BBCUrdu.com
  •    تکنيکي مدد
 
پاکستان
انڈیا
آس پاس
کھیل
نیٹ سائنس
فن فنکار
ویڈیو، تصاویر
آپ کی آواز
قلم اور کالم
منظرنامہ
ریڈیو
پروگرام
فریکوئنسی
ہمارے پارٹنر
ہندی
فارسی
پشتو
عربی
بنگالی
انگریزی ۔ جنوبی ایشیا
دیگر زبانیں
 
وقتِ اشاعت: Saturday, 09 August, 2003, 11:41 GMT 15:41 PST
 
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئے پرِنٹ کریں
پاکستان میں خواتین کرکٹ کا جھگڑا؟
 
پاکستان میں خواتین کرکٹ جھگڑوں کا شکار
پاکستان میں خواتین کرکٹ جھگڑوں کا شکار

تحریر: منا رانا، لاہور

صبا رشید پاکستان کرکٹ بورڈ کی طرف سے لگاۓ گۓ کیمپ میں سخت محنت کر رہی تھیں۔ وہ پاکستان کی وومین کرکٹ ٹیم کا حصہ بن کر ہالینڈ میں اپنے ملک کی نمائندگی کرنا چاہتی تھیں۔ مگر ٹیم کی خواتین کے باہمی جھگڑوں نے ان کی امیدوں پر پانی پھیر دیا۔

یہ کشمکش اس وقت سے جاری ہے جب سن انیس سو اٹھہتر میں ہاکی کھیلنے والی خواتین نے کرکٹ کھیلنے کا فیصلہ کیا اور پاکستان وومین کرکٹ ایسوسی ایشن وجود میں آئی۔ اس کی بانی بیگم طاہرہ حمید تھیں تاہم ان کی شخصیت تنازع کا باعث بن گئیں۔

آخر کار سن انیس سو ستانویں میں پاکستان وومین کرکٹ ایسوسی ایشن دو گرہوں میں تقسیم ہو گئ۔ ایک طاہرہ حمید گروپ کے نام سے اور ان کی ساتھی تھیں تنزیلہ عامر۔ دوسرا شیریں جاوید گروپ جس میں نیلم شاہ اور عذرا پروین شامل تھیں۔

ادھر کراچی میں بھی پاکستان وومین کرکٹ کنٹرول ایسوسی ایشن کے نام سے ایک اور انجمن شائزہ خان کی سربراہی میں وجود میں آئی۔ اس نے خواتین کرکٹ کے میدان میں قدم رکھتے ہی انٹرنیشنل وومین کرکٹ کونسل سے الحاق کر لیا۔ ٹیم تشکیل دی اور بین الاقوامی میچز کھیلنا شروع کر دیئے۔

انیس سو ستانویں میں بھارت کے شہر کلکتہ میں خواتین کا عالمی کرکٹ کپ منعقد ہوا۔ اس میں بھی کراچی والی ایسوسی ایشن کی ٹیم نے شرکت کی۔ لیکن وہاں ایک عجیب صورتحال پیدا ہو گئ جب شیریں جاوید گروپ کی کچھ خواتین بھی وہاں پہنچ گیئں اور دعوٰی کیا کہ وہی پاکستان میں خواتین کرکٹ کی نمائندہ ایسوسی ایشن ہے۔

یہی وہ وقت تھا جب خواتین کرکٹ کی یہ لڑائی کھل کر سامنے آئی اور پاکستانی اخبارات میں اسے خوب اچھالاگیا۔

تمام گروپوں کی جانب سے بیانات اور جوابی بیانات کا لامتناہی سلسلہ شروع ہو گیا۔

اس لڑائی میں پی سی بی بھی فریق بن گئی ہے

آخر کار انیس سو اٹھانویں کو پاکستان کرکٹ بورڈ کی اس وقت کی انتظامیہ نے میجر جرنل ریٹائرڈ صفدر علی خان کو یہ کام سونپا کہ وہ یہ طے کریں کہ ان میں سے کون سی ایسوسی ایشن یا گروپ اصلی ہے۔

اس کمیٹی نے شیریں جاوید گروپ کے حق میں فیصلہ دیا جسے پی سی بی نے قبول نہ کیا۔

مبصرین کا خیال ہے کہ اس جھگڑے کے پیچھے کچھ سیاسی عوامل بھی کار فرما تھے۔ کیونکہ شیریں جاوید پیپلز پارٹی کے ایک رہنما احمد مختار کی بھابی ہیں۔ جبکہ دوسرے گروپ کی تنزیلہ عامر مسلم لیگی رہنما چوہدری شجاعت حسین کی بھتیجی ہیں اور پی سی بی پر دونوں جانب سے دباؤ تھا۔

