BBCUrdu.com
  •    تکنيکي مدد
 
پاکستان
انڈیا
آس پاس
کھیل
نیٹ سائنس
فن فنکار
ویڈیو، تصاویر
آپ کی آواز
قلم اور کالم
منظرنامہ
ریڈیو
پروگرام
فریکوئنسی
ہمارے پارٹنر
ہندی
فارسی
پشتو
عربی
بنگالی
انگریزی ۔ جنوبی ایشیا
دیگر زبانیں
 
وقتِ اشاعت: Friday, 15 August, 2003, 17:04 GMT 21:04 PST
 
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئے پرِنٹ کریں
تیل کی مقدار کا معمہ
 
جہاز میں موجود تیل کے بارے میں متضاد دعوے
جہاز میں موجود تیل کے بارے میں متضاد دعوے

رپورٹ: ساجد اقبال، بی بی سی اردو ڈاٹ کام

کراچی کے ساحل کے قریب بحری جہاز کو ہونے والے حادثے کی وجہ سے سمندر میں بہہ جانے والے تیل کی صحیح مقدار ایک معمے کی شکل اختیار کرتی جارہی ہے۔

ذرائع ابلاغ شائع ہونے والی خبروں میں اس مقدار کوبارہ ہزار ٹن سے زائد بتایا جارہا ہے جبکہ کراچی پورٹ ٹرسٹ کے حکام کا اصرار ہے کہ ابھی تک سمندر میں بہہ جانے والے تیل کی مقدار اڑھائی ہزار ٹن سے زیادہ نہیں ہے۔

کراچی پورٹ ٹرسٹ کے ترجمان برگیڈیئر افتخار کے مطابق یونانی بحری جہاز میں موجود تیل کی کل مقدار ساڑھے باسٹھ ہزار تھی۔

اس سے پہلے سامنے آنے والی رپورٹوں میں کہا گیا تھا کہ جہاز میں سڑسٹھ ہزار ٹن تیل لایا جارہا تھا۔

کراچی پورٹ ٹرسٹ کے ترجمان کا کہنا ہے کہ اس میں سے بیس ہزار ٹن تیل پہلے ہی نکالا جاچکا ہے جبکہ ان کے اندازے کے مطابق چالیس ہزار ٹن خام تیل اب بھی جہاز میں موجود ہے۔

’محفوظ کئے گئے بیس ہزار ٹن تیل کے بارے میں وثوق سے کہا جاسکتا ہے کیونکہ اس تیل کو ہم نے اپنی آنکھوں سے دیکھا ہے جبکہ بہہ جانے والے یا باقی بچ جانے والے تیل کے بارے میں صرف اندازے ہی لگائے جا سکتے ہیں۔‘

’بحری جہاز میں خام تیل کھلا نہیں پڑا ہوتا بلکہ اسے عام طور پر پندرہ سے بیس چھوٹے ٹینکروں میں رکھا جاتا ہے۔ حادثے کا شکار ہونے والے جہاز میں پندرہ ٹینکر تھے۔ ان میں سے تین ٹینکروں سے جو ٹوٹنے والی جگہ کے قریب پڑے تھے تیل بہہ گیا ہے جبکہ ہمارے اندازے کے مطابق باقی اب بھی محفوظ ہیں۔‘

برگیڈیئر افتخار کے مطابق اگلے دو روز میں متاثرہ جہاز سے مزید تیل نکال کر اسے ہلکا کیا جائے گا اور بعد میں اسے باہر نکالنے کی کوشش کی جائے گی۔ انہوں نے کہا کہ اس کام میں دس سے بارہ دن تک کا عرصہ لگ سکتا ہے۔

ماحولیات کے تحفظ کے لئے کام کرنے والی تنظیمیں تیل کے بہنے کے نتیجے میں کراچی کے ساحلی علاقوں میں ایک بڑے ماحولیاتی بحران کا خدشہ ظاہر کر رہی ہیں۔

کراچی میں آئی یو سی این کے لئے کام کرنے والے ایک ماحولیاتی کارکن احمد سعید کا کہنا ہے کہ تیل کے پھیلاؤ کی وجہ سے متاثر ہونے والے علاقے میں مسلسل اضافہ ہورہا ہے۔

ان کا کہنا ہے کہ جمعرات تک صرف سولہ کلومیٹر تک کا ساحلی علاقہ تیل سے متاثر ہوا تھا جبکہ جمعہ کو تیل بیس کلو میٹر کے علاقے تک دیکھا جا سکتا تھا۔

کراچی پورٹ ٹرسٹ کے دعوؤں کے برعکس انہوں نے کہا کہ جہاز میں اب صرف تیس ہزار ٹن خام تیل موجود ہے۔

 
 
تازہ ترین خبریں
 
 
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئے پرِنٹ کریں
 
 

واپس اوپر
Copyright BBC
نیٹ سائنس کھیل آس پاس انڈیاپاکستان صفحہِ اول
 
منظرنامہ قلم اور کالم آپ کی آواز ویڈیو، تصاویر
 
BBC Languages >> | BBC World Service >> | BBC Weather >> | BBC Sport >> | BBC News >>  
پرائیویسی ہمارے بارے میں ہمیں لکھیئے تکنیکی مدد