 |
|
 |
|
| چھوٹی سی دنیا |

پلک جھپکتے میں آپ کا پیغام کہیں بھی پہنچ سکتا ہے
|
جریدہ سائنس میں شائع ہونے والی تحقیق کے مطابق ای میل یا برقیاتی ڈاک کے ذریعہ ایک تجربہ کیا گیا ہے جس سے اس نظریہ کے درست ہونے کے مزید شواہد سامنے آئے ہیں کہ دنیا میں تمام لوگ واسطوں کے ایک مختصر سلسلے سے باہم منسلک ہیں۔
یہ تجربہ نیویارک کی کولمبیا یونیورسٹی کے سائنسدانوں نے کیا ہے۔
اس تجربہ میں مطلوبہ افراد تک پیغام پہنچانے کے لئے ای میل استعمال کی گئی۔ تاہم یہ پیغام انہیں براہ راست نہیں بھیجا گیا بلکہ تجربہ میں شامل رضاکاروں سے کہا گیا کہ وہ یہ پیغام ایسے دوستوں یا عزیزوں کو ارسال کریں جو ان کے خیال میں مطلوبہ افراد (مکتوب علیہ) تک جلد رسائی میں معاون ہو سکتے ہیں۔
اکسٹھ ہزار ایک سو اڑسٹھ افراد سے کہا گیا کہ وہ ایک مخصوص پیغام تیرہ ملکوں میں بسنے والے اٹھارہ افراد تک بالواسطہ پہنچانے کی کوشش کریں۔ اس عمل میں پیغام رسانی کے چوبیس ہزار ایک سو تریسٹھ سلسلے قائم ہوئے جس میں سے تین سو چوراسی بالآخر مکتوب علیہ پر ختم ہوئے۔
تجربہ کے نتائج سے یہ بات سامنے آئی کہ ایک پیغام کو پانچ سے سات مرتبہ آگے (فارورڈ) بھیجنے سے پیغام مطلوبہ شخص تک پہنچ گیا۔
انسانی زنجیر کی کڑیوں کے باہم مربوط ہونے کا نظریہ ساٹھ کی دہائی میں پیش کیا گیا تھا۔ اس وقت ایسا ہی ایک تجربہ امریکہ میں کیا گیا تھا جس میں ملک کے ایک حصہ سے دستی خطوط ملک کے دوسرے حصہ میں ایک شخص کے نام بدست ارسال کئے گئے تھے۔
اس تجربہ نے ثابت کیا تھا کہ کوئی انجان شخص بھی چھ حوالوں کے بعد شناسا نکل آتا ہے۔ گویا شناسائی کا ایک سلسلہ ہے جس میں تمام انسان ایک دوسرے سے جڑے ہوئے ہیں۔
اب کئی ایسی ویب سائٹس انٹرنیٹ پر دستیاب ہیں جو پرانے دوستوں کو ملانے اور نئے دوست بنانے میں معاونت فراہم کرتی ہیں۔ |
|
 |