BBCi Home PageBBC World NewsBBC SportBBC World ServiceBBC WeatherBBC A-Z
 
 
 
 
 
 
 
 
 
 
 
 
 
 
 
 
 
 
South Asia News
BBCHindi.com
BBCPersian.com
BBCPashto.com
BBCArabic.com
BBCBengali.com
Learning English
 
 
  ہماری کھیلوں کی سائٹ
 
 
  احمد قریع، ہمہ جہت شخصیت
 
 
  کین کن میں کرنا کیا ہے؟
 
 
  شیرون کا دورۂ ہند
 
 
  ’غیرت‘ کے سات سو شکار
 
 
  قبائلی علاقوں کے بھوت اسکول
 
 
  مشرق وسطی میں طاقت کا نیا محور
 
 
  گیارہ ستمبر
آخری باتیں
 

جنگ عراق کا سچ جھوٹ
 

کراچی ساحل: زہریلی لہریں
 

موسیقی، فلم، ٹی وی ڈرامہ
 

دنیا ایک کلِک دور
 
 
 
:تازہ خبریں
 
میں غدار نہیں: مشرف
’القاعدہ اب بھی سرگرم ہے‘
اسامہ کی نئی وڈیو ٹیپ
’دراندازی بند کرائیں گے‘
سویڈش وزیر چل بسیں
جنس معلوم کرنےپرپابندی
بیمہ کمپنیاں القاعدہ پر مقدمہ کریں گی
یونان: پاکستانی ڈوب گئے
’نقشِہ راہ پر قائم ہیں‘
کراچی ساحل: پابندی برقرار
سامان میں انسان
بلوچستان: وزیر کے بھائی گرفتار
تعلقات مضبوط کرنےکی ضرورت: شیرون
لڑکا، امریکی فوجی ہلاک
بالی دھماکہ: موت کی سزا
گرینچ 09:52 - 23/07/2003
ڈاکٹر کیلی:نام کس نے لیا؟
وزیر دفاع پر کیلی کا نام ظاہر کرنے کا الزام
وزیر دفاع پر کیلی کا نام ظاہر کرنے کا الزام

برطانیہ میں ڈاکٹر ڈیوڈ کیلی کی موت کے بارے میں اس بات پر بحث ہو رہی ہے کہ ان کا نام منظر عام پر کیسے آیا۔

منگل کے روز شائع ہونے والے کئی برطانوی اخبارات نے ملک کے وزیر دفاع جیف ہون پر الزام لگایا ہے کہ انہوں ڈیوڈ کیلی کا نام اس طور پر ظاہر کرنے کی اجازت دی تھی کہ وہی بی بی سی کی اس خبر کا ذریعہ تھے جس میں میں حکومت پر عراق سے لاحق خطرات کو بڑھا چڑھا کر بیان کرنے کا الزام لگایا تھا۔

اخبار فنانشل ٹائمز کے مطابق جیف ہون نے اس بات کی منظوری دی تھی کہ اگر صحافی ڈیوڈ کیلی کے نام کا اشارہ دیا جاتا ہے تو اس کی تصدیق کر دی جائے۔

ڈاکٹر کیلی نے گزشتہ جمعرات کو ذرائع ابلاغ اور اپنے محکمہ کی طرف سے بی بی سی اور حکومت کے درمیان جھگڑے میں اپنے کردار کے حوالے سے پیدا ہونے والی صورتحال کی وجہ سے بظاہر خود کشی کر لی تھی۔

فنانشل ٹائمز کے مطابق وزیر اعظم کے دفتر سے بھی وزارت دفاع کی پالیسی کے بارے میں مشورہ کیا گیا تھا۔

روزنامہ دی انڈیپینڈنٹ کا کہنا ہے وزارت دفاع ڈاکٹر کیلی کا نام ظاہر کرنے کے خلاف تھی لیکن وزیر اعظم کے دفتر نے اس پالیسی کو مسترد کر دیا۔

ٹیلیگراف کے مطابق پہلی بار وزیر اعظم کے دفتر میں صحافیوں کو ایک بریفنگ کے دوران اتنے اشارے مل گئے تھے کہ وہ ڈاکٹر کیلی کا نام بوجھ سکتے۔

ٹیلی گراف کے مطابق بی بی سی نے خود بھی اپنی خبر کے ذرائع کے بارے میں ضرورت سے زیادہ تفصیل بیان کر دی تھی۔

وزارت خارجہ کے ایک ترجمان کے مطابق وہ فنانشل ٹائمز کی خبر پر تبصرہ کر کے ڈاکٹر کیلی کی موت کے عوامل کے بارے میں شروع ہونے والی عدالتی تحقیق پر اثر انداز نہیں ہونا چاہتے۔

دریں اثنا دی ٹائمز میں کہا گیا ہے کہ پہلی بار بی بی سی کے بورڈ آف گورنرز میں حکومت کے ساتھ تنازعہ کے بارے میں اختلافات نظر آئے ہیں۔ اخبار کے مطابق بی بی سی کے ایک گورنر نے ہنگامی اجلاس کا مطالبہ کیا ہے تاکہ یہ دیکھا جا سکے کہ کیا عراق کے بارے میں نشر ہونے والی رپورٹ کے حق میں بیان دینے سے قبل بورڈ کے پاس پورے حقائق تھے یا نہیں۔

بی بی سی نے اختلافات کے بارے میں رائے کو زیادہ اہمیت نہیں دی۔ اس کا کہنا ہےکہ بورڈ آف گورنرز کے تمام ارکان نے اس کی طرف سے جاری ہونے والے بیان سے اتفاق کیا تھا، ان کو ہر پیش رفت سے آگاہ رکھا جا رہا ہے اور کوئی اجلاس نہیں بلایا جا رہا۔

اس سے قبل پیر کو ڈاکٹر کیلی کی موت کے بارے میں شروع ہونے والی تحقیقات کے دائرہ کار کے کے بارے میں تشویش کا اظہار کیا گیا تھا۔ تحقیقات کرنے والے جج لارڈ ہٹن نے کہا تھا کا وہ اس بات کا تعین خود کریں گے کے تحقیقات کن نکات کے بارے میں ہوگی اور اس کے لئے تفتیش کیسے ہوگی۔

لیکن وزیر اعظم کے دفتر کا کہناہے کہ جج کو تحقیقات وزیر اعظم کی طرف سے طے کئے گئے نکات کے مطابق کرنی چاہیں۔

برطانوی پارلیمان میں حزب اختلاف کے ارکان نے کہا ہے کہ تحقیقاتی ٹریبیونل کے پاس گواہ طلب کرنے، حلف کے تحت شہادت قلمبند کرنے اور توہین عدالت کے اختیارات نہیں ہونے چاہیں۔

گارڈین میں شائع ہونے والے ایک سروے کے مطابق حالیہ دنوں میں پیش آنے والے واقعات سے حکومت کی برطانیہ ساکھ متاثر ہوئی ہے۔
 
 

 urdu@bbc.co.uk
 
 
 
 < عالمی خبریں 43 زبانوں میںواپس اوپر ^^ BBC Copyright