|
| ||||||||||||||||||||||||||||||||||
جہاز سے تیل بہنا بند
کراچی پورٹ ٹرسٹ کے حکام نے دعویٰ کیا ہے کہ کراچی کے ساحل پر ٹوٹنے والے تیل بردار جہاز سے مزید تیل بہنا بند ہو گیا ہے۔ حکام کے مطابق بحریہ کے غوطہ خور جہاز کو پہنچنے والے نقصان کا جائزہ لے رہے ہیں اور ان کی رپورٹ کی روشنی میں جہاز سے تیل نکال کر اس کو ہلکا کرنے کا کام شروع کر دیا جائے گا۔ کراچی پورٹ ٹرسٹ کے چیئرمین وائس ایڈمرل احمد حیات نے جمعہ کے روز ایک اخباری کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ جو کچھ ہونا تھا ہو گیا اب مزید نقصان کا اندیشہ نہیں ہے۔ انہوں نے کہا کہ وہ خود ٹوٹنے والے جہاز کے گرد چکر لگا کر آئے ہیں اور اپنی آنکھوں سے دیکھ کر آئے ہیں کہ جہاز سے مزید تیل نہیں بہہ رہا ہے۔ کراچی میں بی بی سی کے نامہ نگار کا کہنا ہے کہ ساحل پر ٹوٹنے والے یونانی تیل بردار جہاز سے بہنے والے ہزاروں ٹن خام تیل کی صفائی کا کام شروع کردیا گیا ہے۔ اس سے پہلے کراچی پورٹ کے اہلکار بریگیڈیئر افتخار ارشد نے بتایا تھا کہ سنگاپور سے ایک خصوصی طیارہ لایا گیا ہے جو خام تیل کی وجہ سے ہونے والے نقصانات کو کم کرنے کے لئے کیمیائی مرکبات چھڑک رہا ہے۔ انہوں نے بتایا کہ یہ کیمیائی مرکبات غیررہائشی ساحلی علاقوں پر چھڑکے جارہے ہیں جبکہ کچھ علاقوں میں صفائی کا کام ملازمین خود کررہے ہیں۔
ماحولیاتی امور پر صوبائی حکومت کا کہنا ہے کہ کراچی کے ساحلی علاقوں کو شدید ماحولیاتی بحران کا خدشہ ہے جس سے سمندری حیات کے مکمل خاتمے کے ساتھ ساتھ کلفٹن کے رہائشیوں کو سخت مشکلات کا سامنا کرنا پڑ سکتا ہے۔ اس یونانی جہاز کو پاکستان نیشنل شِپنگ کارپوریشن نے سڑسٹھ ہزار ٹن خام تیل کراچی لانے کے لئے چارٹر کیا تھا۔ |
| ||||||||||||||||||||||||||||||||||
|
|
|
| BBC Languages >> BBC World Service >> BBC Weather >> BBC Sport >> BBC News >> | |
|
|
|