BBCi Home PageBBC World NewsBBC SportBBC World ServiceBBC WeatherBBC A-Z
 
 
 
 
 
 
 
 
 
 
 
 
 
 
 
 
 
 
South Asia News
BBCHindi.com
BBCPersian.com
BBCPashto.com
BBCArabic.com
BBCBengali.com
Learning English
 
 
  ہماری کھیلوں کی سائٹ
 
 
  احمد قریع، ہمہ جہت شخصیت
 
 
  کین کن میں کرنا کیا ہے؟
 
 
  شیرون کا دورۂ ہند
 
 
  ’غیرت‘ کے سات سو شکار
 
 
  قبائلی علاقوں کے بھوت اسکول
 
 
  مشرق وسطی میں طاقت کا نیا محور
 
 
  گیارہ ستمبر
آخری باتیں
 

جنگ عراق کا سچ جھوٹ
 

کراچی ساحل: زہریلی لہریں
 

موسیقی، فلم، ٹی وی ڈرامہ
 

دنیا ایک کلِک دور
 
 
 
:تازہ خبریں
 
میں غدار نہیں: مشرف
’القاعدہ اب بھی سرگرم ہے‘
اسامہ کی نئی وڈیو ٹیپ
’دراندازی بند کرائیں گے‘
سویڈش وزیر چل بسیں
جنس معلوم کرنےپرپابندی
بیمہ کمپنیاں القاعدہ پر مقدمہ کریں گی
یونان: پاکستانی ڈوب گئے
’نقشِہ راہ پر قائم ہیں‘
کراچی ساحل: پابندی برقرار
سامان میں انسان
بلوچستان: وزیر کے بھائی گرفتار
تعلقات مضبوط کرنےکی ضرورت: شیرون
لڑکا، امریکی فوجی ہلاک
بالی دھماکہ: موت کی سزا
گرینچ 17:22 - 28/07/2003
بلو کے گھر سے صغری ہسپتال تک


تحریر: عدنان عادل، بی بی سی اردو ڈاٹ کام

’اساں تے جانڑا بلو دے گھار‘ جیسا مقبول گانا گا کر عوامی شہرت حاصل کرنے والے گلوکار ابرارالحق نارووال قصبہ میں دو سال سے ایک رفاحی ہسپتال بنا رہے ہیں۔ اس ہسپتال کے شعبہ برائے بیرونی مریض کا افتتاح پیر اٹھائیس جولائی کو کیا گیا۔

ابرار الحق کا کہنا ہے کہ ایک سو بیس بستروں کے اس ہسپتال میں غریب لوگوں کا مفت علاج کیا جاۓ گا اور ہسپتال میں داخل مریضوں کو مفت کھانا دیا جاۓ گا۔ ان کا کہنا ہے کہ اس ہسپتال کا بڑا مقصد دور دراز کے علاقوں میں رہنےوالے لوگوں کو طبی سہولتیں مہیا کرنا ہے۔

ابرارالحق نے ’سہارا فار لائف‘ کے نام سے ایک ادارہ کی بنیاد رکھی ہے جس کے تحت ابرار کی والدہ کے نام پر بننے والے صغریٰ شفیع میڈیکل کمپلکس کے اس سال دسبر تک مکمل ہوجانے کی امید ہے جسے ابرارالحق کے مطابق لاہور کے کارڈیالوجی انسٹیٹیوٹ (ادارۂ امراض قلب) اور سروسز ہسپتال کا تعاون بھی حاصل ہوگا۔

ابرار الحق کا کہنا ہے کہ اس ہسپتال کی تعمیر ان کا خواب رہا جو اب شرمندہ تعبیر ہورہا ہے۔ ان کی پرانی خواہش تھی کہ وہ بنی نوع انسان کی بھلائی کے لیے کام کریں۔

ان کے نزدیک انسانی بھلائی کے کام گلوکاری سے زیادہ اہمیت رکھتے ہیں۔ ان کا کہنا ہے کہ وہ ایک ایسا مضبوط ٹرسٹ بنانا چاہتے ہیں جو خود ان کے بعد بھی چلتا رہے۔

سہارا ٹرسٹ کا نام انگریزی الفاظ کے ان ابتدائی حروف سے ملا کر بنایا گیا ہے جن کے مطابق یہ ٹرسٹ صحت کی خدمات اور دور دراز کے علاقوں میں شعور پھیلانے کے لیے کام کرے گا۔

ہسپتال کے بیرونی مریضوں کے شعبہ میں ہنگامی مرکز کے علاوہ امراض دل، اطفال، امراض جلد، امراض نسواں ، نفسیاتی امراض اور آنکھوں کے امراض کے شعبے شامل ہیں جہاں عام ڈاکٹرں کے علاوہ ملک کے کئی ماہر ڈاکٹر ہفتے میں ایک روز کے لیے مریضوں کو فیس کے بغیر مشورہ دیں گے۔

ابرارالحق نے انیس سو اٹھانوے میں اعلان کیا تھا کہ وہ یہ ہسپتال بنائیں گے اور انہوں نے ملک سے باہر اور ملک کے اندر اس کی تعمیر کے لیے عطیات جمع کیے۔ ان کا کہنا ہے کہ ان کی موسیقی سے وابستگی نے ان کے اس رفاعی کام میں بہت مدد دی۔

ابرارالحق کے مقبول عام گانے جن میں پنجاب کے فوک گانوں کو مغربی پاپ موسیقی سے ملایا گیا ہے اب تک ان کی شہرت کی بڑی وجہ رہے ہیں لیکن اب ہسپتال کے افتتاح کے بعد وہ کرکٹ کے ہیرو عمران خان کی طرح فلاحی کاموں کے حوالے سے بھی جانے جائیں گے۔

ابرارالحق اور شہزاد راۓ دو ایسے مقبول عوام گلوکار ہیں جنہوں نے اپنی شہرت اور نیک نامی کو رفاحی کاموں کے لیے استعمال کیا ہے۔ شہزاد راۓ کراچی میں غریب گھرانوں کے مزدور بچوں کو تعلیم دلانے میں ان کی مالی امداد کرتے ہیں۔
 
 

 urdu@bbc.co.uk
 
 
 
 < عالمی خبریں 43 زبانوں میںواپس اوپر ^^ BBC Copyright