|
| ||||||||||||||||||||||||||||||||||
بالآخر جہاز ٹوٹ گیا
کراچی کی بندرگاہ پر پھنسا ہوا وہ یونانی تیل بردار جہاز جس سے بدھ کو تیل بہنا شروع ہوگیا تھا اب دو ٹکڑوں میں ٹوٹ گیا ہے۔ گزشتہ روز اسی سبب بندرگاہ پر ہنگامی حالت نافذ کر دی گئی تھی۔ تیل کا بہاؤ جمعرات کو بھی جاری رہا۔ جمعرات کو کراچی پورٹ اتھارٹی کے سربراہ وائس ایڈمرل احمد حیات کا کہنا تھا کہ صورتحال آہستہ آہستہ بہتر ہورہی ہے۔ ان کا کہنا تھا ’جہاز میں دراڑیں بدھ کی صبح پڑنا شروع ہوئی تھیں جو رفتہ رفتہ گہری ہوتی چلی گئیں۔‘ حکام نے کہا تھا کہ سمندری حیات کو ماحولیاتی کثافت سے بچانے اور ساحل کے قریب رہنے والوں کی زندگی کو لاحق خطرات ٹالنے کے لئے پیشگی حفاظتی اقدامات کئے جارہے ہیں۔ ایڈمرل حیات کا کہنا تھا کہ کئی غیر ملکی ماہرین ضروری آلات و ساز و سامان کے ہمراہ پہنچ گئے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ یہ ماہرین کوشش کررہے ہیں کہ تیل کے اس بہاؤ کے منفی اثرات سے آبی حیات اور ساحل کے قریب موجود آبادی کو محفوظ رکھ سکیں۔
اگرچہ پاکستانی حکام ساحلی علاقے کو بچانے کی کوشش کرتے رہے لیکن تیل کی خاصی بڑی مقدار پہلے ہی کراچی کے ساحل تک پہنچ چکی تھی جس سے علاقے میں سمندری حیات کو سخت نقصان کا خدشہ ہے۔ بی بی سی کے نامہ نگار ظفر عباس کے مطابق کراچی کے ساحلی علاقوں کو بڑے ماحولیاتی بحران کا سامنا ہے۔ پاکستان شپنگ کارپویشن کے حکام نے جو بدھ تک تردیدی بیان جاری کرتے رہے ہیں بدھ کے روز تسلیم کیا تھا کہ وہ تیل کو بہنے سے روکنے میں ناکام رہے ہیں۔ ان کا کہنا ہے کہ کراچی کے ساحلی علاقے میں ہنگامی حالت کا اعلان کر دیا گیا ہے اور پاک بحریہ کو مکمل چوکس رہنے کا حکم دیا گیا ہے تاکہ ضرورت کے وقت لوگوں کو محفوظ مقامات پر منتقل کرنے اور دیگر امدادی کاموں میں اس کی مدد لی جاسکے۔ عینی شاہدین کا کہنا ہے کہ مردہ مچھلیوں اور کچھوؤں کی بڑی تعداد ساحل پر پڑی ہے جس سے وہاں سانس لینا بھی دوبھر ہو رہا ہے۔ ماحولیاتی امور پر صوبائی حکومت کے مشیر فیصل گبول نے بی بی سی کو بتایا کہ کراچی کے ساحلی علاقوں کو شدید ماحولیاتی بحران کا خدشہ ہے جس سے سمندری حیات کے مکمل خاتمے کے ساتھ ساتھ کلفٹن کے رہائشیوں کو سخت مشکلات کا سامنا کرنا پڑ سکتا ہے۔ |
| ||||||||||||||||||||||||||||||||||
|
|
|
| BBC Languages >> BBC World Service >> BBC Weather >> BBC Sport >> BBC News >> | |
|
|
|