|
| ||||||||||||||||||||||||||||||||||
طغیانی: صفائی میں رکاوٹ
کراچی کی بندرگاہ پر جہاں پھنس کر دو ٹکڑوں میں ٹوٹ جانے والے ایک یونانی بحری جہاز سے بہنے والے تیل کی صفائی کا کام ابھی جاری ہے اتوار کو سمندر میں آنے والی طغیانی کی بنا پر حکام کو تیل کی صفائی میں مجبوراً تاخیر کرنی پڑی ہے۔ کراچی پورٹ ٹرسٹ کے جنرل مینیجر بریگیڈیئر افتخار ارشد نے فرانسیسی خبر رساں ادارے اے ایف پی کو بتایا کہ ’ہم نے اپنے بھاری آلات و ساز و سامان تو نصب کردیئے ہیں مگر اب ہم سمندر میں آئی ہوئی طغیانی میں کمی کا انتظار کررہے ہیں تاکہ ٹکڑے ہوجانے والے جہاز پر لدے ہوئے ان ٹینکوں سے، جو اب تک محفوظ اور تیل سے بھرے ہیں، تیل کی منتقلی کا کام شروع کرسکیں۔‘ تاسمین اسپرٹ نامی اس یونانی بحری جہاز سے تقریباً بارہ ہزار ٹن تیل، اس جہاز کے ٹکڑے ہوجانے کی بنا پر سمندر میں بہہ گیا تھا۔ جہاز پر لدا تقریباً بیس ہزار ٹن تیل بدھ کو اس وقت تک جہاز سے منتقل کردیا گیا تھا جب یہ جہاز ٹکڑوں میں ٹوٹنا شروع ہوا تھا۔ کراچی پورٹ ٹرسٹ کے چیئرمین احمد حیات کا کہنا ہے کہ جہاز سے تیل کی منتقلی کے کام میں تقریباً چھتیس گھنٹے درکار ہوں گے لیکن یہ کام تقریباً دس دن میں مکمل ہوگا۔ اتوار کی سہ پہر تک سنگاپور کے ایک سی ون تھرٹی (سی۔ ایک سو تیس) ساختہ ہوائی جہاز سے اس متاثرہ سمندری علاقے میں کیمیائی مادوں کے فضائی چھرکاؤ کا کام دوبارہ شروع کردیا گیا ہے۔ کراچی پورٹ ٹرسٹ کے چیئرمین احمد حیات کا کہنا ہے کہ تقریباً ساٹھ ہزار لیٹر کیمیائی مادے جمعہ سے اب تک فضا سے چھڑکے جاچکے ہیں۔ ساحلی علاقوں کے امور کے ماہر ڈاکٹر طاہر قریشی کا کہنا ہے کہ حکام کو صورتحال پر اب قابو پالینا چاہیے ورنہ آبی حیات کو پہنچنے والا نقصان ناقابل تلافی ہوسکتا ہے۔ ساحلی علاقے اور اس کے آس پاس رہنے والے لوگوں نے فضاء میں موجود آلودگی کی بنا پر سانس لینےمیں شدید دشواری کی شکایات کی ہیں۔ حکام نے جہاز کے پچیس رکنی اس عملے کو جس نے جہاز کو منگل کو چھوڑ دیا تھا حکم دیا ہے کہ وہ تحقیقات مکمل ہونے تک کراچی چھوڑ کر نہیں جاسکتے۔ اس عملے میں پانچ یونانی اور بیس فلپائنی باشندے شامل ہیں۔ |
| ||||||||||||||||||||||||||||||||||
|
|
|
| BBC Languages >> BBC World Service >> BBC Weather >> BBC Sport >> BBC News >> | |
|
|
|