئے تجارتی اور مقامی نوعیت کے دیگر انٹیلیجنس فراہم کرنے کا کام کرتی ہے۔
کلاریج برطانیہ کی کمپنی تھورن لائٹِنگ کی مثال دیتے ہیں جسے عراق میں امریکی انتظامیہ نے بجلی کے بلب لگانے کے ٹھیکے دیے ہیں۔ لیکن اس طرح کے کام کے لئے عراق میں امریکی انتظامیہ نے سب سے بڑا ٹھیکہ امریکی کمپنی بیکٹیل کو دیا ہے۔ برطانیہ اور امریکہ میں نجی ملٹری کمپنیوں پر کوئی پابندی نہیں ہے لیکن جنوبی افریقہ جیسے بعض ممالک میں اس طرح کی کمپنیوں پر مکمل پابندی ہے۔ کلاریج کا کہنا ہے کہ برطانیہ میں موجود ایسی کمپنیوں کے لئے دوسرے ملکوں میں کام کرنے پر کوئی پابندی نہیں ہے۔ یہاں اس بات کی نشاندہی ضروری ہوگی کہ امریکی کمپنی ڈی وائی این کارپوریشن کا نام گزشتہ برس اس وقت منظرعام پر آیا تھا جب امریکی فوج نے افغانستان کے صدر حامد کرزئی کی حفاظت کا ٹھیکہ اسے دیا تھا۔ امریکی فوج نے یہ فیصلہ شاید اس لئے کیا تھا کہ حامد کرزئی پر ممکنہ حملوں کے مدنظر امریکی فوجیوں کی جان کو خطرہ تھا۔ اب عراق میں صدام حسین کے وفاداروں کی جانب سے تیل اور پانی کی پائپ لائنوں پر کیے جانے والے حملوں سے نمٹنے کیلئے عراق کی امریکی انتظامیہ نے جنوبی افریقہ کی ایک نجی کمپنی ایرینِس کی خدمات حاصل کی ہے۔ ایرینِس کو عراق سے ترکی جانے والی تیل پائپ لائن کے تحفظ کے لئے ساڑھے چھ ہزار محافظوں کی تقرری کا ٹھیکہ دیا گیا ہے۔ اسی طرح امریکہ کی آرمر گروپ کئی برسوں سے کولمبیا اور مغربی افریقہ کے ممالک میں تیل کی پائپ لائنوں کے تحفظ کا کام کرتی ہے۔ یہ بات بھی قابل ذکر ہے کہ امریکی حکومت نے ایک قانون کے تحت عراق میں امریکی کمپنیوں کو مکمل تحفظ فراہم کیا ہے۔ اس قانون کے تحت اگر ان کمپنیوں کے ہاتھ عراقی عوام کی جان یا املاک کو نقصان پہنچتا ہے تو ان پر مقدمہ نہیں چلایا جاسکے گا۔ برطانوی کمپنی جانوسین کے کلاریج کا کہنا ہے کہ مشکل یہی ہے کہ فوجی نوعیت کا کاروبار کرنے والی ان کمپنیوں کے کام کا محاسبہ کرنے والا کوئی نہیں ہے۔ ممکن ہے جب وسطی ایشیا سے افغانستان کے ذریعے پاکستان تک پائپ لائن بچھائی جائے تو ایسی ہی کسی نجی کمپنی کو اس کی حفاظت کی ذمہ داری سونپ دی جائے۔ ذرائع ابلاغ میں شائع ہونے والی خبروں سے تو یہ واضح نہیں ہوتا کہ یہ کمپنیاں کتنا منافع کماتی ہیں تاہم اتنا ضرور کہا جاسکتا ہے کہ یہ کروڑوں ڈاکل کا کاروبار ہے۔ |
| ||||||||||||||||||||||||||||||||||
|
|
|
| BBC Languages >> BBC World Service >> BBC Weather >> BBC Sport >> BBC News >> | |
|
|
|