اب کی بار شیریں جاوید گروپ نے عدالت کا دروازہ کھٹکھٹایا۔ بیس جون سن دوہزاردو کو عدالت نے فیصلہ دیا کہ پی سی بی اس جھگڑے کو نمٹاۓ۔ اس کے لۓ پی سی بی نے جاوید زمان کی سربراہی میں ایک سکروٹنی کمیٹی تشکیل دی جس نے لاھور کے دونوں گروپوں کی تو صلح کرا دی مگر کراچی والیوں کو راضی نہ کر سکی۔ اس کمیٹی کی رپورٹ تو شائع نہیں کی گی مگر سکروٹنی کمیٹی کی سفارشات کے تحت پی سی بی نے وومین کرکٹ کے معاملات سنبھالنے کا اعلان کر دیا اور کہا کہ وہ ایک سال کے لۓصوبائی ایسوسی ایشن نامزد کرے گی۔

تاہم گزشتہ دنوں ہالینڈ میں ہونے والے وومین ورلڈ کپ کے کوالیفائنگ راؤنڈ میں شرکت کے لۓ پی سی بی اور شائزہ خان گروپ نے اپنی اپنی ٹیمیں بنائیں۔ پی سی بی کے چئرمین لفٹیننٹ جنرل توقیر ضیاءاور چیف ایگزیکٹو رمیض راجہ نے انٹرنیشنل وومین کرکٹ کونسل سے بات چیت کۓ بغیر ہی بارہا یہ دعوے کۓ کہ وہی ٹیم ہالینڈ جاۓ گی جسے پی سی بی تیار کر رہی ہے۔

مگر جب انٹرنیشنل وومین کرکٹ کونسل کی صدر سے ان کا مؤقف معلوم کیا تو انہوں نے کہا کہ صرف اور صرف شائزہ خان والی ایسوسی ایشن کی ٹیم کو ہی ہالینڈ میں کھیلنے کی دعوت دی گئ ہے۔اور یہی بات انہوں نے پی سی بی کو بھی کہہ دی۔

یہ صورتحال پی سی بی کے لۓ کافی شرمندگی کا باعث بنی۔ یہ شرمندگی مٹانے کے لیے پی سی بی کے حکام نے انٹرنیشنل وومین کرکٹ کونسل کو لکھا کہ کوئی بھی ایسی ٹیم جو پی سی بی کی اجازت کے بغیر اس ٹورنامنٹ میں شرکت کرے گی نہ تو وہ پاکستان کا نام استعمال کر سکتی ہے اور نہ ہی اسے پاکستان کی نمائندہ ٹیم سمجھا جاۓ۔

مگر اس سے شائزہ خان گروپ کو کوئی فرق نہیں پڑا اس کی ٹیم ہالینڈ گئ وہاں میچز کھیلے کچھ جیتے کچھ ہارے اور پاکستان کی ٹیم کے طور پر وہاں پہچانی بھی گئ۔

شائزہ خان نے پی سی بی کو سخت تنقید کا نشانہ بنایا اور الزام لگایا کہ پی سی بی نے وومین کرکٹ کو اپنے تحت اس لیے لیا ہے تاکہ انٹرنیشنل کرکٹ کونسل کے وومین کرکٹ کی ترقی کے لیے دیۓ جانے والے فنڈز حاصل کر سکیں ۔شائزہ خان کا الزام ایک طرف مگر یہ درست ہے کہ اپنے ممبر ممالک کو ناصرف وومین کرکٹ کی ترقی کے لۓ بلکہ بصارت اور سماعت سے محروم کرکٹرز کی ترقی کے لۓ فنڈز دینا اس کے ایجنڈے میں شامل ہے۔

 
 
تازہ ترین خبریں
 
 
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئے پرِنٹ کریں
 
 

واپس اوپر
Copyright BBC
نیٹ سائنس کھیل آس پاس انڈیاپاکستان صفحہِ اول
 
منظرنامہ قلم اور کالم آپ کی آواز ویڈیو، تصاویر
 
BBC Languages >> | BBC World Service >> | BBC Weather >> | BBC Sport >> | BBC News >>  
پرائیویسی ہمارے بارے میں ہمیں لکھیئے تکنیکی مدد