|
| ||||||||||||||||||||||||||||||||||
حادثے: ماضی پر اِک نظر
ترتیب: طفیل احمد ، بی بی سی اردو ڈاٹ کام دنیا میں خام تیل اور کیمیائی مادے لے جانے والے بحری جہازوں کو پیش آنے والے حادثات اور سمندروں میں تیل بہہ جانے کے دوسرے اہم واقعات کی فہرست حسب ذیل ہے۔ ایسے واقعات میں مچھلیوں، جھینگوں، سمندری پودوں اور دوسری مخلوقات کو زیادہ نقصان پہنچتا ہے۔ چودہ اگست تین ہزار تین (پاکستان): کراچی کے ساحل پر ایک یونانی تیل بردار جہاز ٹوٹ گیا۔ اس پر سڑسٹھ ہزار ٹن خام تیل تھا جس میں سے کم سے کم بارہ ہزار سمندر میں بہہ گیا۔ چودہ اگست دو ہزار دو (پاکستان): کراچی کے ساحل پر گولڈن گیٹ نامی تیل بردار بحری جہاز کو حادثہ پیش آیا تھا تاہم تیل کا رساؤ معمولی پیمانے پر ہوا تھا۔ سن ننانوے (پاکستان): پاکستان اسٹیٹ آئل کے جہاز کا پائپ ٹوٹنے سے کچھ تیل بہہ کر سمندر کی سطح پر پھیل گیا تھا تاہم صورت حال پر جلد ہی قابو پالیا گیا تھا۔ دیگر اہم عالمی واقعات: بارہ جون دو ہزار دو (سِنگاپور): تھائی لینڈ اور سنگاپور کے دو تیل بردار جہاز ٹکرا گئے جس سے لگ بھگ ساڑھے چار سو ٹن تیل سمندر میں بہہ گیا۔ چھ اپریل دوہزار دو (امریکہ): جنوبی مشرقی لوئزینیا کے ساحل پر لگ بھگ بیاسی ہزار گیلن تیل سمندر میں بہہ گیا۔ نو فروری دو ہزار دو (نیوزی لینڈ): ایک تیل بردار جہاز جس پر سات سو ٹن خام تیل موجود تھا، جِسبورن کے ساحل سے جاٹکرا یا جس سے کافی تیل کا نقصان ہوا۔ بائیس جنوری دو ہزار دو (تھائی لینڈ): اس ہفتے پنامہ کا ایک ٹینکر ایک سمندری چٹان سے ٹکرا گیا جس کی وجہ سے ایک لاکھ لیٹر خام تیل سمندر میں بہہ گیا۔ اکیس نومبر دو ہزار ایک (جرمنی): کیمیائی مادہ لے جانے والا ایک ٹینکر ڈوب گیا جس کی وجہ سے دو ہزار نائٹرِک ایسِڈ دریائے رائن میں بہہ گیا۔ اٹھارہ اکتوبر دوہزار ایک (برازیل): برازیل کا ایک تیل بردار جہاز ایک سمندری چٹان سے ٹکرا گیا جس کی وجہ سے لگ بھگ ایک لاکھ تین ہزار گیلن تیل ناپتھا ریو کے ساحل پر پھیل گیا۔ سات ستمبر دوہزار ایک (ویت نام): ویت نام کا ایک ٹینکر جس پر انیس ہزار ٹن ڈیزل تھا، لائیبیریا کے ایک ٹینکر سے ٹکرا گیا جس کی وجہ سے کافی تیل سمندر میں بہہ گیا۔ لوگ اپنی ضرورت کے لئے کچھ تیل گھر بھی لے گئے۔ دس اگست دو ہزار ایک (مائیکرونیسیا): دوسری جنگ عظیم کے دوران ایک جہاز یہاں ڈوب گیا تھا جس سے لگ بھگ چارسو گیلن تیل فی گھنٹے نکل کر پانی کی سطح پر آنا شروع ہوگیا۔ تیس مئی دو ہزار ایک (چین): جنوبی کوریا کے ایک جہاز سے انسانوں کے لئے نقصان دہ سات سو ٹن کیمیائی مادہ سمندر میں اس وقت بہہ گیا جب ہانگ کانگ کا ایک ٹینکر اس سے ٹکرا گیا۔ اٹھائیس مئی دو ہزار ایک (ملائشیا): ایک تیل بردار ٹینکر دوسرے ٹینکر پر تیز رفتاری سے چڑھ بیٹھا جس کی وجہ سے لگ بھگ پندرہ سو ٹن ڈیزل اور بیٹومین سمندر میں خارج ہوگیا۔ پچیس مئی دو ہزار ایک (چیلی): ایک تیل بردار جہاز اپنا کنٹرول کھو بیٹھا جس کی وجہ سے ساڑھے تین لاکھ لیٹر سے زائد خام تیل سمندر میں بہہ گیا۔ اس کا اثر ایک سو کلومیٹر کے رقبے میں ہوا۔ پچیس مارچ دو ہزار ایک (ڈینمارک): جرمنی اور ڈینمارک کے مابین سمندر میں دو تیل بردار جہاز ٹکرا گئے جس سے ساڑھے سات لاکھ گیلن سے زائد خام تیل سمندر میں خارج ہوگیا۔ اٹھائیس نومبر دو ہزار (امریکہ): ایک ٹینکر سے لگ بھگ دس لاکھ گیلن خام تیل دریائے میسیسپی میں بہہ گیا جس سے کم سے کم ایک لاکھ سمندری حیات کو نقصان پہنچا۔ بارہ دسمبر انیس سو ننانوے (فرانس): سمندری طوفان کی وجہ سے ایک جہاز کے ٹوٹ جانے پر پندرہ ہزار ٹن تیل سمندر میں بہہ گیا جس میں کیمیائی مادے بھی تھے۔ سات جنوری انیس سو ستانوے (جاپان): ٹوکیو بے میں ایک ساحلی پتھر سے ٹکرانے سے پانچ ہزار دو سو ٹن سمندر میں داخل ہوگیا۔ پندرہ فروری انیس سو چھیانوے (برطانیہ): چالیس ہزار ٹن خام تیل اس وقت سمندر میں بہہ گیا جب مِلفورڈ ہیون کے قریب سمندری چٹان سے ٹکرا گیا۔ پچیس جولائی انیس سو پچانوے (جنوبی افریقہ): آتشزدگی کے بعد ایک ٹینکر سے سات سو تیل سمندر میں خارج ہوگیا۔ سات جنوری انیس چورانوے (پوئیرتو ریکو): ایک تیل بردار جہاز کے ساحل سے ٹکرانے سے ساڑھے سات لاکھ گیلن تیل سمندر میں بہہ گیا۔ چھ مارچ انیس سو چورانوے (تھائی لینڈ): ایک لاکھ گیلن سے زائد ڈیزل اس وقت سمندر میں بہہ گیا جب دو ٹینکر آپس میں ٹکرا گئے۔ چودہ جون انیس سو چورانوے (ہندوستان): ایک تیل بردار جہاز کے ساحل پر ٹکرانے سے حکام نے اس کے سات سو ٹن تیل سمندر میں خارج کردیے۔ گیارہ فروری انیس سو ترانوے (نیدرلینڈ): ایک گزرتے ہوئے جہاز سے تیل بہنے سے کم سے کم تیس ہزار سمندری پرندے مرگئے۔ انیس ستمبر انیس سو بانوے (انڈونیشیا): بحیرۂ ملائکہ میں لائیبیریا کے ایک ٹینکر کے ٹکرانے سے بارہ ہزار ٹن خام تیل سمندر میں بہہ گیا۔ تین دسمبر انیس سو بانوے (اسپین): یونان کا ایک ٹینکر ٹوٹ کر تباہ ہوگیا جس کی وجہ سے اسُی ہزار ٹن خام تیل سمندر میں خارج ہوگیا۔ سات فروری انیس سو نوے (امریکہ): کیلیفورنیا کے ساحل پر ایک تیل بردار جہاز سے تین لاکھ گیلن خام تیل ساحل پر پھیل گیا۔ چوبیس مارچ انیس سو نواسی (امریکہ): الاسکا کے ساحل پر سمندری چٹان سے ٹکرانے سے کم سے کم دولاکھ چالیس ہزار بیرل خام تیل پانی میں بہہ گیا۔ انیس دسمبر انیس سو نواسی (مراکش): آتشزدگی کے بعد ایک ایرانی جہاز سمندر میں چھوڑ دیا گیا تھا جس سے سترہزار ٹن خام تیل سمندر میں خارج ہوگیا۔ چھ اگست انیس سو تراسی (جنوبی افریقہ): ایک ہسپانوی ٹینکر میں آتشزدگی سے اٹھارہ لاکھ بیرل خام تیل سمندر میں بہہ گیا۔ انیس جولائی انیس سو اناسی (ترینیداد اور ٹوباگو): دو جہازوں کے ٹکرانے سے بائیس لاکھ بیرل تیل کا اخراج ہوا۔ سولہ مارچ انیس سو اٹھہتر (فرانس): بریٹن کے ساحل پر دو جہازوں کے ٹکر میں سولہ لاکھ بیرل خام تیل سمندر میں بہہ گیا۔ پچیس فروری انیس سو ستتر (پیسِفِک): لائیبیریا کے ایک جہاز میں آگ لگنے سے کم سے کم سات لاکھ تئیس ہزار بیرل تیل سمندر میں خارج ہوگیا۔ پندرہ دسمبر انیس سو چھہتر (امریکہ): دو ٹینکروں کے ٹکرانے سے کم سے کم ایک لاکھ تراسی ہزار بیرل تیل سمندر میں بہہ گیا۔ انیس دسمبر انیس سو بہتر (عمان): خلیج عمان میں برازیل کے ایک جہاز اور جنوبی کوریا کے ایک ٹینکر کے ٹکرانے سے آٹھ لاکھ چالیس ہزار بیرل خام تیل سمندر میں خارج ہوگیا۔ بیس مارچ انیس سو ستر (سویڈین): دو ٹینکروں کے ٹکرانے سے لگ بھگ چار لاکھ اڑتیس ہزار بیرل تیل سمندر میں بہہ گیا۔ اٹھارہ مارچ انیس سو سڑسٹھ (برطانیہ): اسّی ہزار ٹن تیل اس وقت سمندر میں خارج ہوگیا جب ایک ٹینکر ساحل سے جاٹکرایا۔ |
| ||||||||||||||||||||||||||||||||||
|
|
|
| BBC Languages >> BBC World Service >> BBC Weather >> BBC Sport >> BBC News >> | |
|
|
|