 |
|
 |
|
| رقص کی اجازت |

لندن: پاکستانی ہائی کمِشن کے ایک پروگرام کا منظر
|
رپورٹ: عدنان عادل، بی بی سی اردو ڈاٹ کام، لاہور
لاہور ہائی کورٹ نے لاہور کی شہری انتظامیہ کی طرف سے ڈرامہ تھیٹروں میں رقص کرنے پر لگائی گئی پابندی کو عارضی طور پر معطل کردیا ہے۔ عدالت نے یہ فیصلہ منگل کو سنایا۔
گزشتہ ہفتے لاہور کی شہری انتظامیہ کے ضلعی رابطہ افسر (ڈی سی او) خالد سلطان نے لاہور کے تھیٹروں میں غیر معینہ مدت کے لیے رقص کرنے پر پابندی عائد کردی تھی اور شہری حکومت نے دو رقاصاؤں پر فحش رقص کرنے کے الزام میں فوجداری مقدمہ درج کرایا تھا۔
لاہور تھیٹر کے ڈرامہ پروڈیوسر چودھری ارشد نے لاہور ہائی  پاکستانی پاپ گروپ ’جنون‘ | کورٹ میں ایک رٹ درخواست میں کہا تھا کہ شہری انتظامیہ نے تھیٹر ڈرامہ میں رقص پر پابندی اٹھارہ سو تہتر کے ڈرامیٹک پرفارمنس ایکٹ کے تحت لگائی ہے جس کا جواز نہیں تھا۔
درخواست گزار کے وکیل ندیم کوثر نے عدالت سے استدعا کی کہ ملک کے آئین کے آرٹیکل اٹھارہ کے تحت ایسے تمام کاروبار کرنے کی اجازت ہے جس پر قانون پابندی نہ لگائے اور رقص کو غیر قانونی قرار نہیں دیا گیا۔
درخواست گزار نے یہ بھی کہا تھا کہ فلموں میں رقص کی اجازت ہے اور الحمرا میں رقص سکھانے کی تربیت ہوتی ہے اس لیے ڈرامہ تھیٹروں میں رقص پر پابندی عائد کرنا دوہرامعیار ہے۔
ہائی کورٹ نے پنجاب حکومت اور شہر کی انتظامیہ کو پچیس ستمبر کو جواب دینے کے کے لیے نوٹس جاری کیے ہیں۔
اس سے پہلے سنہ دو ہزار دو میں پنجاب آرٹ کونسل نے تھیٹروں میں رقص پر پابندی عائد کی تھی جسے ناز تھیٹر نے لاہور ہائی کورٹ میں چیلنج کیا تھا اور عدالت عالیہ نے اسے ختم کردیا تھا۔
اس کے بعد اس سال کے شروع میں پنجاب کے محکمۂ داخلہ نے تھیٹروں میں رقص پر پابندی لگائی تھی جسے رقاصہ دیدار نے ہائی کورٹ میں چلنج کیا تھا اور عدالت نے اسے بھی ختم کردیا تھا۔
اس بار شہری حکومت کی طرف سے ڈی سی او نے رقص پر پابندی عائد کی اور الزام لگایا کہ تھیٹروں میں فحش رقص پیش کیے جارہے تھے۔ لاہور میں تمام نجی تھیٹر ایک روز کے لیے بند بھی کردیے گۓ تھے۔ |
|
 |