BBCUrdu.com
  •    تکنيکي مدد
 
پاکستان
انڈیا
آس پاس
کھیل
نیٹ سائنس
فن فنکار
ویڈیو، تصاویر
آپ کی آواز
قلم اور کالم
منظرنامہ
ریڈیو
پروگرام
فریکوئنسی
ہمارے پارٹنر
ہندی
فارسی
پشتو
عربی
بنگالی
انگریزی ۔ جنوبی ایشیا
دیگر زبانیں
 
وقتِ اشاعت: Saturday, 16 August, 2003, 09:29 GMT 13:29 PST
 
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئے پرِنٹ کریں
ٹینکر کےمالکان پر دولاکھ ڈالر کا جرمانہ
 
ٹینکر کے ٹوٹنے سے ساحل کا پانی تیل میں تبدیل ہوگیا
ٹینکر کے ٹوٹنے سے ساحل کا پانی تیل میں تبدیل ہوگیا

پاکستان میں حکام کا کہنا ہے کہ وہ کراچی بندرگاہ پر ٹوٹنے والے یونانی تیل بردار جہاز کے مالکان کو جرمانہ کرنے والے ہیں۔ اس جہاز کو پاکستان نیشنل شپِنگ کارپوریشن نے سڑسٹھ ہزار ٹن خام تیل کراچی لانے کیلئے کرایہ پر لیا تھا۔

کراچی پورٹ ٹرسٹ کے سربراہ نے کہا ہے کہ یونانی جہاز کے مالکان کو دو لاکھ ڈالر کا جرمانہ کیا جائے گا۔ پاکستانی حکام نے دعویٰ کیا ہے کہ اس جہاز سے تیل کا رِسنا اب بند ہوگیا ہے۔

کراچی سے بی سی سی کے نامہ نگار پال اینڈرسن کے مطابق ماہرین کہتے ہیں کہ ٹوٹے ہوئے جہاز سے جس میں تقریباً ستر ہزار ٹن تیل تھا، دس ہزار ٹن کے قریب تیل پانی میں بہہ چکا ہے اور خطرہ ہے کہ جہاز کے مکمل ٹوٹ جانے کی صورت میں سمندری راستوں میں رکاوٹیں پیدا ہو جائیں گی۔ جہاز سے تقریباً بیس ہزار ٹن تیل بچا کر محفوظ مقام پر پہنچا دیا گیا ہے۔ اس وقت جہاز پر چالیس ہزار ٹن تیل موجود ہے۔

کراچی پورٹ ٹرسٹ کے چیئرمین احمد حیات کا کہنا ہے کہ ماحولیاتی آلودگی پھیلانے پر جہاز کے مالکان کو جرمانہ کیا جائے گا جبکہ جہاز ران کمپنی اور اس کی انشورنس کرنے والوں کو دیگر اخراجات برداشت کرنے ہوں گے۔

ٹرسٹ کا کہنا ہے کہ جہاز سے تیل رسنا بند ہو گیا ہے لیکن انہیں اس بات کی تشویش ہے کہ اگر جہاز کے ٹوٹنے والے حصے بہتے ہوئے کراچی کے سمندری راستوں میں آگئے اور ان کی وجہ سے وہاں رکاوٹیں پیدا ہوگئیں تو صورتِ حال مذید خراب ہو سکتی ہے۔

غیرسرکاری تنظیم پاکستان ورلڈ وائڈ فنڈ کے ڈپٹی ڈائرکٹر جنرل ڈاکٹر اعجاز احمد نے بی بی سی سے بات کرتے ہوئے کہا کہ وہ متاثرہ ساحلی علاقے کی نگرانی کررہے ہیں اور نقصان کا اندازہ لگانے کی کوشش کی جارہی ہے۔

اعجاز احمد کا کہنا ہے کہ اس جہاز پر تین ٹینکروں میں خام تیل تھے جس میں سے دو ٹینکر ٹوٹنے سے محفوظ ہیں اور امید ہے کہ بیرون ملک سے ملنے والی امداد سے حالات پر قابو پانا ممکن ہوگا۔

ماحولیات کا دفاع کرنے والی تنظیموں کا کہنا ہے کہ کراچی کے ساحل پر سمندری نباتات اور مخلوقات کا خام تیل کے پانی میں پھیلنے سے وسیع پیمانے پر نقصان ہوگا۔

 
 
تازہ ترین خبریں
 
 
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئے پرِنٹ کریں
 
 

واپس اوپر
Copyright BBC
نیٹ سائنس کھیل آس پاس انڈیاپاکستان صفحہِ اول
 
منظرنامہ قلم اور کالم آپ کی آواز ویڈیو، تصاویر
 
BBC Languages >> | BBC World Service >> | BBC Weather >> | BBC Sport >> | BBC News >>  
پرائیویسی ہمارے بارے میں ہمیں لکھیئے تکنیکی مدد