|
| ||||||||||||||||||||||||||||||||||
کیا کیا کب کب ’فحش‘؟
لاہور کی انتظامیہ نے منگل کے روز شہر میں پانچ ڈرامہ تھیٹروں کو فحاشی پھیلانے کے الزام میں بند کرنے کے بعد آج اس شرط پر کھول دیا ہے کہ اس میں رقص شامل نہیں کئے جائیں گے۔ اس سال یہ دوسری مرتبہ ہوا ہے کہ لاہور کی انتظامیہ شہر کے مقبول تھئیٹر میں جاری ’بیہودگی‘ پر اخلاقی طور پر مشتعل ہوئی اور اسے غیر سرکاری تھئیٹر ہال بند کرنے پڑے۔ پاکستان میں کمرشل تھئیٹر میں ’فحاشی‘ اور ’بیہودگی‘ کی روایت خاصی پرانی ہے لیکن حیرت انگیز بات یہ ہے کہ فحاشی کے نام پر تھئیٹر پر پابندی موجودہ حکومت نے لگائی ہے جس کے صدر پرویز مشرف ایک جدید روشن خیال ریاست قائم کرنے کے خواب قوم اور دنیا بھر کو دکھاتے نہیں تھکے جبکہ پاکستان میں اسلامی نظام کی داعی کسی بھی حکومت نے کبھی ان وجوہات کی بنا پر تھئیٹر بند نہیں کئے بلکہ عموماً ایسی حکومتوں کے دوران کمرشل تھئیٹر کو خاصا فروغ حاصل ہوا۔ اس کی ایک مثال جنرل ضیاءالحق کی اسلامی حکومت کے دوران کمرشل تھئیٹر اور پنجابی فلموں کی ہے۔ جہاں اس دوران میڈم نورجہاں نے اپنی فنکارانہ زندگی کے ’گرم‘ ترین گانے گائے اور ’خانزادہ‘ اور ’دلہن ایک رات‘ جیسی ریکارڈ توڑ ہفتے منانے والی فلمیں تخلیق کی گئیں وہیں کمرشل تھئیٹر نے دوہرے معنوں والی جگتیں مارنے اور ’حسینوں کے جلوے‘ دکھانے میں عروج کو چھوا۔ اس طرح کے اسلامی دور ہمیشہ سنسر بورڈ اور فلموں اور تھئیٹر کے فنکاروں کے درمیان آنکھ مچولی کے دور رہے ہیں جب مقبول عام فن کاروں کی ساری تخلیقی توجہ قوانین کو تکلیف پہنچائے بغیر اس کا بازو مروڑنے پر مرکوز رہی۔ اس کا ایک دلچسپ واقعہ بہت مشہور ہوا۔ جنرل ضیاء الحق نے سنسر بورڈ کے جو نئے قوانین مروج کئے ان کے مطابق فلم، ڈرامے یا سٹیج پر لڑکی لڑکے کا ہاتھ نہیں تھام سکتی تھی کجا کہ گلے لگانا یا کچھ اور۔ اب پیش کاروں کو یہ اچھی طرح پتہ ہوتا ہے کہ اگر ٹکٹ خریدنے والوں کے پیسے پورے نہ ہوئے تو ڈرامہ بیٹھ جائے گا اور ان کے پیسے بھی پورے نہ ہو پائیں گے لہٰذا الحمرا میں ہونے والے ڈراموں میں کچھ نئے تخلیقی عناصر متعارف کرائے گئے۔ ان میں سے ایک یہ تھا کہ ہیرو سٹیج کے اگلے حصے پر جہاں تمام دیکھنے والوں کی نظر پڑ سکتی ہو اور جہاں دو چار سٹیج لائٹوں کی روشنی خاص طور پر مرکوز ہوتی تھی ایک رومال گرا دیتا تھا۔ ہیروئن جس نے بڑے گلے والی قمیض پہن رکھی ہوتی تھی جھک کر اس رومال کو جیسے ہی اٹھاتی ہال تالیوں اور سیٹیوں سے گونجنے لگتا۔ اب جیسا کہ تھئیٹر کی روایت ہے کہ جب تک تالیاں بج رہی ہوں اداکار جس حالت میں ہوں ساکت ہو جاتے ہیں۔ بعض اوقات یہ تالیاں بیسیوں منٹ گونجتیں اور ہیروئن بیسیوں منٹ اسی حالت میں ساکت رہتی۔ یہاں تک کہ ہیروئنوں کی مقبولیت کا اصل راز ان کی قمیضوں کے گلے کا شگاف اور ان کی گھنٹوں ساکت رہ سکنے کی صلاحیت بن گئی۔ لیکن سوال یہ ہے کہ خود کو آزاد خیال کہنے والی موجودہ حکومت کو اس طرح کی پابندیوں کی ضرورت کیوں پڑتی ہے؟ کراچی میں سنجیدہ تھئیٹر کے ڈائریکٹر خالد احمد کا کہنا ہے کہ ’پاکستان میں ہمیشہ آزاد خیال حکومتیں ہی اس طرح کی پابندیاں لگاتی ہیں اور ان کا مقصد سوائے مولویوں کو خوش کرنے کے اور کچھ نہیں ہوتا‘۔ پچھلے سال لگائی جانے والی پابندی کے بعد لاہور کی انتظامیہ نے سنجیدہ تھئیٹر کرنے والوں کے ساتھ ایک میٹنگ کی اور ان سے درخواست کی کہ وہ زیادہ بہتر اور سنجیدہ موضوعات پر ’اچھے‘ ڈرامے بنائیں۔ کچھ عرصے تک رفیع پیر اور اجوکا تھئیٹر نے کچھ عوامی ڈرامے کئے بھی جنہیں مقبول بنانے کی غرض سے مفت تک دکھایا گیا۔ پھر کلاسیکی موسیقی، رقص اور کالجوں کے درمیان ڈراموں کے مقابلے منعقد کئے گئے لیکن یہ بیل منڈھے نہ چڑھ سکی۔ مسئلہ یہ ہے کہ جب تک اس تھئیٹر کے دیکھنے والے موجود ہیں یہ تھئیٹر بھی موجود رہے گا۔ دنیا میں جہاں تھئیٹر کی باقاعدہ ایک روایت موجود ہے وہاں بھی یہ تھئیٹر مقبول ہے اور اس کے ناشائستہ ہونے کی صدائیں اکثر بلند ہوتی رہتی ہیں۔ فرق اتنا ہے کہ ان ممالک میں اس کے علاوہ بھی کئی طرح کا تھئیٹر مقبول ہے جس کی وجہ سے لوگوں کو یہ اتنا نہیں چبھتا جتنا پاکستان میں جہاں اس کے علاوہ تھئیٹر کی کوئی اور شکل دکھائی ہی نہیں دیتی۔ خالد احمد کا کہنا ہے کہ حکومت نہیں چاہتی کہ معیاری تھئیٹر پھل پھول سکے۔ اس طرح کے ڈراموں کے لئے جہاں پہلے تین سرکاری دفاتر سے اجازت لینا پڑتی تھی اب ناظم اور ضلعی ناظم کے دفاتر کو ملا کر ان کی تعداد پانچ تک جا پہنچی ہے۔ خالد احمد کے مطابق کراچی کے ضلعی ناظم نعمت اللہ خان نے جو جماعت اسلامی سے تعلق رکھتے ہیں کھلے عام کہا ہے کہ ہم ثقافتی سرگرمیوں کو پسند ہی نہیں کرتے۔ دوسرا سوال یہ ہے کہ یہ کون طے کرے گا کہ فحاشی ہے کیا؟ تعزیرات پاکستان کے تحت فحاشی کی کوئی واضح تعریف نہیں تاہم قانون کی کتابوں میں درج تشریح کے مطابق اس کا مطلب ہے اخلاق بگاڑنے والی چیز۔ پچھلے سال جب فحاشی کا الزام عائد کرکے تھئیٹروں پر چھاپے مارے گئے اور درجنوں سٹیج اداکاراؤں کو گرفتار کیا گیا تو اس موقعہ پر بی بی سی کے ایک نمائندے سے بات چیت کرتے ہوئے پنجاب پولیس کے ایک افسر نے اعتراف کیا تھا کہ قانون میں ایسا کوئی پیمانہ نہیں جو فحاشی کی وضاحت کرے اور فحاشی کیا ہے اس کا فیصلہ پہلے تھانیدار کرتا ہے اور مقدمہ درج کرتا ہے اور بعد میں عدالت دیکھتی ہے کہ الزام درست ہے یا نہیں۔ لاہور میں سماجی موضوعات پر ڈرامے بنانے والے محمد وسیم کا کہنا ہے کہ ’یہ فیصلہ کیسے کیا جائے کہ کیا فحش ہے اور کیا نہیں۔ یوں تو پھر مولویوں کی بات بھی ماننی پڑے گی جو شیکسپیئر اور انگریزی ادب تک کو فحش قرار دے چکے ہیں‘۔ تاہم فحاشی کے معنوں پر یہ بحث اپنی جگہ اور اس طرح کے نیند میں چلنے والے قوانین کو جگا کر ان سے فائدہ اٹھانے والی انسانیت اپنی جگہ۔ منگل کو اس پابندی کے بعد ایک تھئیٹر ہال کے اہلکار نے سرکاری الزامات کو جھوٹ کا پلندہ قرار دیتے ہوئے کہا تھا کہ مختلف محکموں کے اہلکار ہر تھئیٹر ہال سے اپنی راتوں کی رنگینی کا سامان مانگتے ہیں جس کے نہ ملنے پر یہ پابندی لگائی گئی۔ تو پھر اب اس پابندی کے اٹھنے کا کیا مقصد ہے، صرف رقص کا مقام بدلنا؟ |
| ||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||