BBCUrdu.com
  •    تکنيکي مدد
 
پاکستان
انڈیا
آس پاس
کھیل
نیٹ سائنس
فن فنکار
ویڈیو، تصاویر
آپ کی آواز
قلم اور کالم
منظرنامہ
ریڈیو
پروگرام
فریکوئنسی
ہمارے پارٹنر
ہندی
فارسی
پشتو
عربی
بنگالی
انگریزی ۔ جنوبی ایشیا
دیگر زبانیں
 
وقتِ اشاعت: Wednesday, 20 August, 2003, 15:51 GMT 19:51 PST
 
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئے پرِنٹ کریں
سمندری حیات خطرے میں
 
یونانی تیل بردار جہاز تاسمین سپرٹ جو تباہ ہو گیا
یونانی تیل بردار جہاز تاسمین سپرٹ جو تباہ ہو گیا

تحریر: شبینہ فراز

کراچی کے ساحل پر پھنس جانے والے بحری جہاز سے بہنے والا تیل ساحل تک پھیل چکا ہے ۔

بحیرہ عرب کے پانیوں پر یہ تیل پھیلتا جا رہا ہے اور فضا میں مردہ مچھلی اور دیگر سمندری حیات کی پھیلی شدید بو کے باعث سانس لینا دشوار ہو گیا ہے۔ ستائیس جولائی کو مون سون کی بارشوں کے باعث سمندر میں پھنس جانے والے یونانی تیل بردار جہاز ’تاسمین سپرٹ‘ کو پاکستان نیشنل شپنگ کارپوریشن نے سڑسٹھ ہزار ٹن خام تیل کراچی لانے کے لئے چارٹر کیا تھا۔

جہاز پر لدا ہوا صرف بیس ہزار ٹن تیل باحفاظت نکالا گیا جبکہ باقی تیل ابھی تک جہاز پر موجود ہے۔

بقائے ماحول کی عالمی انجمن ’آئی یو سی این‘ کے ایک ڈائریکٹر طاہر قریشی کے مطابق اگرچہ اب تک ہونے والا نقصان بھی شدید ہے لیکن جہاز کے دو حصوں میں تقسیم ہو جانے کی صورت میں نقصان کا اندازہ لگانا ناممکن ہوگا۔

اگرچہ دنیا کا اسّی فیصد تیل خلیج سے ہوتا ہوا پاکستان کے خصوصی اقتصادی علاقے سے بحری جہازوں کے ذریعے گزرتا ہے لیکن پاکستان کے گہرے سمندر یا ساحلوں پر کسی بھی حادثے کی صورت میں تیل کی آلودگی سے تحفظ کے لیے کوئی انتظام موجود نہیں ہے۔

اقوام متحدہ کے کنوینشن ’قوانین برائے بحریات انیس سو اسّی‘ کے تحت کسی بھی اتفاقی حادثے کے نتیجے میں پیدا ہونے والی تیل کی آلودگی پر قابو پانے کے لئے تمام تر انتظامات کی تیاری تمام ممالک کے لئے ضروری قرار دی گئی ہے اور پاکستان اس معاہدے پر دستخط کرنے والے ممالک میں شامل ہے۔

طاہر قریشی کا کہنا ہے کہ جو مچھلیاں مدافعت کر سکتی ہیں وہ پلٹ کر گہرے پانی میں چلی جائیں گی اور ان کی یہ ہجرت طویل بھی ثابت ہو سکتی ہے۔ ایسی صورت میں ماہی گیروں کے معاش پر ہونے والے اثرات کا اندازہ لگانا انتہائی دشوار ہوگا۔

ان کا کہنا ہے کہ مون سون کی تیز ہوا بہتے ہوئے تیل کو تیزی سے پھیلائے گی اور اب اس کی آلودگی پر قابو پانا ناممکن ہوگا۔

تیل سے آلودہ ہونے والے علاقے میں سمندری پودے، مچھلیاں، جھینگے اور دوسری اقسام کے علاوہ ساحلی جنگلات بھی شدید خطرات کی زد میں آگئے ہیں جن پر برسات کے بعد پھول آتا ہے۔ اتفاق سے یہی کچھووں کے انڈے دینے کا موسم بھی ہے جن میں سے کئی اقسام ایسی ہیں جن کی بقا کو پہلے ہی خطرہ لاحق ہے۔

ماہرین کا کہنا ہے کہ اس صورت حال کی تمام تر ذمہ داری کراچی پورٹ ٹرسٹ اور میرین پلیوشن کنٹرول کے اداروں کی ہے کیونکہ جہاز کو پھنسے ہوئے سولہ دن ہو چکے تھے اور وہ برسات کی شدید ہواؤں کے باعث مسلسل شکست و ریخت سے دوچار تھا۔

حیرت انگیز بات یہ ہے کہ گو پچھلے سال چودہ اگست کو ’گولڈن گیٹ‘ نامی تیل بردار جہاز کو بھی اسی قسم کا حادثہ پیش آیا تھا لیکن پھر بھی یہ ادارے نہ صرف کسی کی احتیاطی تدابیر کرنے میں ناکام رہے بلکہ اس جہاز کو نقصان سے بچانے کے لئے حفاظتی اقدامات میں بھی تاخیر سے کام لیا گیا۔

 
 
تازہ ترین خبریں
 
 
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئے پرِنٹ کریں
 
 

واپس اوپر
Copyright BBC
نیٹ سائنس کھیل آس پاس انڈیاپاکستان صفحہِ اول
 
منظرنامہ قلم اور کالم آپ کی آواز ویڈیو، تصاویر
 
BBC Languages >> | BBC World Service >> | BBC Weather >> | BBC Sport >> | BBC News >>  
پرائیویسی ہمارے بارے میں ہمیں لکھیئے تکنیکی مدد