BBCUrdu.com
  •    تکنيکي مدد
 
پاکستان
انڈیا
آس پاس
کھیل
نیٹ سائنس
فن فنکار
ویڈیو، تصاویر
آپ کی آواز
قلم اور کالم
منظرنامہ
ریڈیو
پروگرام
فریکوئنسی
ہمارے پارٹنر
ہندی
فارسی
پشتو
عربی
بنگالی
انگریزی ۔ جنوبی ایشیا
دیگر زبانیں
 
وقتِ اشاعت: Saturday, 16 August, 2003, 12:45 GMT 16:45 PST
 
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئے پرِنٹ کریں
ہونہارنوجوان سے ’افریقہ کے قصائی‘ تک
 
عیدی امین: انیس سو پچیس تا دو ہزار تین
عیدی امین: انیس سو پچیس تا دو ہزار تین

تحریر: طفیل احمد، بی بی سی اردو ڈاٹ کام

یوگنڈا کے سابق حکمران عیدی امین جو سعودی عرب میں اٹھہتر یا اسُی سال کی عمر میں انتقال کرگئے، براعظم افریقہ میں اپنے آمرانہ دور اقتدار کے لئےیاد رکھے جائیں گے۔ عیدی امین کے آٹھ سالہ دور میں کم از کم تین لاکھ افراد ہلاک کردیے گئے جنہیں وہ اپنا سیاسی مخالف سمجھتے تھے۔

ان کے ظالمانہ کردار کی وجہ سے انہیں افریقہ کا قصائی بھی کہا گیا۔ ان کے مخالفین کو قتل کرکے ملک کی لیک وِکٹوریہ نامی جھیل میں مگرمچھوں کو کھانے کے لئے ڈال دیا گیا۔ بعض اوقات ان لاشوں کو دریائے نیل میں پھینک دیا گیا، اور بعض دشمنوں کے سروں کو انہوں نے اپنے فریج میں بچاکر رکھا۔

لیکن انیس سو بہتر میں عیدی امین کے ایک فیصلے کے تحت لاکھوں ایشیائی نژاد باشنوں کو یوگنڈا سے ملک بدر کردیا گیا۔ آج برطانیہ میں جتنے بھی گجراتی موجود ہیں، وہ یوگنڈا سے ہی بھاگ کر آئے تھے۔ عیدی امین کا الزام تھا کہ ایشیائیوں نے ملک کی معیشت پر کنٹرول حاصل کرلیا تھا۔ بعد میں برطانوی سامراج کے خلاف ان کے موقف کی وجہ سے یوگنڈا کے شہریوں میں انہیں مقبولیت بھی ملی۔

عیدی امین نے انیس سو اکاون میں یوگنڈا کے ہیوی ویٹ چیمپئن کا خطاب بھی حاصل کیا۔ انہیں اشتعال انگیز بیان بازی کے لئے بھی جانا جائے جاگا۔ انہوں نے برطانوی فوج میں اپنی بہتر کارکردگی کے لئے خود کو وِکٹوریہ کراس کا اعزاز دیا، شمالی آئرلینڈ کے مسئلے کے حل کے لئے امن مذاکرات کار بننے کی خواہش ظاہر کی، خود کو برطانوی سامراج کا فاتح قرار دیا، اور یہ بھی کہا کہ انہیں، نہ کہ ملکۂ برطانیہ کو دولت مشترکہ کانفرنس کا سربراہ ہونا چاہئے۔

 یوگنڈا سے نکالےگئے ایشیائی

لیکن دوسرے ہی دن ایک مسافر، پچہتر سالہ خاتون جس کے پاس برطانوی اور اسرائیلی شہریت تھی، غائب ہوگئی جس کے لئے عیدی امین کو ذمہ دار ٹھہرایا جاتا ہے۔ برطانیہ نے یوگنڈا سے اپنے تعلقات منقطع کرلیے۔ عیدی امین کے دور میں کلیسائے چرچ کے ایک پادری ڈاکٹر جنانی لووم کو ہلاک کردیا گیا۔

عیدی امین اور تنزانیہ کے تعلقات اچھے نہیں تھے جس کی وجہ سے گیارہ اپریل انیس سو اناسی کو تنزانیہ کی فوج نے ایک کارروائی کرکے انہیں اقتدار سے برطرف کردیا جس کے بعد انہوں نے لیبیا اور عراق میں عارضی پناہ لی، لیکن وہ جلد ہی سعود عرب جاکر بس گئے۔ وہ ایک نومسلم تھے، ان کی پانچ بیویاں اور تینتیس بچے ہیں۔

اگرچہ ان کی صحیح تاریخ پیدائش معلوم نہیں ہے لیکن خیال کیا جاتا ہے کہ وہ انیس سو پچیس میں یوگنڈا میں دریائے نیل کے علاقے کے ایک چھوٹے سے گاؤں میں پیدا ہوئے تھے۔ وہ اٹھارہ جولائی سے جدہ کے ایک اسپتال میں کوما میں تھے جہاں وہ سولہ اگست کو انتقال کرگئے۔

دنیا انہیں کیسے یاد رکھے؟ کیا ان کی آسان موت نے ایسے آمر حکمرانوں کے خلاف مقدمہ نہ چلاسکنے کی بین الاقوامی برادری کی مجبوری کو اجاگر کردیا ہے، جیسا کہ حقوق انسانی کا دفاع کرنے والی تنظیم ایمنسٹی انٹرنیشنل کا خیال ہے؟

 
 
تازہ ترین خبریں
 
 
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئے پرِنٹ کریں
 
 

واپس اوپر
Copyright BBC
نیٹ سائنس کھیل آس پاس انڈیاپاکستان صفحہِ اول
 
منظرنامہ قلم اور کالم آپ کی آواز ویڈیو، تصاویر
 
BBC Languages >> | BBC World Service >> | BBC Weather >> | BBC Sport >> | BBC News >>  
پرائیویسی ہمارے بارے میں ہمیں لکھیئے تکنیکی مدد