BBCUrdu.com
  •    تکنيکي مدد
 
پاکستان
انڈیا
آس پاس
کھیل
نیٹ سائنس
فن فنکار
ویڈیو، تصاویر
آپ کی آواز
قلم اور کالم
منظرنامہ
ریڈیو
پروگرام
فریکوئنسی
ہمارے پارٹنر
ہندی
فارسی
پشتو
عربی
بنگالی
انگریزی ۔ جنوبی ایشیا
دیگر زبانیں
 
وقتِ اشاعت: Friday, 15 August, 2003, 15:49 GMT 19:49 PST
 
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئے پرِنٹ کریں
’صحت عامہ کےبڑے مسئلہ کاخطرہ نہیں‘
 
تیل کے پھیلنے کے اثرات پہلے ہی ظاہر ہورہے ہیں
تیل کے پھیلنے کے اثرات پہلے ہی ظاہر ہورہے ہیں

رپورٹ: ساجد اقبال، بی بی سی اردو ڈاٹ کام

ماحولیات کے لئے کام کرنے والی عالمی تنظیم گرین پیس انٹرنیشنل نے کراچی کے ساحل کی قریب یونانی بحری جہاز کے ٹوٹنے اور تیل کے سمندر میں بہہ جانے کے نتیجے میں صحت عامہ کے کسی بڑے مسئلے کو خارج از امکان قرار دیا ہے۔

تیل کی وجہ سے پیدا ہونے والی آلودگی سے متعلق تنظیم کے ماہر پال ہارسمان نے بی بی سی اردو ڈاٹ کام کو بتایا کہ کراچی کے ساحلی علاقے میں پیدا ہونے والی فضائی آلودگی کی وجہ سے وہاں کے رہائشیوں کو وقتی طور پر آنکھوں اور سانس کی تکالیف کا سامنا کرنا پڑ سکتا ہے۔

لیکن، ان کے بقول ’تیل کے پھیل جانے کی وجہ سے صحت عامہ کے کسی بڑی مسئلے کے پیدا ہونے کا امکان نہیں ہے۔ تاہم انہوں نے خبر دار کیا کہ بچوں اور معمر افراد کو احتیاطی تدابیر بہر حال اختیار کرنا ہوں گی۔‘

مسٹر ہارسمان نے کہا کہ ابھی تک بہہ جانے والے تیل کی مقدار کے بارے میں متضاد اطلاعات سامنے آ رہی ہیں۔

’مختلف ذرائع سے سامنے آنے والی رپورٹوں میں یہ مقدار پانچ ہزار سے تیرہ ہزار ٹن بتائی جارہی ہے جو کہ میری رائے میں سمندر میں بہنے والے تیل کی ایک بہت بڑی مقدار ہے۔‘

لیکن انہوں نے واضح کیا کہ اگر جہاز مکمل طور پر ٹوٹ گیا اور اس میں موجود تیل کی بقیہ مقدار بھی سمندر میں بہہ گئی تو یہ اپنی نوعیت کا ایک اہم حادثہ قرار پائےگا۔

انہوں نے کہا کہ اس سے پہلے اس نوعیت کے بڑے حادثات میں سن انیس سو تہتر میں برٹنی کے قریب حادثہ قابل ذکر ہے جس میں دو لاکھ ستر ہزار ٹن تیل سمندر میں بہہ گیا تھا۔

ان کے مطابق سن انیس سو سڑسٹھ میں برطانیہ کے جنوب مغربی ساحل کے قریب ہونے والے ایک واقعے میں ایک لاکھ ٹن تیل سمندر میں بہہ گیا تھا۔اسی طرح سن انیس سو نواسی میں الاسکا کے قریب ہونے والے ایک حادثے میں اڑتیس ہزار جبکہ انیس سو ننانوے میں الیکس کے حادثے میں ستر ہزار ٹن تیل ضائع ہوا تھا۔

انہوں نے کہا کہ اس سلسلہ میں یورپ میں ہونے والا تازہ ترین حادثہ بحری جہاز پرسٹیج کا ڈوبنا تھا جس میں تیل کی ایک بڑی مقداد سمندر میں بہہ گئی تھی۔

مسٹر پال ہارسمان نے کہا کہ کراچی کے ساحلی علاقے کو ماحولیاتی بحران سے بچانے کے لئے کئے جانے والے کام میں انتہائی احتیاط کی ضرورت ہوگی۔

انہوں نے کہا کہ اس سلسلے میں مشکل یہ ہے ساحل کو ایک گلی یا سڑک کی طرح صاف نہیں کیا جا سکتا کیونکہ ساحل سمندر پر مینگرور اور دیگر چھوٹی چھوٹی چیزیں مل کر ایک انتہائی نازک ماحولیاتی نظام تشکیل دیتی ہیں اور صفائی کے مرحلے میں اس پورے نظام کے تہس نہس ہونے کا خطرہ ہوتا ہے۔

ایک سوال کے جواب میں انہوں نے کہا کہ ان کی تنظیم کراچی کے ساحل کے قریب ہونے والے حادثے پر قریبی نظر رکھے ہوئے ہے اور آّئندہ دنوں میں پیش آنے والے واقعات کو سامنے رکھ کر اپنا لائحہ عمل تشکیل دے گی۔

 
 
تازہ ترین خبریں
 
 
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئے پرِنٹ کریں
 
 

واپس اوپر
Copyright BBC
نیٹ سائنس کھیل آس پاس انڈیاپاکستان صفحہِ اول
 
منظرنامہ قلم اور کالم آپ کی آواز ویڈیو، تصاویر
 
BBC Languages >> | BBC World Service >> | BBC Weather >> | BBC Sport >> | BBC News >>  
پرائیویسی ہمارے بارے میں ہمیں لکھیئے تکنیکی مدد